نوجوانوں کو راہ راست پر لانا علمائے کرا م کی ذمہ داری

نوجوانوں کوقرآن وحدیث کی روشنی میں راہ راست پر لانے کی ذمہ داری علمائے کرام پر عائد ہوتی ہے۔ اسلام کی صحیح روح نوجوانوں تک پہنچانے کیلئے یہ ضروری ہے کہ قرآن اور احادیث شریفہ کے صحیح معنی ومطالب بتائے جائیں۔ لوگوں میں خوشحالی لانے اوربنیاد پرستی سے روک تھام نیز انتہائی پسندی سے دور رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ حقیقی، مستند، نظریاتی اور سیاق وسباق میں قرآن او راحادیث شریفہ کی تشریح کی جائے۔ اس سے جہاں ایک طرف مسلمانوں پر دنیا بھرسے لگائے جانیوالے انتہاء پسندی کے داغ مٹیں گے تو وہیں دوسری طرف اسلام کی صحیح شبیہ پوری دنیاکے سامنے آئے گی۔ ہم یہ بات اس لئے کہہ رہے ہیں کیونکہ کچھ ناسمجھ لوگ ہوسکتے ہیں جو اپنی شہرت اور ناموری اور اچھا مقرر کہلانے اور اپنے ذاتی مفادات کیلئے شریعت کی اپنے مطابق تشریح کریں، اس لئے ضروری ہے کہ اسلام کی صحیح روشنی ان علمائے کرام سے حاصل کی جائے جو اس کی اصلی روح ’ امن اور بھائی چارہ‘ کو سمجھتے ہیں۔ کچھ لوگ ہیں جو اپنی دھواں دھار تقریروں سے عوامی ذہنوں کا استحصال کرتے ہیں اس لئے ان سے ہمیں بچنا چاہئے۔

گیسٹ کالم
مولانا سید ارشد مدنی ہندوسانی مسلمانوں کی تعمیر و ترقی کیلئے سرگرم ہیں اس مناسبت سے ان کی تصویر استعمال کی گئی ہے (فائل فوٹو)

نوجوانوں کو راہ راست پر لانا علمائے کرا م کی ذمہ داری

مکرمی

 نوجوانوں کوقرآن وحدیث کی روشنی میں راہ راست پر لانے کی ذمہ داری علمائے کرام پر عائد ہوتی ہے۔ اسلام کی صحیح روح نوجوانوں تک پہنچانے کیلئے یہ ضروری ہے کہ قرآن اور احادیث شریفہ کے صحیح معنی ومطالب بتائے جائیں۔ لوگوں میں خوشحالی لانے اوربنیاد پرستی سے روک تھام نیز انتہائی پسندی سے دور رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ حقیقی، مستند، نظریاتی اور سیاق وسباق میں قرآن او راحادیث شریفہ کی تشریح کی جائے۔ اس سے جہاں ایک طرف مسلمانوں پر دنیا بھرسے لگائے جانیوالے انتہاء پسندی کے داغ مٹیں گے تو وہیں دوسری طرف اسلام کی صحیح شبیہ پوری دنیاکے سامنے آئے گی۔ ہم یہ بات اس لئے کہہ رہے ہیں کیونکہ کچھ ناسمجھ لوگ ہوسکتے ہیں جو اپنی شہرت اور ناموری اور اچھا مقرر کہلانے  اور اپنے ذاتی مفادات کیلئے شریعت کی اپنے مطابق تشریح کریں، اس لئے ضروری ہے کہ اسلام کی صحیح روشنی ان علمائے کرام سے حاصل کی جائے جو اس کی اصلی روح ’ امن اور بھائی چارہ‘ کو سمجھتے ہیں۔ کچھ لوگ ہیں جو اپنی دھواں دھار تقریروں سے عوامی ذہنوں کا استحصال کرتے ہیں اس لئے ان سے ہمیں بچنا چاہئے۔

نوجوانوں کو ان تقریروں اور سوشل میڈیا پراسلام کی انتہاء پسندانہ غلط تشریحات کو دور پھینک دینا چاہئے اورانھیں معتبر علمائے کرام اور مفتیان عظام سے رجوع کرنا چاہئے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا صحیح دین بتائیں ۔ وہ سمجھائیں کہ آپؐ نے ظالموں کے ساتھ کیا رویہ اپنایا۔جن لوگوں نے آپؐ کو پریشان کیا انھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امن آشتی کاپیغام دیا۔ہمیں ان علماء کو نہیں دیکھنا ہے جو اپنے مفاد اور اپنی انا کی تسکین کیلئے عوام کو اسلام کی غلط تشریح  کریں جس سیتشدد اور جبرکو فروغ ملتا ہے کیونکہ اسلام امن وآشتی کا پیغام دیتا ہے او ربلالحاظ مذہب وبرادری ہر ایک کے ساتھ بھائی چارہ کا سلوک سکھاتا ہے۔یہ ضروری نہیں کہ علماء ہی مسلمانو ںاور نوجوانوں کو غلط اسلام کی تشریح کرکے انہیں انتہا پسندی پر اتارو کریں، علماء کی شکل میں بہکاوے کیلئے کوئی بھی ہوسکتا ہے اس لئے ہمیں پوری تحقیق اور متبحر علماء سے رجوع کرکے ہی کوئی قدم اٹھانا چاہئے۔علماء کوہمارے نوجوانوں کو وہ سیدھا راستہ دکھانے اور بتانے کی ضرورت ہے جس پر چل کر حضرت محمدؐ نے پوری دنیا کو امن وشانتی اور تشدد سے دوری کا پیغام دیاہے۔

 

محمد ہاشم

چوڑیوالان، جامع مسجد دہلی

وضاحت نامہ:۔یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ مضمون کو من و عن شائع کیا گیا ہے۔ اس میں کسی طرح کا کوئی ردوبدل نہیں کیا گیاہے۔ اس سے وطن سماچار کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی جانکاری کیلئے وطن سماچار کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی وطن سماچاراس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے۔

 

 

 

You May Also Like

Notify me when new comments are added.