کمیشن کے غیر جانبدارانہ کردار کو قانونی تحفظ فراہم کیا جانا ضروری: مولانا ارشدمدنی

کمیشن کے غیر جانبدارانہ کردار کو قانونی تحفظ فراہم کیا جانا ضروری: مولانا ارشدمدنی کمیشن کے ممبران کی تقرری میں جانبداری کا الزام، سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا

وطن سماچار ڈیسک

اقلیتی تعلیمی اداروں سے متعلق قومی کمیشن میں صحیح نمائندگی کے لئے جمعیۃعلماء ہند کی پٹیشن داخل
کمیشن کے ممبران کی تقرری میں جانبداری کا الزام، سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا
کمیشن کے غیر جانبدارانہ کردار کو قانونی تحفظ فراہم کیا جانا ضروری: مولانا ارشدمدنی  

 

 


نئی دہلی 7 جنوری 2021   قومی کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی ادارے کے تحفظ اور اس میں اقلیتوں کی صحیح نمائندگی کے لیئے جمعیۃعلماء ہندنے سپریم کورٹ آف انڈیا میں آئین ہندکے آرٹیکل 32 کے تحت جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امدادکمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی توسط سے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ وجیہہ شفیق کے ذریعہ سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن داخل کی تھی۔ جس پر آج سپریم کورٹ آف انڈیا کی تین رکنی (جسٹس ناگیشور راؤ، جسٹس نوین سنہا اور جسٹس اندو ملہوترا)بینچ کے روبرو سماعت عمل میں آئی اور معزز عدالت نے پٹیشن کو سماعت کے لئے قبول کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے  اس پرجواب طلب کیاہے۔واضح ہوکہ سال 2004 میں نیشنل کمیشن فار مائناریٹی ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشن ایکٹ بنا یا گیا تھا جس کی دفعہ 3 کے تحت نیشنل کمیشن فار مائناریٹی ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشن کا قیام عمل میں آیا ہے۔ اس کمیشن میں ایک چیئر پرسن اور تین ممبر ہوتے ہیں، کمیشن کا چیئر پرسن ریٹائرڈ جسٹس ہائی کورٹ ہوتا ہے جبکہ ممبران  کے لئے اعلی تعلیم یافتہ اور اپنے سماج میں بااثر و معزز ہونا چاہئے۔ کمیشن کو سول کورٹ کے اختیارات دیئے گئے ہیں، کمیشن کی جانب سے کیئے گئے فیصلوں کے خلاف ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کی جاسکتی ہے۔جمعیۃعلماء ہند کی طرف سے داخل پٹیشن میں کہاگیا ہے کہ کمیشن کا قیام اقلیتی تعلیمی اداروں کے تحفظ کے لئے پارلیمنٹ میں قانون بنا کر کیا گیا تھا۔

 

 

 

 یہ کوئی حکومتی ادارہ نہیں ہے، بلکہ یہ ہندوستانی عدالتی نظام کا ایک حصہ ہے۔کمیشن کے ممبران اور چیئر مین کی تقرری پہلے بھی حکومت کے ذریعہ ہوتی تھی، لیکن اب اس میں شفافیت نہیں برتی جارہی ہے بلکہ ایک طرح سے امتیازی رویہ اختیارکیا جارہا ہے اس کے پیش نظرجمعیۃعلماء ہند نے اپنی پٹیشن مین مطالبہ کیا ہے کہ کمیشن کے سربراہ اور ممبران کی تقرری کے لئے سپریم کورٹ اپنی نگرانی میں ایک کمیٹی تشکیل دے تاکہ کمیشن میں شفافیت کو برقراررکھاجاسکے۔

 

 

 

 پٹیشن میں مزیدکہاگیاہے کہ موجودہ پٹیشن داخل کرنے کا مقصد یہ ہیکہ کمیشن کے دو ممبران کی میعاد دسمبر 2020 کے پہلے ہفتہ میں ختم ہوگئی ہے جن کی میعاد میں مزید پانچ سال کی توسیع  یا انہیں دوبارہ منتخب کیئے جانے کی حکومت ہند کی جانب سے کوشش کی جارہی ہے۔ جن دو ممبران کو دوبارہ منتخب کیئے جانے کی کوشش کی جارہی ان میں ڈاکٹر بلجیت سنگھ مان اور ڈاکٹر ناہید عابدی ہیں جبکہ تیسرے ممبر ڈاکٹر جسپال سنگھ کی میعاد 2023 میں ختم ہوگی۔کمیشن کے موجودہ چیئرمین جسٹس نریندر کمار جین کی میعادبھی 2023 میں ختم ہوگی۔پٹیشن میں مزید کہاگیا ہیکہ چیئر پرسن اور ممبران کا انتخاب من مانے طریقے سے کیا گیا، کمیشن کے قانون کے مطابق ان کا انتخاب عمل میں نہیں آیا تھا۔ تین ممبران میں سے دو سکھ ہیں اوردیگر اقلیتوں  اور خاص طورپر مسلم کو نظرانداز کردیا گیاہے جبکہ آبادی کے لحاظ سے مسلمان ملک کی سب سے بڑی اقلیت ہیں اس لئے کمیشن میں ان کی نمائندگی سب سے زیادہ ہونی چاہئے۔پٹیشن میں یہ بھی کہاگیا ہے کہ کمیشن کے قانون کے مطابق کمیشن کے ممبران کو قانون کی معلومات ہونا ضروری ہے جبکہ موجودہ تینوں ممبران میں سے کسی بھی ممبر کا تعلق قانون کے شعبہ سے نہیں ہے جبکہ حکومت نے انہیں دوسرے قابل لوگوں پر ترجیح دیتے ہوئے اپنی مرضی سے منتخب کرلیاہے جس کے خلاف پٹیشن داخل کی جارہی ہے تاکہ اگلی میعاد کے لیئے ممبران کا تقرر ان کی قابلیت اور کمیشن کی ضرورت کے مطابق ہو تاکہ کمیشن کے ذریعہ اقلیتوں کو زیادہ سے زیادہ  فوائد حاصل ہوسکیں۔
جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے اس پر اپنے ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ حالیہ کچھ برسوں کے دوران متعدد خودمختارحکومتی اداروں کو بے وقعت اور ناکارہ بنانے کی کوششیں ہوئی ہیں

 

 

 

 ان میں قلیتی تعلیمی اداروں سے متعلق قومی کمیشن بھی شامل ہے، جس کی تشکیل 2004میں باقاعدہ طورپر ایک ایکٹ کے ذریعہ ہوئی تھی اس طرح کے ایک خودمختارقومی کمیشن کے قیام کا مقصداقلیتی تعلیمی اداروں کو چلانے میں آنے والی قانونی رکاوٹوں اور دوسری طرح کی دشواریوں کو دورکرنا تھا، انہوں نے کہاکہ اپنے قیام کے ابتدائی کئی سالوں کے دوران اس کمیشن کی کارکردگی بہت شانداررہی کئی اہم اقلیتی تعلیمی اداروں کے تعلق سے کمیشن نے غیر معمولی نوعیت کے فیصلے بھی کئے  جن میں جامعہ کے اقلیتی کردارکی بحالی کا اہم فیصلہ بھی تھا مگر اب یہ کمیشن بھی دوسرے حکومتی اداروں کی طرح نہ صرف ایک دکھاوے کا ادارہ بن کررہ گیا ہے بلکہ اس کے ممبران کے تقرری میں بھی بڑی حدتک جانبداری برتی جارہی ہے اور اصول وضوابط کا بھی لحاظ نہیں رکھا جارہا ہے، مولانا مدنی نے کہا کہ یہ کمیشن اقلیتی تعلیمی اداروں سے متعلق ہے اور چونکہ مسلمان ملک کی سب سے بڑی اقلیت ہے اور دوسری اقلیتوں کی آبادی کا تناسب مسلم آبادی کے مقابلہ بہت کم ہے اس لئے اصولی طورپر اس کمیشن کے قیام کے بعد سے کسی ریٹائرڈمسلم جج کو ہی کمیشن کا سربراہ بنایاجاتارہا لیکن مرکزمیں اقتدارکی تبدیلی کے بعد انتخاب کایہ اصولی پیمانہ یکسرتبدیل کردیا گیا اوریہ کہ ممبران کی تقرری میں بھی جانبداری سے کام لیاجانے لگاانہوں نے کہا کہ کمیشن کے سربراہ اور ممبران کا انتخاب پہلے بھی مرکزی حکومت کے ذریعہ ہوتاتھا مگر اب واقعہ یہ ہے کہ حکومت اپنی پسند کے لوگوں کی تقرری یا ان کی مدت کارمیں توسیع کررہی ہے ایسے میں یہ امید کس طرح کی جاسکتی ہے کہ اقلیتی تعلیمی اداروں کے تعلق سے کسی معاملہ میں کارروائی کرتے اور فیصلہ سناتے وقت کمیشن غیرجانبداری کا مظاہرہ کرے گا،

 

 

 

 

جمعیۃعلماء ہند نے اپنی پٹیشن میں یہ بھی کہا ہے کہ کمیشن کے ممبران کے انتخاب کے لئے سپریم کورٹ اپنی نگرانی میں ایک کمیٹی تشکیل دے تاکہ ممبروں کے انتخاب میں کسی طرح کی جانبداری کا امکان نہ پیداس ہو، مولانا مدنی نے یہ بھی کہا کہ چونکہ مسلمان آبادی کے لحاظ سے ملک کی سب سے بڑی اقلیت ہے اس لئے کمیشن میں مسلم ممبران کی تعداد ایک سے زیادہ ہونی چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسی بات کو محسوس کرتے ہوئے اور کمیشن کے غیر جانبدارانہ کردارکو تحفظ فراہم کرانے کے لئے جمعیۃعلماء ہند نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے مولانا مدنی نے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ جمعیۃعلماء ہند کی پٹیشن سپریم کورٹ نے سماعت کے لئے منظورکرلی ہے اور اس پر مرکزی حکومت سے جواب بھی طلب کیا ہے امید کی جانی چاہئے کہ معاملہ کی اہمیت کے پیش نظرعدالت جلد ہی اس پر کوئی مناسب فیصلہ بھی صادرکرے گی۔

 

You May Also Like

Notify me when new comments are added.