نفرتی میڈیا کو جمعیۃ علماء نے پڑھایا محبت کا فسانہ، مرکزکو لے کر جاری کیا اعداد وشمار

جمعیۃعلماء ہند نے غیرملکی جماعت کا ڈاٹاجاری کرتے ہوئے فرقہ پرست میڈیا کو دکھایا آئینہ۔ متعصب میڈیا کے ذریعہ کورونا وائرس کو مذہبی رنگ دینے کی سازش پر حکومت کی خاموش تائید افسوسناک: مولانا ارشد مدنی

وطن سماچار ڈیسک

نفرتی میڈیا کو جمعیۃ علماء نے پڑھایا محبت کا فسانہ، مرکزکو لے کر جاری کیا اعداد وشمار

جمعیۃعلماء ہند نے غیرملکی جماعت کا ڈاٹاجاری کرتے ہوئے فرقہ پرست میڈیا کو دکھایا آئینہ۔

متعصب میڈیا کے ذریعہ کورونا وائرس کو مذہبی رنگ دینے کی سازش پر حکومت کی خاموش تائید افسوسناک: مولانا ارشد مدنی

نئی دہلی:مولانا سید ارشد مدنی کی قیادت والی جمعیۃ علماء ہند نے نفرتی میڈیا کو محبت کا فسانہ پڑھاتے ہوئے تبلیغی جماعت کو لے کر جاری میڈیا کے جھوٹے پروپیگنڈے سے پردہ اٹھایا ہے اور اصلی اعداد وشمار جاری کئے ہیں۔ہم اپنے قارئین کو بتادیں کہ ہمارا روگی میڈیا ہٹلر کے وزیر اطلاعات ونشریات گوبلز کے اس قول پر عمل کررہا ہے کہ جھوٹ کو اتنا پھیلاؤ کی وہ جھوٹ سچ لگنے لگے۔ آج تبلیغی مرکزکو لے کر روگی میڈیا نے جو جھوٹ پھیلایا اور اس پر نفرت کی جو عمارت تیار کی اس نے ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو سخت نقصان پہونچایا ہے۔اس پورے معاملے پر جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سیدارشدمدنی نے کہاہے کہ 47 ملکوں کے 1640 غیر ملکی تبلیغی جماعت کے ارکان تھے ان میں سے دوکی موت اور چند کی رپورٹ مثبت کے علاوہ کوئی معاملہ سامنے نہیں آیا۔ مولانا مدنی نے تھکا دینے والی محنت کے بعد جمع اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے کہا کہ تبلیغی جماعت میں مجموعی طور پر 1640غیر ملکی تھے، ان میں سے طبی جانچ میں صرف  تقریبا64کی رپورٹ منفی آئی تھی جب کہ صرف دو غیر ملکی تبلیغی جماعت والوں کی موت ہوئی تھی۔ جن64جماعتیوں کی رپورٹ مثبت آئی تھی ان لوگوں کی رپورٹ بعد میں منفی آگئی تھی۔ یعنی سب تندرست ہو گئے۔ تمام ملکوں کی فہرست یہ ہے:روس1انڈونیشیا777، بنگلہ دیش151، ملیشیا170، کرغستان51، قزاکستان44، برما118، سوڈان24، سنگاپور3، ساؤتھ افریقہ1، سعودی عرب1، فیلپن8، روس1، سری لنکا44، نائجیریا10، موزمبیق9، مراکش2، نیپال1، کینیا3، ایران15، فلسطین3، آئی وریکوسٹا12، گھانا1، فرانس5، گامبیا2، ایتھوپیا8، ڈجبوتی10، ڈومالی1، چین4، برطانیہ4، کانگو1، امریکہ2، ویتنام12، تریناد اور ٹوباکو2، تنزانیہ12، تیونیشیا1، برونئی3، تھائی لینڈ86، شام1، بینن1، بلجیم2، برازیل6، آسٹریلیا2، الجیریا7، فجی15، سنیگال1، افغانستان4، اس میں سے دہلی میں مختلف ملکوں کے 739   لوگ ہیں اور باقی ہندوستان کے دوسرے صوبوں میں۔ لیکن میڈیا نے پورے ملک میں کوروناپھیلانے کا تبلیغی جماعت پر جھوٹا الزام لگاکر مسلمانوں کے خلاف نفرت کی فضا سازگار کی تھی۔ اس کی وجہ سے پورے ملک میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کا ماحول قائم ہوا یہاں تک کہ جگہ جگہ ان پر حملے ہوئے، ماب لنچنگ میں مارے گئے، سبزی اور پھل فروشوں کا بائیکاٹ کرکے نہ صرف ملک کے قانون کی دھجی اڑائی گئی بلکہ پوری دنیا میں ملک کو بدنام کیا گیااور حکومت خاموش تماشائی رہی۔مولانا مدنی نے کہاکہ میڈیا اور حکومت نے کورونا سے متعلق اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے مسلسل کہا تھا کہ مجموعی طور پر اتنے کورونا کے متاثرین سامنے آئے ہیں جن میں سے تبلیغی جماعت والے کو کبھی، 20فیصد، کبھی 25فیصد، کبھی30فیصد بتایاگیا۔جب کہ جماعت والے ویڈیو جاری کرکے کہتے تھے ہمارا ٹسٹ کیا گیا اور سب کی رپورٹیں منفی آئی ہیں۔

 

اس طرح میڈیا ہی نہیں بلکہ کچھ صوبوں کے بڑے بڑے منسٹر بھی الگ سے نام پیش کرکے تبلیغی جماعت والوں کے بہانے مسلمانوں کو بدنام کرنے کی ذلیل کوشش کرتے رہے اور میڈیا اسے بڑھا چڑھاکر پیش کرتا رہا۔ مولانا نے کہاکہ کورونا کے اس وقت معاملے ایک لاکھ تک پہونچنے والے ہیں۔ اب حکومت اور میڈیامسلمانوں کے اعداد و شمار کیوں نہیں پیش کرتی؟ حکومت اور میڈیا کی اس کالے کرتوت پر بین الاقوامی تنظیم، عالمی ادارہ صحت، اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں نے سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا لیکن حکومت اس وقت تک تبلیغی جماعت کا نام لیکر الگ الگ اعداد و شمار پیش کرتی رہی جب تک اس کا مقصد (مسلمانوں سے نفرت کرنا) حاصل نہیں ہوگیا۔ مولا مدنی نے کہاکہ میڈیا نے بڑے زور و شور سے تبلیغی جماعت کے سربراہ مولانا سعد اور ان کے خاندان پر کورونا پھیلانے کا جھوٹا پروپیگنڈہ کیا یہاں تک کہ تبلیغی عالمی مرکز میں تالا ڈال دیا گیا اور ان کے خاندان والوں کو بھی مطعون کیا۔ مولانا سعدجو جماعت کے سربراہ ہیں ان کا ان کے خاندان اور ان کے بچوں کا ٹسٹ نگیٹیوآیا یہاں تک کہ ان کے خسرمدرسہ مظاہر علوم سہارنپور کے صدر مدرس مولانا سلمان صاحب اور ان کے بچوں کا بھی نگیٹیونکلا اس سے ثابت ہوتاہے کہ کورونا وائر س کا جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن کورونا وائرس کو میڈیا نے مسلمان بنادیا، میں یہ کہتاہوں کہ یہ وہ فرقہ پرست ذہنیت ہے جس کی وجہ سے قہر خداوندی نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے تبلیغ کا نام لیکر مسلمانوں کا ہی چیکپ کرایا گیا اور یہ تصوردیا گیا کہ اس کو جماعت والوں نے یعنی مسلمانوں نے بڑھایا ہے، حالانکہ اگریہ غیر ملکی تبلیغی ہی ملک کے باہر سے کورونا لائے تھے تو ان کے اندرپازیٹییو رپورٹ زیادہ ہونی چاہئے تھی اس طرح بات کا بتنگڑ بنایا جارہا ہے اورجنتاکو الوبناکر ان کا دھیان اصل مسئلے سے ہٹاکر دوسری طرف لے جایا جارہا ہے تاکہ عوام ان سے اصل مدعوں کے بارے میں سوال نہ کرے۔مولانا سیدارشدمدنی نے غیر ملکی جماعتوں پر ڈاٹاکی تفصیل جمع کرنے کے بعد میڈیا کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تبلیغی مرکزکے معاملہ کولیکرمیڈیا کا ایک بڑاحلقہ جس کو فرقہ پرست ذہنیت اور حکومت میں بیٹھے لوگوں کی سرپرستی حاصل ہے وہ منصوبہ بند طریقہ سے جو منفی اور گمراہ کن پروپیگنڈہ کررہاہے اس پر حکومت سمیت تمام فرقہ پرست لوگ چپ ہیں ان کی یہ خاموشی انتہائی افسوسناک ہے اور ان کی خاموشی اس بات کی دلیل ہے کہ میڈیا کو فرقہ پرست ذہنیت اور اقتداراعلیٰ میں بیٹھے لوگوں کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

You May Also Like

Notify me when new comments are added.