Hindi Urdu

مذہب

فکر وخیالات

مدیر کی قلم سے

Poll

Should the visiting hours be shifted from the existing 10:00 am - 11:00 am to 3:00 pm - 4:00 pm on all working days?

SUBSCRIBE LATEST NEWS VIA EMAIL

Enter your email address to subscribe and receive notifications of latest News by email.

انتخابات میں مثالی ضابطہء اخلاق کی خلاف ورزی ایک سنگین مسئلہ: امیر جماعت اسلامی ہند

وطن سماچار ڈیسک

Jamaat-e-Islami Hind has expressed deep concerns over the manner, in which the parliamentary elections are being conducted.

نئی دہلی۔مرکز جماعت اسلامی ہند میں منعقدہ ماہانہ پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی  نے کہا کہ ہمارے ملک میں پارلیمانی انتخابات جس طرح سے منعقد کیے جا رہے ہیں وہ تشویش کا باعث ہے۔ انتخابات کے چار مراحل پورے چکے ہیں۔ انتخابات میں مثالی ضابطہ ء اخلاق  (Model Code of Conduct)کی خلاف ورزی ایک سنگین مسئلہ بن گیا ہے۔ ملک کے کچھ بڑے سیاست داں ووٹوں کی خاطر فرقہ وارانہ تقریریں کر رہے ہیں اور لوگوں میں مذہب کی بنیاد پر تفریق پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امیر جماعت نے بتایا کہ وہ ایسا اپنی خراب کار کردگی کو چھپانے کے لیے کر رہے ہیں۔ لوگوں کا ذ ہن اصل موضوع سے بھٹکانے کے لیے انھیں فر قہ واریت کی مدد لینی پڑ رہی ہے۔ امیر جماعت نے الیکشن کمیشن سے اپیل کی کہ وہ ایسے لوگوں پر سخت کارروائی کرے اور جمہوری اقدار کو پامال ہونے سے بچائے۔ امیر جماعت نے مزید کہا کہ انتخابات میں ای و ی ایم مشینوں میں خرابیوں کی بے شمار شکایتیں آ رہی ہیں۔ اس سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ میں وی وی پیٹ سلپس کو ای وی ایم سے رینڈم میچنگ کو لازم بنانے کی عرضی کو جماعت کی حمایت حاصل ہے۔ ووٹوں کی گنتی  جمہوریت کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور ای وی ایم میں گڑبڑ ی کے مسئلہ کو فیصلہ کن طریقہ سے حل کرنا ضروری ہے۔ انھوں نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ انتخابات میں جماعت کسی بھی پارٹی کی حمایت نہیں کرے گی، البتہ  لوگوں سے ایسے امیدواروں کی حمایت کی اپیل کرے گی جو اچھے کردار والے اور فاسسٹ طاقتوں کو روکنے کی پوزیشن میں ہیں۔

 

 

 

مہاراشٹر کے ضلع گڑھ چرولی میں ماؤ نوازوں کے ذریعے اینٹی نکسل پولس فورسز پر حملے میں  15 جوانوں کی ہلاکت پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے امیر جماعت نے اس حملے کی مذمت کی اوراس میں شدید طور پر زخمی ہونے والوں کی کے جلد صحت یابی کی دعا۔  انھوں نے فرمایا کہ جماعت اس واقعہ میں انٹیلی جینس اور تحفظا تی ناکامی کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کرتی ہے۔ جموں و کشمیر کے پلوامہ حملے کے بعد گڑھ چرولی کا واقعہ ہمارے ملک کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ان واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ ہماری حکومت اپنے سپاہیوں کے تحفظ میں ناکام ہے۔ جماعت کے نزدیک تشدد کو ختم کرنے کے لیے حکومت ہند کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں سنجیدہ کوشش کرے تاکہ حکومت اور لوگوں کے درمیان اعتماد پیدا ہو۔ ماؤ واد، نکسلواد یا دہشت گرد ی کے نام پر کسی بھی طرح کا تشدد یا کسی بھی گروپ کے ذریعہ کیے گئے تشدد کے ساتھ انصاف پر مبنی یکساں برتاؤ ہونا چاہیے۔ غیر ذمہ دارانہ عمل سے ملک کے حالات مزید بگڑیں گے اور سیکورٹی فورسز کا حوصلہ پست ہوگا۔ جماعت سمجھتی ہے کہ تشدد اور خون ریزی کا راستہ ہلاکت و تباہی سے تو قریب کر سکتا ہے، اس سے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ شکایت باہمی گفتگو سے ہی دور کی جا سکتی ہے اور امن و امان کا ماحول قائم ہو سکتا ہے۔

 

 

کانفرنس کی ابتدا میں میڈیا بریفنگ کے دوران جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر محمد سلیم انجینئر نے کہا کہ سری لنکا میں 21اپریل کو ہوئے متعدد خوفناک بم دھماکوں کی جماعت اسلامی ہند شدید مذمت کرتے ہوئے اس کو انسانیت کے خلاف نا قابل معافی بھیانک جرم قرار دیتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ جماعت مختلف ممالک میں جاری غیر منصفانہ قتل پر افسوس کا اظہار کرتی ہے۔ جماعت امید کا اظہار کرتی ہے کہ حکومت سری لنکا ان بم دھماکوں کی تفصیلی تحقیقات کر وا کر مجرمین کو کیفر کردار تک پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی، تاکہ وہاں کوئی فتنہ پرداز ملکی امن و امان کو درہم برہم کرنے کی جراء ت نہ کر سکے۔ سری لنکا حکومت مسلمانوں کے تحفظ اور بے خوف زندگی کو یقینی بنانے کے لیے جلد از جلد لازمی اقدامات کرے۔ ان حملوں کے بعد سری لنکا کی حکومت نے برقع یا مسلم خواتین کے چہرہ ڈھکنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ جماعت اسلامی ہند کے نزدیک یہ کارروائی مذہبی آزادی اورجمہوری حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

You May Also Like

Notify me when new comments are added.