مذہب

فکر وخیالات

مدیر کی قلم سے

Poll

Should the visiting hours be shifted from the existing 10:00 am - 11:00 am to 3:00 pm - 4:00 pm on all working days?

SUBSCRIBE LATEST NEWS VIA EMAIL

Enter your email address to subscribe and receive notifications of latest News by email.

لکشدیپ: کہیں پر نگاہیں کہیں پر نشانہ

اترپردیش کے انتخاب کی تاریخ جوں جوں قریب آرہی ہے فرقہ وارانہ سیاست اور مسلم دشمن سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اس وقت پورے ملک میں خاص طور پر جہاں جہاں بھی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکمراں ہے وہاں حکمراں طبقے کے غیر معلنہ اشارے پر فرقہ پرستوں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔اترپردیش کے ضلع بارہ بنکی تحصیل رام سنیہی گھاٹ کے احاطے میں واقع قدیم مسجد کو انتظامیہ نے شہید کردیا. اس کے بعد مظفرنگر کے کھتولی میں مسجد جمیل کو شہید کردیا۔ اسی طرح اترپردیش کے ضلع اناؤ میں فیصل کو پولیس نے بوٹ سے کچل کر مار ڈالا۔مسلمانوں کے عطیہ کردہ زمین بنے گورکھ ناتھ مندر کے قریب سو سال سے زائد سے بسنے والے مسلمانوں کو مکان خالی کرانے کا نوٹس۔ اسی طرح ہریانہ کے میوات علاقے میں آصف خاں کو ہجوم نے لنچنگ کرکے قتل کردیا۔ یہ ایک سلسلہ ہے جو گزشتہ سات برسوں سے جاری ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ کورونا بحران اور وبا کے دوران جب لاش اٹھانے والا کوئی نہیں ہے، بیٹا باپ کی لاش کو اٹھانے کو تیار نہیں ہے، رشتہ دار لاش کو پھینک کر بھاگ رہے ہیں، آکسیجن کی کمی کی وجہ سے لاکھوں لوگ موت کے منہ میں چلے، مسلمانوں نے ہر جگہ ہندو بھائیوں کی ارتھی کو کاندھا دیا ہندو رویتی رواج کے مطابق ان کی آخری رسومات ادا کیں۔ اس کے باوجود ہندو فرقہ پرست افسران کا مسلم دشمن رویہ یہ ثابت کرتا ہے کہ مسلمان کچھ بھی کرلے لیکن ان کی مسلم دشمن ختم نہیں ہوگی۔ مسلم دشمنی کی صورت حال اس قدر بھیانک ہے کہ گزشتہ سات برسوں میں بی جے پی کے پاس مسلم دشمنی کو شمار کرانے کے علاوہ کوئی اہم کام نہیں ہے۔ تین، طلاق، دفعہ 370کا خاتمہ، قومی شہریت ترمیمی قانون ہی اس کی حصولیابی ہے اور اس میں لکشدیپ جڑنے جارہا ہے۔ لکشدیپ پرامن جزیرہ ہے جہاں جرائم کی صفر ہے۔ لکشدیپ ایک خوبصور ت سرزمین ہے جہاں 99%فیصد سے زیادہ مسلمان آباد ہیں اور اس وقت بی جے پی لکشدیپ میں زہریلے بیج بو رہی ہے۔یہ ساری تیاری ہندوؤں کو خوش کرنے کی جارہی ہے تاکہ مسلم دشمنی کے سہارے اترپردیش میں آنے والے انتخابات میں کامیابی حاصل کی جاسکے۔ لکشدیپ میں بی جے پی کا ایڈمنسٹریٹر ہر ان ذرائع کو سدباب کرناچاہتا ہے جن کاتعلق مسلمانوں سے ہے۔ وہاں مسلمان ناریل کی کھیتی، ماہی پروری، مویشی پروری اور مویشی کی خریدو فروخت سے وابستہ ہیں۔ ان تمام پر اس نے پابندی لگادی ہے یہ ایسے قوانین بنادئے ہیں جن سے مسلمانوں پر ان کارووبار میں برقرار رہنا مشکل ہوجائے۔ خاص طور پر دو قوانین جن کا تعلق وہاں کی زمین سے ہے اور دوسرا غنڈہ ایکٹ سے ہے۔ دونوں کا مقصد جہاں مسلمانوں میں خوف و ہراس پیدا کرنا، ان کو جیل میں بند کرنام ان کی آواز کو دبانا، اور ان کی کھیتی کی زمین کو ہتھیانا ہے وہیں کارپوریٹ کے لئے راستہ ہموار کرنا ہے تاکہ وہ اس جزیرے کو ’نرک‘بناسکے۔

گیسٹ کالم

لکشدیپ: کہیں پر نگاہیں کہیں پر نشانہ
عابد انور

اترپردیش کے انتخاب کی تاریخ جوں جوں قریب آرہی ہے فرقہ وارانہ سیاست اور مسلم دشمن سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اس وقت پورے ملک میں خاص طور پر جہاں جہاں بھی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکمراں ہے وہاں حکمراں طبقے کے غیر معلنہ اشارے پر فرقہ پرستوں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔اترپردیش کے ضلع بارہ بنکی تحصیل رام سنیہی گھاٹ کے احاطے میں واقع قدیم مسجد کو انتظامیہ نے شہید کردیا. اس کے بعد مظفرنگر کے کھتولی میں مسجد جمیل کو شہید کردیا۔ اسی طرح اترپردیش کے ضلع اناؤ میں فیصل کو پولیس نے بوٹ سے کچل کر مار ڈالا۔مسلمانوں کے عطیہ کردہ زمین بنے گورکھ ناتھ مندر کے قریب  سو سال سے زائد سے بسنے والے مسلمانوں کو مکان خالی کرانے کا نوٹس۔ اسی طرح ہریانہ کے میوات علاقے میں آصف خاں کو ہجوم نے لنچنگ کرکے قتل کردیا۔ یہ ایک سلسلہ ہے جو گزشتہ سات برسوں سے جاری ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ کورونا بحران اور وبا کے دوران جب لاش اٹھانے والا کوئی نہیں ہے، بیٹا باپ کی لاش کو اٹھانے کو تیار نہیں ہے،  رشتہ دار لاش کو پھینک کر بھاگ رہے ہیں، آکسیجن کی کمی کی وجہ سے لاکھوں لوگ موت کے منہ میں چلے، مسلمانوں نے ہر جگہ ہندو بھائیوں کی ارتھی کو کاندھا دیا ہندو رویتی رواج کے مطابق ان کی آخری رسومات ادا کیں۔ اس کے باوجود ہندو فرقہ پرست افسران کا مسلم دشمن رویہ یہ ثابت کرتا ہے کہ مسلمان کچھ بھی کرلے لیکن ان کی مسلم دشمن ختم نہیں ہوگی۔ مسلم دشمنی کی صورت حال اس قدر بھیانک ہے کہ گزشتہ سات برسوں میں بی جے پی کے پاس مسلم دشمنی کو شمار کرانے کے علاوہ کوئی اہم کام نہیں ہے۔ تین، طلاق، دفعہ 370کا خاتمہ، قومی شہریت ترمیمی قانون ہی اس کی حصولیابی ہے اور اس میں لکشدیپ جڑنے جارہا ہے۔ لکشدیپ پرامن جزیرہ ہے جہاں جرائم کی صفر ہے۔ لکشدیپ ایک خوبصور ت سرزمین ہے جہاں 99%فیصد سے زیادہ مسلمان آباد ہیں اور اس وقت بی جے پی لکشدیپ میں زہریلے بیج بو رہی ہے۔یہ ساری تیاری ہندوؤں کو خوش کرنے کی جارہی ہے تاکہ مسلم دشمنی کے سہارے اترپردیش میں آنے والے انتخابات میں کامیابی حاصل کی جاسکے۔ لکشدیپ میں بی جے پی کا ایڈمنسٹریٹر ہر ان ذرائع کو سدباب کرناچاہتا ہے جن کاتعلق مسلمانوں سے ہے۔ وہاں مسلمان ناریل کی کھیتی، ماہی پروری، مویشی پروری اور مویشی کی خریدو فروخت سے وابستہ ہیں۔ ان تمام پر اس نے پابندی لگادی ہے یہ ایسے قوانین بنادئے ہیں جن سے مسلمانوں پر ان کارووبار میں برقرار رہنا مشکل ہوجائے۔ خاص طور پر دو قوانین جن کا تعلق وہاں کی زمین سے ہے اور دوسرا غنڈہ ایکٹ سے ہے۔ دونوں کا مقصد جہاں مسلمانوں میں خوف و ہراس پیدا کرنا، ان کو جیل میں بند کرنام ان کی آواز کو دبانا، اور ان کی کھیتی کی زمین کو ہتھیانا ہے وہیں کارپوریٹ کے لئے راستہ ہموار کرنا ہے تاکہ وہ اس جزیرے کو ’نرک‘بناسکے۔

جزائر لکادیپ یا لکشادیپ بحیرہ عرب میں واقع کئی جزائر کا مجموعہ ہے جن کا کل رقبہ 32 مربع کلومیٹر ہے۔ یہ جزائر ہندوستان کی ریاست کیرالا کے ساحل سے 200 سے 300 کلومیٹر دور واقع ہیں۔جزائر لکشدیپ کی کل آبادی اس وقت  70 ہزارکے قریب ہے جبکہ دار الحکومت کواراتی ہے۔عظیم مسلم سیاح ابن بطوطہ نے اپنے سفرنامے میں جزائر لکشدیپ کا ذکر کیا ہے۔ 1787ء میں ان جزائر پر ٹیپو سلطان کی حکومت قائم ہوئی اور تیسری جنگ میسور کے بعد یہ برطانیہ کے قبضے میں آ گئے۔ لکشدیپ کے باشندے کیرالا کے لوگوں سے نسلی مشابہت رکھتے ہیں۔ 8 ویں صدی سے یہ جزیرے اسلام کے زیر اثر رہے ہیں۔ 1498ء میں پرتگیزیوں نے یہاں ایک قلعہ تعمیر کیا۔ لیکن یہاں کے باشندوں نے ان کو وہاں سے نکلوا دیا۔ لکشدیپ میں کل 39 جزیرے ہیں۔ ان میں دس جزائر میں آبادی ہے اور 17 جزیرے غیر آباد ہیں۔ کواراتی، منیکوئی، امینی، اگاتی وغیرہ اہم جزیرے ہیں۔لکشدیپ کی اہم پیداوار ناریل ہے۔ 2598 ہیکٹیر اراضی پر ناریل کی زراعت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ماہی پروری اور مویشی پروری بھی ہے۔لکشدیپ کے جزائر دو طرح کے ہیں۔آباد جزائر میں اگاتی، امینی، آندروت، بنگارم، بیترا، چیتلات، کڈامت، کواراتی، کلپینی، کلتان، منیکوئی وغیرہ ہیں۔غیر آباد جزائر میں کلپِٹی، تِنّاکرا، چیریا پرَلی، ولیا پرَلی، پکشی پِٹی (طیوری پناہ گاہ)، سوہیلی ولیا کرا، سُہیلی چیریا کرا، تِلاکم، کوڈی تلا، چیریا پِٹی، ولیا پِٹی، چیریام، وِرِنگِلی، ولِیا پانی، چیرِیا پانی وغیرہ اہم ہیں۔لکشدیپ (سنسکرت: لکشدویپ، یعنی ایک ملین جزیرے) ہندوستان کا جنوب مغربی ساحل سے 200 سے 440 کلومیٹر (120 تا 270 میل) دور سمندر میں لکشدیپ سمندر میں واقع ایک جزائر ہے۔ اس سے قبل یہ جزیرے لکادویپ۔ مینی کائے امینی دویپ کے نام سے مشہور تھے۔ یہ جزیرہ ہندوستان کے ایک مرکزی علاقہ کے ساتھ ایک ضلع بھی ہے۔ پورے جزیرے کو لکشدویپ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ ہندوستان کا سب سے چھوٹا مرکزی علاقہ ہے اور اس کی مجموعی سطح کا رقبہ محض 32 مربع کلومیٹر (12 مربع میل) ہے، جبکہ انوپ کا رقبہ 4200 مربع کلومیٹر (1600 مربع میل) ہے، علاقائی آبی رقبہ 20000 مربع کلومیٹر (7700) ہے مربع میل) اور خصوصی اقتصادی زون 400000 مربع کلومیٹر (150000 مربع میل) میں پھیلا ہوا ہے۔ اس خطے کے کل 10سب ڈویژن کو ساتھ ملاکر ایک ہندوستانی ضلع بناتے ہیں۔یہ جزائرہ نما کیرالہ ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔  لکشدیپ-مالدیپ-چاگوس گروپ کے جزیروں کا شمال مغربی حصہ ہے، اور جزیرے چاگوس-لکشدیپ کورل ریف کا ایک وسیع سمندری پہاڑی سلسلہ ہے۔چونکہ ان جزیروں پر قبائلی آبادی نہیں ہے، لہذا ماہرین ان جزیروں پر انسانی بستیوں کی ایک مختلف تاریخ تجویز کرتے ہیں۔ آثار قدیمہ کے شواہد کے مطابق، اس علاقے میں انسانی آبادیاں 1500 قبل مسیح میں موجود تھیں۔ ملاح طویل عرصے سے ان جزیروں کو جانتے تھے، جو پہلی صدی عیسوی سے بحیرہ ایریٹرین کے پیروپل خطے کے ایک گمنام حوالہ کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان جزیروں کا ذکر چھٹی صدی قبل مسیح میں بدھ مت کے جاٹاکا قصوں میں بھی ہے۔ ساتویں صدی کے آس پاس میں مسلمانوں کی آمد کے ساتھ ہی اسلام کا ظہور ہوا۔ قرون وسطی کے زمانے کے دوران، اس علاقے پر چولا خاندان اور کینور کی سلطنت تھی۔ کیتھولک پرتگالی یہاں 1498 کے قریب پہنچے تھے، لیکن 1545 تک انہیں یہاں سے ہٹا دیا گیا تھا۔ تب اس علاقے پر اراکل کے مسلم گھر نے حکمرانی کی تھی، اس کے بعد ٹیپو سلطان تھا۔ ٹیپو سلطان کی 1799 میں موت کے بعد، زیادہ تر علاقے انگریزوں کے پاس چلے گئے اور ان کے جانے کے بعد 1956 میں یونین ٹیرٹری تشکیل دی گئی۔اس کی انسانی آبادی صرف دس جزیروں پر ہے۔ ان میں سے بیشتر کا تعلق سنی مسلک کے شفیع فرقے سے ہے۔لکشدیپ کی زیادہ تر آبادی ملیالم زبان بولتی ہے جبکہ مکی یا محل جزیرہ منیکوائے میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے۔ اگٹی جزیرے پر ایک ہوائی اڈہ ہے۔ لوگوں کا سب سے بڑا پیشہ ماہی گیری اور ناریل کی کاشت کے ساتھ ہی ٹونا مچھلی کی برآمد بھی ہے۔(وکی پیڈیا سے ماخوذ)

کیرالہ کے رکن پارلیمنٹ ای ٹی بشیرنے لکشدیپ کی صورت حال پر تشویش کا اظہا رکرتے ہوئے کہا ہے کہ لکشدیپ کو بدترین صورت حال اور بحران میں مبتلاکرنے کے لئے حکومت اب یہاں غنڈا ایکٹ کو نافذ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اگر احتجاج کی آوازوں کو دبانے کیلئے ان کے پاس اگر کالے قوانین موجود ہوں گے تو معاملا ت آسان ہوجائیں گے۔ لکشدیپ میں اس کے خلاف سخت احتجاج ہوچکے ہیں۔ مرکزی حکومت نے لکشدیپ ایڈمنسٹریٹر کے طور پر مقررہ کردہ پروفل کھوڈا پٹیل کو جلد از جلد جزیرے میں فرقہ واریت پھیلانے کا کام سونپاگیا ہے۔ لکشدیپ کا ہمیشہ ایک جرائم سے پاک چہرہ رہا ہے۔یہ ایک عظیم تاریخی اور ثقافتی ورثہ بھی رکھتا ہے۔ جس علاقے میں 99%فیصد مسلمان رہتے ہیں وہاں گوشت کے استعمال پر پابندی لگانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ آنگن واڑی اور وہاں کام کرنے والے ہیلتھ ورکرس سمیت مقامی لوگوں کو ملازمت سے برطرف کردیاگیا ہے۔ ماہی گیری ان کا بنیادی ذریعہ معاش ہے۔ یہاں غیر معمولی باتوں پر ماہی کے خلاف مقدمات درج کرنا ایک عام رواج بن گیا ہے۔۔ لکشدیپ میں سانب نہیں ہیں، کوئی کوا نہیں ہے، لیکن مرکزی حکومت کے تعاون سے اب سانپ کے کاٹنے کے زہر سے زیادہ فرقہ وارانہ زہر پھیلانے کا کام جاری ہے۔اسی طرح جامعہ ثقافتہ السنیہ کے سربراہ شیخ ابوبکر احمد نے لکشدوپ کے معاملے پر وزیر اعظم خط لکھا،جس میں کہا ہے کہ’جناب عالی! لکشدیپ میں موجودہ بے چینی پر آپ کی توجہ مبذول اور آپ کی فی الفور مداخلت کے لئے یہ مکتوب لکھ رہا ہوں۔ لکشدیپ ایک پُرامن جرائم سے آزاد جزیرہ ہے جس کے اپنے منفرد قبائیلی اقدار و روایات ہیں۔ جو لسانی اور ثقافتی طور پر پڑوسی ریاست کیرالا سے قریب ہے۔ اس جزیرہ میں آپ کے دورِ حکومت میں گذشتہ چھ سال کے دوران ایڈمنسٹریٹرس کا رول اور ان کی خدمات لائق ستائش رہی ہے۔ بدقسمتی سے جب سے مرکز نے ایک نئے ایڈمنسٹریٹر کا تقرر کیا ہے‘ اس کے بعد سے جو کچھ ہورہاہے وہ تشویش کا باعث ہے۔ ایڈمنسٹریٹر نے کئی ایک یکطرفہ فیصلوں پر عمل آوری کا آغاز کردیا ہے جو لکشدیپ کے عوام کی منفرد تہذیب، ثقافت اور ان کی توقعات کے منافی ہے۔وسیع پیمانے پر مختلف سرکاری دفتر سے مقامی ملازمین کی برطرفی، ماہی گیروں کے آلات اور ان کے سائبانوں کا انہدام، شراب خانوں کے لئے لائسنس کی اجراء، پاسا ایکٹ کا نفاذ، مجالس مقامی میں مقابلوں پر پابندی، ان میں سے چند ایک ہیں۔ سرکاری ملازمت اور ماہی گیری اس جزیرے کے باشندوں کی گزر بسر کا اصل ذریعہ ہے۔ یہاں کی آبادی 70ہزار سے کم ہے۔ کوسٹ گارڈ ایکٹ کی آڑ میں ماہی گیروں کے سائبان منہدم کردیئے گئے۔ سرکاری محکموں میں کنٹراکٹ کی بنیاد پر کام کرنے والے ہزاروں مقامی باشندوں کو  نکال دیا گیا۔ بلا کسی وجوہات کے محکمہ سیاحت سے 190ملازمین برخواست کردیئے گئے۔ ڈسٹرکٹ پنچایت کے اختیارات جو جمہوری نظام کے تحت رہے ہیں۔ سلب کرلئے گئے اور اسے ایڈمنسٹریٹرنے اپنے تحت کرلیا ہے۔ تعلیم، صحت، زراعت، ماہی گیری و پروری اور افزائش مویشیاں سب کچھ اب ایڈمنسٹریٹر کے ماتحت ہے جس سے مقامی باشندوں میں تشویش اور خوف کا ماحول ہے۔ لکشدیپ میں جہاں حالیہ عرصہ تک کووڈ سے ایک بھی فرد متاثر نہیں ہوا تھا۔ ایڈمنسٹریٹر نے کووڈ19کے پروٹوکال کو تہہ و بالا کردیا۔ اور اب ٹی  پی آر،60فیصد ہوگیا ہے۔ شراب سے پاک سرزمین پر شراب خانوں کو سیاحت کے نام پر لائسنس دیئے جارہے ہیں۔ جو مقامی تہذیبی و ثقافتی اقدار و روایت کو ٹھیس پہنچانے کے مماثل ہے۔ حتیٰ کہ مقامی عوام کے دسترخوان پر تک دخل اندازی کی جارہی ہے۔ اسکول کے طلبہ کے لنچ میں گوشت پر پابندی ہے۔ کئی آنگن واڑی بند کردیئے گئے۔ ایک ایسی مثالی سرزمین جہاں کبھی نہ تو جرائم ہوئے اور نہ ہی گرفتاریاں۔ جیل خانے ویران رہتے ہیں اور کرائم ریکارڈ صفر رہا‘ وہاں پاسا ایکٹ پر عمل آوری غیر ضروری ہے۔ ایسے لوگ جنہیں دو سے زائد بچے ہیں‘ ان کے پنچایتی انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی عائد کی گئی۔ کوچن اور بیپور بندرگاہوں سے لکشدیپ کے تمام روابط کو ختم کیاجارہا ہے۔ حالانکہ یہاں پر دفاتر بھی ہیں اور لکشدیپ کے باشندوں کے عزیز و اقارب کے مکانات ہیں۔ اب ایڈمنسٹریٹر اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ کارگو کے لئے منگلورپورٹ کا استعمال کیا جائے۔ نئے ایڈمنسٹریٹر نے لکشدیپ کے عوام پر مختصر مدت میں اس قسم کے اقدامات مسلط کئے ہے اور یہ بھی دیکھا جارہا ہے کہ مقامی افراد کو بے دخل کیا جارہا ہے اور ان کی سرزمین سے قبائیلی اقدار کو مٹانے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ کارپوریٹ سیکٹر کے ٹورزپراجکٹ کی تکمیل ہوسکے“۔
اس کے علاوہ لکشدیپ کی اہم کاروبار جانوروں کی خرید و فروخت اور ڈیری ہے جس پر پابندی عائد کردی گئی ہے اور دودھ کے کاروبار کو تہس نہس کردیا گیا ہے۔ اس کے لئے بنائے گئے باڑ توڑ دئے گئے ہیں اور گجراتی ڈیری مصنوعات امول کو متعارف کرایا جارہا ہے۔ایک طرف وہاں کے کاروبار کو تباہ و برباد کیا جارہا ہے دوسری طرف اخراجات بڑھائے جارہے ہیں اور لوگوں کو مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ امول کے مصنوعات کو خریدیں۔ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے لکشدیپ کے حالیہ واقعہ کو بدبختانہ قرار دیتے ہوئے لکشدیپ کو ہندوستان کو زیور قرار دیا اور عندیہ ظاہر کیا کہ وہ وہاں کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور وہاں کے تحفظ کے لئے کام کریں گے۔ کیرالہ اسمبلی نے لکشدیپ کے حق میں قرار منظور کرتے ہوئے یکجہتی کا اظہار کیا گیااور وزیر اعلی پنرائی وجین نے کہاکہ جزائر،میں دیسی طرز زندگی اور ماحولیاتی نظام کو تباہ و برباد کیا جارہا ہے اور اسی کے ساتھ انہوں نے لکشدیپ کو بھگوا ایجنڈا نافذ کرنے کا بھی الزام لگایا اور کہا کہ بھگوا ایجنڈے کے تحت وہاں کے ناریل کے درختوں کو بھگوا رنگ سے رنگ دیا گیا ہے اور عوامی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کارپوریٹ کے لئے زمین ہموار کی جارہی ہے۔ دوسری طرف کیرالہ ہائی کورٹ نے لکشدیپ ڈیولپمنٹ اتھارٹی ریگولیشن پر روک لگانے سے انکار کردیا۔ گزشتہ سات برسوں میں عدالت نے مودی حکومت یا اس کے کارندے کے کسی عمل پر روک نہیں لگائی ہے۔ اس سے فسطائی حکومت کو اپنے غیر قانونی ایجنڈانافذ کرنے کا وافر موقع ملا ہے۔ جیسے کہ دفعہ 370 کے خاتمہ، تین طلاق، قومی شہریت ترمیمی قانون وغیرہ کے سیکڑوں عرضیاں عدالت کے زیر سماعت ہیں لیکن عدالت نے اس پر کنڈلی مار کر بیٹھی ہے اور فسطائی حکومت کو اپنا ایجنڈا نافذ کرنے کا بھرپور موقع دے رہی ہے۔ اس کے علاوہ وہاں بیرونی لوگوں کی آمد و رفت پر پابندی عائد کردی گئی ہے تاکہ وہاں کی حقیقی صورت حال کے بارے میں لوگوں کو علم نہ ہوسکے اور انٹرنیٹ سہولت بھی یا تو ختم کردی گئی ہے یا رفتار اتنی سست کردی گئی ہے کہ سوشل میڈیا کا بھی استعمال نہ ہوسکے۔

جموں و کشمیر کو تباہ و برباد کرنے کے بعد اس کا نشانہ لکشدیپ ہے۔ اگر حکومت انصاف پسند ہوتی تو وہاں کسی مسلمان کو ایڈمنسٹریٹر متعین کرتی لیکن جب مسلم دشمنی جبلت میں شامل ہو تو مسلمانوں کو تنگ کرنے کا موقع کیسے ضائع کرسکتی ہے۔ اس کھیل میں عدلیہ بھی شامل ہے۔ عدالت عالیہ نے ان مسلم دشمن قوانین پر اسٹے دینے یا روک لگانے سے انکار کردیا۔ عدالت چاہتی تو روک لگاکر ایڈمنسٹریٹر سے وضاحت کرنے کو کہتی۔ مسلمانوں کو تباہ کرنے کا کس طرح منصوبہ بنایا ہے اس کا اندازہ کھانا پینے پر پابندی سے لگایا جاسکتا ہے۔ وہاں گائے کا گوشت ممنوع نہیں ہے اور پڑوسی ریاست کیرالہ میں بھی گائے کا گوشت ممنوع نہیں ہے۔ اس کے علاوہ ایک درجن کے آس پاس ریاست ہے جہاں گائے کا گوشت ممنوع نہیں ہے تو لکشدیپ میں جہاں تقریباً 99فصد مسلمان ہیں، گائے کا گوشت کیوں ممنوع قرار دیا گیا۔ وہاں شراب ممنوع تھا جس کی اجازت دے دی گئی ہے۔اس کھیل کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور مسلمانوں کو اس کے لئے کمر کس لینی چاہئے اور اس کا مقابلہ ہر سطح پر کرنے کی ضرورت ہے۔ بی جے پی ہر وہ کام کرنا چاہتی ہے جس سے مسلمانوں کو تکلیف پہنچے اور ان کی دل آزاری ہو۔

9810372335

وضاحت نامہ:۔یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ مضمون کو من و عن شائع کیا گیا ہے۔ اس میں کسی طرح کا کوئی ردوبدل نہیں کیا گیاہے۔ اس سے وطن سماچار کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی جانکاری کیلئے وطن سماچار کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی وطن سماچاراس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے۔


You May Also Like

Notify me when new comments are added.