لوجہاد قانون مسلم سماج کو بدنام کرنےاور مسلمانوں پر ظلم وبربریت کرنے کا ایک سیاسی ہتھکنڈہ ہے: مولانا عاطف سنابلی

لوجہاد کے نام پر اترپردیش میں یوگی سرکار نے غیر قانونی تبدیلی مذہب کا جو آرڈیننس جاری کیا ہے، اس کی قانونی وجمہوری حیثیت کیا ہے، وہ دستوروآئین کی روشنی میں جانچنے کا مسئلہ ہے، اسی طرح ایک شہری کو وطن عزیز میں دستور کی روشنی میں جو مذہبی آزادی حاصل ہے، اس تناظر میں یوگی سرکار اوران کے نقش قدم پر چلنے والی دیگر صوبائی سرکاروں نے جوفیصلے لئے ہیں وہ غیر جانبدارانہ بحث اور انصاف پر مبنی نظر ثانی کا موضوع ہیں ...

وطن سماچار ڈیسک

لوجہاد قانون مسلم سماج کو بدنام کرنےاور مسلمانوں پر  ظلم وبربریت کرنے کا ایک سیاسی  ہتھکنڈہ ہے: مولانا عاطف سنابلی 

لوجہاد کے نام پر اترپردیش میں یوگی سرکار نے غیر قانونی  تبدیلی مذہب کا جو آرڈیننس جاری کیا ہے، اس کی قانونی وجمہوری حیثیت کیا ہے، وہ دستوروآئین کی روشنی میں جانچنے کا مسئلہ ہے، اسی طرح ایک شہری  کو وطن عزیز میں دستور کی روشنی میں جو مذہبی آزادی حاصل ہے، اس تناظر میں یوگی سرکار اوران کے نقش قدم پر چلنے والی دیگر صوبائی سرکاروں نے جوفیصلے لئے ہیں وہ غیر جانبدارانہ بحث اور انصاف پر مبنی نظر ثانی کا موضوع ہیں ...

اس کے علاوہ لَو جہاد کے نام پر پورے صوبے میں مسلم لڑکے اور لڑکیوں پر یوپی پولیس کے جو مظالم اور ان کی جو جانبدرانہ بربریت اور ستم ہے وہ انتہائی تشویش ناک اور قابل مذمت ہے،ان خیالات کا اظہار جامع مسجد اہل حدیث خیرانی روڈ، ساکی ناکہ ممبئی کے خطیب وامام اورشہر کے معروف عالم دین مولانا عاطف سنابلی نے کیا، انہوں نے کہا کہ لوجہاد کے نام اسی طرح غیرقانونی تبدیلی مذہب کے نام پر قانون بنانے کابنیادی مقصد مسلم سماج اور اس کے نوجوانوں کو ٹارگیٹ کرنا اور انہیں تنگ کرنا ہے، جس کے اثرات ابتدائی دنوں میں ہی دیکھے اور محسوس کئے جارہے ہیں.

مولانا عاطف سنابلی نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ سے مسلسل معلوم ہورہا ہے کہ لوجہاد کےنام پریوگی کی پولیس نے کتنے نوجوانوں کو بے بنیاد نشانہ بنایا ہے،اورمسلم فیملیز کو اذیت دی جاری ہے، انہیں دہشت زدہ کیا جارہا ہے، شادیاں تک روکوادی گئیں ہیں، یہ سب بالکل غیر آئینی اور غیر قانونی ہیں  نیز ملکی وجمہوری اور انسانی وسماجی اقدرا کے بھی خلاف ہے اور ناقابل برداشت بھی ہیں، 

مولانانے مطالبہ کیا ہے کہ اس پر انسانی حقوق کی کمیٹیوں اور کمیشنوں کو ایکشن لیناچاہئے اور نجی زندگی سے متعلق  مذہب کی بنیاد پر بنائے گئے قانون پر حکومت کو نظر ثانی کے لئے مجبور کرنا چاہئے ..

اسی طرح مولانانے کہا کہ اس طرح کے قوانین اور آرڈیننس کا مقصد مذہبی سیاست کی جڑوں کوبھی مضبوط کرنا، سماج میں ہندو مسلم منافرت کو فروغ دینااورمذہبی تعصب کی بنیادوں کو مستحکم کرنا ہے، 

مولانانے مسلمانوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ملک کء بالخصوص یوپی کے مسلمان دوراندیشی سے کام لیتے ہوئے سنجیدگی کامظاہرہ کریں، قانونی وآئینی دائرہ میں ان حالات کا مقابلہ کریں،اور اپنی نسلوں میں دینی واعتقادی مضبوطی کا کام فکرمندی اور دردمندی کے ساتھ کریں،اپنا تعلیمی سسٹم اور دینی وسماجی نظام بنائیں،دینی تربیت اور اسلامی تعلیم کو گھر گھر پہنچائیں،ہمارے نوجوان اسلامی اخلاق وکردرا کے تحفظ کی فکر کے ساتھ ساتھ اپنے سماج ومعاشرہ کی نیک نامی کا باعث بنیں...اور اللہ سے ملک وملت کے احوال واعمال کی اصلاح کے لئے ہم سب دعاکریں....

 

 

 

You May Also Like

Notify me when new comments are added.