بریکنگ نیوز

مذہب

فکر وخیالات

مدیر کی قلم سے

Poll

Should the visiting hours be shifted from the existing 10:00 am - 11:00 am to 3:00 pm - 4:00 pm on all working days?

SUBSCRIBE LATEST NEWS VIA EMAIL

Enter your email address to subscribe and receive notifications of latest News by email.

’’ محنت اور نتائج کے عزم‘‘ نے ختم کی ’’ طواف کی روایت‘‘

وزیر اعظم ، مسٹر نریندر مودی نے اقتدار کے گلیارے سے " طواف کی روایت " کو ختم کرکے " محنت اور نتائج" کی توثیق کی۔ اقتدار اور سیاست کے گلیارے میں ، دہائیوں سے چکّر لگانے کو ہی " شان" سمجھنے والے "محنت اور نتائج" کی کام کرنے کی تہذیب کی بنا پر حاشیہ پر چلے گئے ہیں ۔ اسی "بہتر نتیجے کے حصول کے منتر "نے اقتدار کے گلیا رے سے اقتدار کے دلالوں کو " چھو منتر " کیا ۔

وطن سماچار ڈیسک
فائل فوٹو

’’ محنت اور نتائج کے عزم‘‘ نے ختم کی ’’ طواف کی روایت‘‘

مختار عباس نقوی (مرکزی وزیر بھارت سرکار)
وزیر اعظم ، مسٹر نریندر مودی نے اقتدار کے گلیارے سے " طواف کی روایت " کو ختم کرکے " محنت اور نتائج" کی توثیق کی۔
اقتدار اور سیاست کے گلیارے میں ، دہائیوں سے چکّر لگانے کو ہی " شان" سمجھنے والے "محنت اور نتائج" کی  کام کرنے کی تہذیب کی بنا پر حاشیہ پر چلے گئے ہیں ۔  اسی "بہتر نتیجے کے حصول کے منتر "نے اقتدار کے گلیا رے سے اقتدار کے دلالوں کو " چھو منتر " کیا ۔   
  2014 سے قبل ، ائیر پورٹ پر وزیر اعظم کو چھوڑنے جانا اور لینے جانا ،  کابینہ کے ممبروں کا"دکھاوا " مانا جا تا تھا ۔  دہائیوں سے جاری یہ سامنتی نظام ختم ہوا:  سرخ بتّی ، سرکاری رعب دکھانے کا غیر ضروری حصّہ بن چکی تھی ،  جاگیر دارانہ نظام والی سرخ بتّی تاریخ کا  حصّہ بن گئی۔  اراکین پارلیمنٹ کو  دی جانے والی سبسیڈی ان کو"پیدائشی حق"لگتا تھا ، جس کا خاتمہ ایک جھٹکے میں ہوا۔  وزیر ،  رکن پارلیمنٹ نہ ہونے کے باوجود ، کچھ لوگوں کو سرکاری بنگلوں پر قبضہ برقرار رکھنا اُن کا اپنا "آئینی حق" لگتا تھا ،  اسے ختم کردیا ۔  وزارتوں کی جانب سے مارچ سے پہلے بجٹ کو اُول ۔جلُول طریقے سے اربوں روپئے  خرچ کرنے کے نظام کو ختم کرنا حکومت کی اوّلین ترجیح تھی ، جس کی وجہ سے مناسب طریقے سے خرچ کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی جا تی تھی ،  یہ ضمنی ، دقیانوسی نظام ختم ہوا۔  وزیر اعظم ، وزراء ،  عہدیداروں کے ایک دن کے بیرونی دورے کے کام کے لئے دس دن  سیر سپاٹے اور لاکھوں خرچ کرنے کے نظام کو، خود وزیر اعظم کے اپنے دوروں پر ، صرف کام کی سفری حد کو متعیّن کر کے  پوری حکومت کی سوچ میں بڑ ے پیمانے پرتبدیلیاں ہوئیں ۔
  حکومتیں بدلتی تھیں ، وزیر بدلتے تھے مگر برسوں سے وزرا کے نجی عملے وہی رہتے تھے، جس کا نتیجہ یہ ہوتا تھ کہ اقتدار کے گلیاروں میں گھومنے والے دلال اور بچولئے  اُس نجی عملے کے ذریعہ سرکار پر اپنی پکڑ جاری رکھتے تھے ۔  دس برسوں سے جمے نجی عملے کو منترالیہ میں رکھنے پر رو ک لگا کر  وزیرِ اعظم جناب نر یند ر مودی نے  پیشہ وَر بچولیوں کے پَر کتر دئے ۔
  اس سے قبل ، وزیر اعظم، سکریٹری اور اس کے نیچے کے عہدیداروں سے بھی بات چیت نہیں کر تے تھے یا رابطہ نہیں رکھتے تھے،  زمینی رپورٹ کی  ذاتی طور پر معلومات نہیں  رکھتے تھے ،  جسے وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے تبدیل کرکے وزیروں کے ساتھ ساتھ سینئیر عہدیداروں کے ساتھ بھی "بات چیت اور فیڈ بیک کے کلچر" کو متعارف کروایا ۔ جس کی بناء پر  بیوروکریسی کی جواب دہی اور ذمہ داری میں اضافہ ہوا ہے ،  پدم ایوارڈ جیسے ممتاز اور باعزت  ایوارڈ ، جو پہلے صرف سیاسی سفارشات کے ذریعے دیئے جاتے تھے ، آج ان لوگوں کو یہ پُر وقار ایوارڈ دیا جارہا ہے جو واقعتا اُس کے مستحق ہیں۔
یہ تمام باتیں ہو سکتا ہے معمو لی ہوں ،  لیکن "طاقت کے طواف" کے بجائے  " محنت اور نتائج"  کے لئے کام کے کلچر کو پیدا کرنے کی سمت میں سنگ میل ثابت ہوئی ہیں۔
کورونا کے پیچیدہ دور میں وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی حساسیت ، سرگرمی اور ملک کو اس بحران سے نجات دلانے میں مرکزی کردار نے ملک کے عوام کا اعتماد بڑھایا۔  ایک طرف کوروناکا قہر ،  دوسری طرف سرحدوں کی حفاظت ،  تیسری طرف زلزلے ،  طوفان،  سیلاب جیسی قدرتی آفات کے چیلنج ،  اسی درمیان ٹڈیوں کے ذریعہ فصلوں کی بربادی اور "  پھسڈّیوں " کی بکواس بہادری بھی چلتی رہی۔
بھارت جیسے عظیم اور  وسیع ملک کے لئے یہ بڑے بحران کا دور رہا ، لیکن ملک کے لوگ اِس پریشانی سے کم سے کم متاثر ہوں ،  اِس کا بھرپور انتظام اور کوشش مودی جی کی ـ’’ محنت۔ کار کردگی اور مثبت نتائج‘‘ کے حصول کے لئے لگن سے کام کرنے کا سلیقہ ایک زندہ ثبوت ہے۔
اس بحران کے دوران بھی ، لوگوں کے مثبت عزم اور مودی حکومت کے تئیں پختہ اعتقاد کا نتیجہ رہا کہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ،  صحت کے شعبے میں بھارت خود کفالت کے زینے پر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔   N-95 ماسک ، پی پی ای کِٹ ،  وینٹیلیٹر اور صحت سے متعلق دیگر اشیاء کی پروڈکشن میں بھارت خود کفیل بھی بنا  اور  دوسرے ممالک کی بھی مدد کی۔
آج کو رو نا کے مرض کے خاتمے کے لئے صرف کو رو نا اسپتالوں کی تعداد 1054 ہوگئی ہے۔  کورونا وبا کے آغاز کے وقت ، ہمارے ملک میں صرف ایک ہی ٹیسٹنگ لیب موجود تھی ،  آج کُل 1400   لیبا ریٹریز کا نیٹ ورک موجود ہے۔  جب کورونا کے چیلنجز آئے تو  ملک میں ایک دن میں صرف 300 ٹیسٹ ہو پاتے تھے ، آج ہر روز 11 لاکھ سے زیادہ ٹیسٹ ہو رہے ہیں۔  جو دنیا کے کسی بھی ملک کے لئے مشعلِ راہ ہے۔
  ہر ہندوستانی کو ہیلتھ آئی ۔ڈی دینے کے لئے ’’نیشنل ڈیجیٹل ہیلتھ مشن‘‘  شروع کیا گیا ہے۔  دنیا کے سب سے بڑے ہیلتھ پلان "مودی کیئر" نے لوگوں کی صحت کی ضمانت دی ۔  ہیلتھ کئیر شعبے میں مودی سرکار کی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ اتنی بڑی آبادی والے ملک میں کورونا بحران کے بڑے اثر کو کم کیا جا سکا ۔
کورونا کے چیلنجوں کے دوران ،  لوگوں کی صحت اور تندرستی کے لئے  81کروڑ سے زیادہ لوگوں کو مفت راشن فراہم کیا جارہا ہے، جو کسی بھی جمہوری ملک کا انوکھا واقعہ ہوگا۔  41 کروڑ ضرورت مندوں کے بینک کھاتوں میں  90 ہزارکروڑ سے زائد رقم براہ راست منتقل کردی گئی۔  8 کروڑ کنبوں کو مفت گیس سلنڈر ، 1لاکھ 70 ہزار کروڑ کا غریب فلاحی پیکیج ، 20 کروڑ خواتین کے جن دھن اکاؤنٹ میں 1500 روپے ، کسان سمّان ندھی کے تحت کسانوں کو  19 ہزار کروڑ دئیے جانے جیسے موثر اقدامات کئے گئے ،  جس کی وجہ سے لوگ اس  بحران کے دوران ، یقین کی ڈور سے جُڑے رہے۔
"وَن نیشن وَن راشن کارڈ" نافذ کیا گیا ہے ، جس سے 67 کروڑ ضرورت مندوں کو فائدہ پہنچنا شروع ہوگیا ہے۔  منریگا کے لئے مزید 40 ہزار کروڑ روپے جاری کئے گئے ہیں ،  کاشتکاروں کو ملک میں کہیں بھی اپنی پیداوار فروخت کرنے کی آزادی دی گئی ہے ، 60 لاکھ سے زیادہ تارکین وطن مسافروں کو لیبر اسپیشل ٹرین  کے ذریعہ ان کی آبائی ریاستوں تک پہنچایا گیا ۔  اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریلیف فنڈ سے مسافر مزدوروں کی مدد کے لئے ریاستوں کو 11 ہزار کروڑ روپئے دیئے گئے۔ 
بھارت کی تعلیم کے شعبے میں انقلابی تبدیلی برپا کرنے والی ایک "نئی تعلیمی پالیسی"  لائی گئی ہے جو بھارت کو دنیا کا "تعلیمی مرکز" بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔  "جن دھن یوجنا" کے تحت 40 کروڑ سے زیادہ افراد کو معاشی مرکزی دھارے میں شامل کیا گیا ۔
اسی کورونا دور میں ، تین درجن سے زائد بڑے معاشی ، معاشرتی ، تعلیمی ، انتظامی ، تجارتی ، مزدور ، دفاع ، کوئلہ ، شہری ہوا بازی ، توانائی ، تقسیم ،  خلاء،  
جنگلات کی زمین،  زراعت ،  مواصلات ،  بینک کاری ،  سرمایہ کاری اور ڈیری سے لے کر پھڑ پھیری والوں تک کی بہتری کے لئے بڑی اور اہم اصلاحات کی گئیں ، جس کی وجہ سے ملک کی معیشت تباہی کے باوجود مواقع سے بھرپور  رہی۔
قومی بھرتی ایجنسی (این آر اے) کے قیام کا مرکزی کابینہ کا فیصلہ لاکھوں نوجوانوں کو روزگار کے لئے چکّر لگانے اور پریشانی سے نجات دلانے میں مدد
 کرنے والا ایک "پرعزم" اقدام ہے۔  این آر اے انفرادی امتحانات کی بجائے مشترکہ اہلیت کے امتحانات منعقد کرے گی اور بھرتی کے عمل میں شفافیت لائے گی۔  نوجوانوں کو فی الحال نوکریوں کے لئے کئی مختلف امتحانات دینے پڑتے ہیں۔  اس طرح کے امتحانات کے لئے اس وقت تقریباً  20 بھرتی کرنے والی ایجنسیاں ہیں اور امیدواروں کو امتحان دینے کے لئے دوسری جگہوں پر بھی جانا پڑتا ہے۔  اس ضمن میں مسائل کو دور کرنے کا دیرینہ مطالبہ  کافی وقت سے کیا جا رہا تھا۔  اس کے پیش نظر ، کابینہ نے مشترکہ اہلیت کے امتحانات لینے کے لئے "قومی بھرتی ایجنسی" کو تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
  "مشن کر م یو گی" - نیشنل سِوِ ل سروسز کے ڈویلپمنٹ پروگرام (این پی سی ایس سی بی)  سِوِل خدمات کو بہتر بنانے کی سمت  مودی حکومت کا  ایک تاریخی اقدام ہے۔  اس مشن کے ذریعہ ،  سِوِل سروس نہ صرف ہندوستانی ثقافت اور جامع اصلاحات سے بھر پور ہوگی بلکہ جس سے دنیا بھر کے بہترین طریقوں کو سیکھتے ہوئے  ایک مضبوط انتظامی ڈھانچہ بھی تشکیل  ہوگا ۔  "مشن کرم یوگی" کا مقصد ہندوستانی سرکاری ملازمین کو مزید تخلیقی سوچ ،  جدید ،  زیادہ فعال ،  پیشہ ور ،  ترقی پسند ،  طاقت ور ،  شفاف اور ٹکنالوجی کے قابل بنا کر مستقبل کے لئے تیار کرنا ہے۔  مخصوص ملازمت کی مہارت رکھنے والے سرکاری ملازم اعلیٰ ترین،  معیاری موثر خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے قابل ہوںگے۔
’’سبھی کو گھر ‘‘ مشن کے تحت  پردھان منتری آواس یوجنا ،  گر امین کا آغاز 1 اپریل 2016 کو کیا گیا تھا۔  اب تک 1 کروڑ 14 لاکھ ضرورت مند افراد کو دیہی علاقوں میں پکے مکانات مہیا کرا دئیے گئے ہیں۔  1.75 ملین خاندانوں کو حال ہی میں گھر دیاگیا ۔  مارچ 2022 تک تقریباً  3 کروڑ ضرورت مندوں کو پکے مکانات مہیّا کرائے جائیںگے ۔
وزیر اعظم مسٹر مودی کی سربراہی میں ، ایسے بہت سے کام انجام پائے جن سے پوری دنیا میں بھارت کی ساکھ بڑھی۔  یوگا کو  پوری دنیا میں پہچان ملی۔  بھارت خلائی سپر پاور بن گیا۔  اقوام متحدہ ، سعودی عرب ، فلسطین ، روس ، متحدہ عرب امارات جیسے ممالک نے مسٹر مودی کو اپنے اعلیٰ مُلکی اعزاز سے نوازا۔  سرجیکل اور فضائی حملے؛   وَن رینک وَن پنشن لاگو کیا ؛  نوٹ بندی ،  جی ایس ٹی؛  ہر گاؤں کو بجلی ملی ،  ریکارڈ  500 1سے زیادہ غیر ضروری قوانین ختم کئے گئے۔  دنیا کا سب سے بڑا صحت کا  منصوبہ "آیوشمان بھارت" عمل میں آیا۔  ریکارڈ بڑی تعداد میں غریبوں کو مفت گیس کنکشن دیئے۔  تین طلاق ختم ہوا؛  مسلم خواتین کو بغیر کسی محرم ( مرد رشتہ دار) کے حج کے سفر پر جانے کی اجازت کی سہولت ملی ۔  حج سبسیڈی بند ہوئی ؛  دفعہ 370 کوہٹا یاگیا۔  سینکڑوں سال پرانا رام مندرکا مسئلہ حل ہوگیا اور رام جنم بھومی پر عظیم الشان رام مندر کی تعمیر شروع ہوئی۔
ملک کے بیشتر دیہاتوں اور قصبوں کوکھلے عام بیت الخلاء سے نجات ملی ۔  ملک کے تمام دیہاتوں کو بجلی فراہم کی گئی ہے۔  یہ سب " طواف کی روایت " کے خاتمے اور " محنت  و  بہتر نتائج کے عزم" کا ہی نتیجہ ہے۔  کور ونا بحران کے دوران معاشی بدحالی کا چیلنج دنیا کو درپیش رہا،  بڑے ۔ بڑے ترقی یافتہ ممالک کی معیشت ہچکو لے کھانے لگی یا تباہ ہو گئی ،  دنیا کی جو اُبھرتی ہوئی معیشت ہے ،  بھارت پراس کے منفی اثرات کا پڑنا فطری ہے ،  لیکن اس دوران بھی "بھارت کے ،  زراعت میں سربراہ  ملک کی قدر کو کمزور نہیں ہونے دیا "،  زراعت اور کاشتکاروں کو مستقل حوصلہ افزائی اور کسانوں کی خود اعتمادی اور حکومت کی مدد کا نتیجہ رہا کہ زراعت کے شعبے کو معاشی مندی زیادہ متاثر نہیں کرسکی،  صرف یہی نہیں بلکہ اس بحران کے وقت میں بھی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بھی تقریبا  22 ارب ڈالر کی رہی۔  ملک کا معاشی تانا ۔بانا آج بھی درست سمت اور صحیح ہاتھوں میں ہے، آنے والے وقتوں میں ، بھارت کی معیشت ایک بار پھر مضبوطی کی راہ پر گامزن ہوگی۔

 

مضمون نگار بھارت سرکار میں مرکزی وزیر ہیں ۔ یہ ان کی ذاتی رائے ہے۔

You May Also Like

Notify me when new comments are added.