بریکنگ نیوز

مذہب

فکر وخیالات

مدیر کی قلم سے

Poll

Should the visiting hours be shifted from the existing 10:00 am - 11:00 am to 3:00 pm - 4:00 pm on all working days?

SUBSCRIBE LATEST NEWS VIA EMAIL

Enter your email address to subscribe and receive notifications of latest News by email.

مولانا معزالدین احمد کے انتقال پر جمعیۃ علماء گجرات کا اظہار قلق

امارت شرعیہ ہند کے ناظم اور جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ کے اہم رکن مولانا معزالدین احمد کی وفات حسر ت آیات پر جمعیۃ علماء گجرات کے ناظم اعلی پروفیسر نثار احمد انصاری نے گہرے قلق و اضطراب کا اظہار کیا ہے ۔انھو ںنے کہا کہ مولانا مرحوم کی زندگی علم وفضل کی حامل تھی۔مولانا مرحوم معاملہ فہم ، سنجیدہ اور صاحب الرائے شخصیت کے حامل تھے۔ حضرت فدائے ملت مولانا سید اسعد مدنی ؒ نے بحیثیت امیر الہند ثانی ان کو امارت شرعیہ ہند کا ناظم مقرر کیا تھا۔ انھوں نے ادارہ المباحث الفقہیہ جمعیۃ علما ء ہند کے زیر اہتمام سلگتے ہوئے مسائل پر کئی فقہی اجتماعات منعقد کرائے اور مسائل کی تحقیق و تنقیح اور اجتماعات کے انعقاد میں بڑی جانفشانی سے خدمت انجام دی ۔جمبوسر گجرات میں چودھواں فقہی اجتماع ۲۰۱۸ء میں منعقد ہوا جس میں مصنوعی ٹیوب کے ذریعہ طریقہ تولید کا مسئلہ زیر بحث تھا ۔جمعیۃ علماء ہند کے زیر اہتمام ایسے جدید مسئلوں پر مفتیان کرام کو جوڑنا اور ان کی ایک متفقہ رائے کو تجویز کی شکل میں لانا بہت ہی بڑا کام ہے ۔ مولانا مرحوم گزشتہ تیس سالوں سے اسے بخوبی انجام دے رہے تھے ۔ بلاشبہ ان کی رحلت سے جمعیۃ علماء ہند کے دفتری نظام ، امارت شرعیہ اور ا دارۃ المباحث فقہیہ میں بڑا خلا پیدا ہوا ہے

وطن سماچار ڈیسک
فائل فوٹو

مولانا معزالدین احمد کے انتقال پر جمعیۃ علماء گجرات کا اظہار قلق 

نئی دہلی: امارت شرعیہ ہند کے ناظم اور جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ کے اہم رکن مولانا معزالدین احمد کی وفات حسر ت آیات پر جمعیۃ علماء گجرات کے ناظم اعلی پروفیسر نثار احمد انصاری نے گہرے قلق و اضطراب کا اظہار کیا ہے ۔انھو ںنے کہا کہ مولانا مرحوم کی زندگی علم وفضل کی حامل تھی۔مولانا مرحوم معاملہ فہم ، سنجیدہ اور صاحب الرائے شخصیت کے حامل تھے۔ حضرت فدائے ملت مولانا سید اسعد مدنی ؒ نے بحیثیت امیر الہند ثانی ان کو امارت شرعیہ ہند کا ناظم مقرر کیا تھا۔ انھوں نے ادارہ المباحث الفقہیہ جمعیۃ علما ء ہند کے زیر اہتمام سلگتے ہوئے مسائل پر کئی فقہی اجتماعات منعقد کرائے اور مسائل کی تحقیق و تنقیح اور اجتماعات کے انعقاد میں بڑی جانفشانی سے خدمت انجام دی ۔جمبوسر گجرات میں چودھواں فقہی اجتماع ۲۰۱۸ء میں منعقد ہوا جس میں مصنوعی ٹیوب کے ذریعہ طریقہ تولید کا مسئلہ زیر بحث تھا ۔جمعیۃ علماء ہند کے زیر اہتمام ایسے جدید مسئلوں پر مفتیان کرام کو جوڑنا اور ان کی ایک متفقہ رائے کو تجویز کی شکل میں لانا بہت ہی بڑا کام ہے ۔ مولانا مرحوم گزشتہ تیس سالوں سے اسے بخوبی انجام دے رہے تھے ۔ بلاشبہ ان کی رحلت سے جمعیۃ علماء ہند کے دفتری نظام ، امارت شرعیہ اور ا دارۃ المباحث فقہیہ میں بڑا خلا پیدا ہوا ہے ۔

                پروفیسر نثار احمد انصاری نے کہا کہ ہم نے اپنا بہترین ساتھی کھود یا ہے ۔ اللہ تعالی سے دعاء ہے کہ اللہ رب العزت ان کے حسنات قبول فرمائے اور جمعیۃ علماء کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے ۔ انھوں نے مولانا مرحوم کے بزرگ والد مولانا عبدالحمید صاحب اور مولانا مرحوم کے براردان ، اہل خانہ کی خدمت میں اپنی طرف سے اور جمعیۃ علماء گجرات کے صدر مولانا رفیق احمد مظاہری اور جملہ ارکان کی طرف سے تعزیت مسنونہ پیش کی اور مولانا مرحوم کی درجات علیا کے لیے خصوصی دعاء کی ہے ۔

 

You May Also Like

Notify me when new comments are added.