”اسلاموفوبیا“-بوگس بیشنگ بریگیڈ کی بوگی

جہاں ایک طرف ہر ہندوستانی، ملک کی مستند کامیابیوں اور موثر قیادت پر فخر کر رہا ہے وہیں ملک کی اس شاندار -جاندار کامیابیوں کے کامیاب سفر سے بوکھلائے -بدحواس پیشہ ور ”مودی فوبیا کلب“ نے ”اسلاموفوبیا“ کارڈ کے ذریعہ جھوٹے، من گڑھت منطقوں، ثبوتوں سے کوسوں دور پروپگنڈہ کے ”پاکھنڈی پریاسوں“ سے ہندوستان کی شاندار مشترکہ تہذیب، تمدن اور عزم پر پلیتہ لگانے کی پھر سے سازشی دھاگے کا تانابانا بننا شروع کردیا ہے۔

گیسٹ کالم

”اسلاموفوبیا“-بوگس بیشنگ بریگیڈ کی بوگی

                وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان، جامع خوشحالی اور مساوی خود مختاری کی ”راشٹر نیتی“ اور طاقتور، خود انحصاری، تحفظ اور خوشحالی سے بھرپور بھارت، کامیابی کی سیڑھیاں چڑھ رہاہے۔ہر ہندوستانی اس کے غیر معمولی قیادت اور فیصلہ لینے کی قوت اور قومی مفاد میں کیے گئے کڑے -بڑے دوراندیش فیصلوں پر فخر و افتخار کا احساس کر رہا ہے۔ جناب نریندر مودی کی حساسیت، مشترکہ قیادت، بصیرت افروز قیادت کی اہلیت نے انھیں ”گڈگورننس اور جامع خوشحالی“ کا ”مستند برانڈ“ بنا دیا ہے۔

                جہاں ایک طرف ہر ہندوستانی، ملک کی مستند کامیابیوں اور موثر قیادت پر فخر کر رہا ہے وہیں ملک کی اس شاندار -جاندار کامیابیوں کے کامیاب سفر سے بوکھلائے -بدحواس پیشہ ور ”مودی فوبیا کلب“ نے ”اسلاموفوبیا“ کارڈ کے ذریعہ جھوٹے، من گڑھت منطقوں، ثبوتوں سے کوسوں دور پروپگنڈہ کے ”پاکھنڈی پریاسوں“ سے ہندوستان کی شاندار مشترکہ تہذیب، تمدن اور عزم پر پلیتہ لگانے کی پھر سے سازشی دھاگے کا تانابانا بننا شروع کردیا ہے۔

                اس ”بھارت بیشنگ بریگیڈ“ کے ”گیانی اگیانیوں“ کو سمجھنا ہوگا کہ جس ملک کی تہذیب و تمدن اور عزم ”وسودھیو کٹم بکم“ یعنی ”سرزمین عالم ایک کنبہ کی مانند ہے“۔ساتھ ہی ”سروے بھونتو سکھنا سروے سنتو نرامیا۔سروے بھدرانی پش ینتو ما کشچدا دکھا بھاگ بھویت“یعنی سبھی خوش حال رہیں۔ سبھی صحت مند رہیں، سبھی خوشحال سانحات کے شاہد بنیں اور کسی کو غم کا شریک نہ ہونا پڑے، عزم ہو۔ اسی مشترکہ سناتن تہذیب و تمدن نے اس عظیم ہندوستان کو کثرت میں وحدت کی مضبوط ڈور سے جوڑ رکھا ہے، جس میں مذہب، علاقہ، دیش سے اوپراٹھ کر کل انسانیت کی خوشحالی، ترقی، صحت اور تحفظ کی تعلیم کا اشتراک ہو۔ اسی ہندوستانی تمدن، تہذیب اور عزم کا نتیجہ ہے کہ آزادی کے بعد جہاں پاکستان نے اسلامی قومیت کا راستہ منتخب کیا، وہیں ہندوستان کے لوگوں نے       ”سیکولر جمہوری“ قومیت کا راستہ منتخب کیا۔ تقسیم کے بعد پاکستان میں اقلیت ۴۲/ فیصد سے زیادہ تھی لیکن آج تقریباً دو فیصد باقی رہ گئی ہے۔وہیں تقسیم کے بعد ہندوستان میں اقلیت کل آبادی کا ۹/ فیصد تھی، وہ آج بڑھ کر ۲۲/ فیصد سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔وہ اقلیت سبھی ہندوستانیوں کے ساتھ برابر کی حصہ داری -بھاگیداری کے ساتھ پھل پھول رہی ہے۔اس ملک اور اس کی قیادت کے خلاف ناحق تشہیر،”لاعلمی اور ذہنی دیوالیہ پن کی انتہا“سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔

                افسوس کی بات ہے کہ کچھ لوگوں کی ”نام نہاد سیکولرسیاسی سنک“ نے ملک کے سیکولرزم کو مسلم یا اقلیتوں کا ”پیٹنٹ پولیٹکل پروڈکٹ“ بناکر ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کا بڑا نقصان کرنے کے ساتھ ہی ہندوستانی مسلمانوں کو ترقی کی قومی دھارا سے دور کرنے سمجھا بوجھا گناہ بھی کیا ہے۔

                آج پھر سے ایسے ہی ”سازشی سیاسی سنک سے سرابور“ لوگ ہندوستان کو بدنام کرنے اور ہندوستان کی ”سروے بھونتو سکھن سروسے سنتو نرامیا“کے عزم پر چوٹ پہنچانے کی گھٹیا سازش میں لگ گئے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جناب نریندر مودی کی مقبولیت، پرفامینس اور جہد مسلسل نیز ملک کی مشترکہ ترقی سے پریشان،یہ مایوس روحیں ۴۱۰۲/ سے ایک دن بھی چین سے نہیں بیٹھیں، کبھی ہندوستان میں عدم رواداری، تو کبھی فرقہ پرستی،تو کبھی ہندوستان میں اقلیتوں کے ساتھ ظلم اور امتیازی سلوک کے جھوٹے اور من گڑھت قصوں کہانیوں کی ملک اور بیرون ملک میں تشہیر کرتی رہیں۔

                اس ”مودی بیشنگ بریگیڈ“ کی پریشانی یہ ہے کہ ۴۱۰۲/ کے بعد ان کی ناحق تشہیر اور پیش کی گئی ساری منطق، وقت کی کسوٹی پر کھوٹے اور فرضی ثابت ہوئیں بلکہ اوندھے منہ گر بھی گئیں۔ ان کی منطق تھی کہ مودی جی کے وزیر اعظم بنتے ہی اسلامی ممالک سے ہندوستان کے رشتے خراب ہو جائیں گے، عیسائی اثرات والے ملک ہندوستان سے اپنا منہ موڑ لیں گے، ہندوستان فرقہ وارانہ فسادات کی آگ میں دھو دھو کرے گا، اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے مذہبی، سماجی، اقتصادی حقوق چکنا چور ہو جائیں گے۔تاہم اس کے برعکس ہوا، اسلامی ملکوں کے ساتھ مودی جی کی مدت کار میں آزادی کے بعد سے اب تک سب سے زیادہ دوستانہ اور قریبی رشتے بنیں، یوروپین ممالک ہندوستان کے اور نزدیک آئے، یہی نہیں سعودی عرب، متحد ہ عرب امارات، افغانستان وغیرہ نے اپنے سب سے بڑے شہری اعزاز سے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کو نوازہ ہے۔ آج وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی ”گلوبل قبولیت، مقبولیت“ کسی کے سرٹیفکیٹ کی مہتاج نہیں ہے۔

                رہی بات کہ مودی کے دوراقتدار میں ہندوستان کے فرقہ وارانہ فسادات کی آگ میں دھو دھو جلنے کی، تو حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ پونے چھہ سال میں ایک بھی فساد نہیں ہوا، دہلی میں ہوئے فساد سے پہلے شاہین باغ دھرنے کے وقت ایک میسیج تیزی سے وائرل کیا گیا تھا کہ ”مودی کہتا ہے۔۔۔اس کے دور حکومت میں ایک بھی دنگا- فساد نہیں ہوا، ہمیں اس غرور کو چکنا چور کرنا ہے“۔۔۔۔اور اس کے بعد دہلی میں جو کچھ ہوا اس میں انسانیت کے سبھی اعضا کو لہولہان کر دیا۔ کچھ لوگ اپنی غلط منطقوں اور ناحق تشہیروں کو جائز ٹھہرانے کی سنک میں اتنا گر جائیں گے،کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔

                 شاہین باغ میں دھرنے پر بیٹھی خواتین غدار وطن نہیں کہا جا سکتا لیکن یہ بھی سچ ہے کہ انھیں ”گمراہی گینگ“ نے اپنے مقصد کی تکمیل کے لیے گمراہ کیا اور ایسے راستے پر دھکیل دیا جہاں ”انٹری گیٹ“ تو تھا پر ”ایگزٹ گیٹ“نہیں تھا۔ یا یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان بیچاری خواتین کو ”انٹری گیٹ“ پر دھکا دیکر اس ”سازشی سنڈیکیٹ“ نے ”ایگزٹ گیٹ“ پر تالا لگا دیا۔

                اس سازش کا تانا بانا بہت ہی سوچی سمجھی مجرمانہ فکر کے ساتھ بنا گیا۔”بوگس بیشنگ برگیڈ“، جناب نریندر مودی اور ہندوستان کو بدنام کرنے کی ”سنک اور سازش“میں بے گناہوں کی لاشوں کے ڈھیر پر اپنی کامیابی کا ڈھول پیٹنا چاہتی تھی، دنیا کو مکتوب روانہ کر رہے ہیں کہ ”دیکھو۔۔۔جو ہم نے کہا تھا وہ سچ نکلا“۔جانچ ایجنسیاں اس خطرناک خونی سازش کی تہہ تک پہنچ چکی ہیں اور اس کے پردے کے پیچھے اور سامنے کے گناہگاروں کو ایسا سبق ملے گا کہ وہ دوبارہ ایسا انسانیت کو لہولہان کرنے کا خواب بھی دیکھیں،تو ان کی روح کانپ جائے۔

                اس بریگیڈ میں شامل بہت سے لوگ اسی ”وراثت کے وارث“ ہیں جنھوں نے کانگریس کے وقت میں بھیونڈی سے بھاگلپور، ملیانہ سے مالیگاؤں تک ہوئے ۵/ ہزار سے زائد قتل عام پر نہ کبھی سوال اٹھایا، نہ کبھی شکایت کی، کیونکہ یہ سب جس دور حکومت میں ہوا تھا اس کی نال اس وقت ”دربار کے درباریوں“ سے بندھی ہے۔

                مودی حکومت نے کبھی بھی ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی یا مذہب، ذات، طبقہ کی بنیاد پر ترقی کا خاکہ تیار نہیں کیا، ان کی ترجیح غریب، کمزور طبقہ اور ضرورت مند رہا ہے۔ پھر بھی جو لوگ ”اسلامو فوبیا“ کے نام پر دنیا میں ہندوستان کو بدنام کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں ان کی اطلاع کے لیے بتانا ضروری ہے کہ مودی کے دور اقتدار میں اقلیتوں کے سماجی، تعلیمی خود مختاری کے لیے کیا ہوا ہے، جو اس سے پہلے ان کی ”نام نہاد سیکولر سرکاروں“ نے نہیں کیا یا شعوری طور پر اتنے بڑے سماج کو ترقی کی روشنی سے دور رکھ کر اس کا ”بے دردی۔بے شرمی“ کے ساتھ ”سیاسی استحصال“ کرتے رہے۔

                گزشتہ تقریباً ۵/ برسوں میں وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت والی حکومت نے دو کروڑ غریبوں کو گھر دیا

 

تو اس میں ۱۳/ فیصد اقلیتوں بالخصوص مسلم طبقہ ہے۔ ملک کے ۶/لاکھ گاؤوں میں سے بچے ہوئے زیادہ تر گاؤں میں بجلی پہنچائی گئی تو ۹۳/ فیصد سے زائد اقلیتی اکثریت والے گاؤں  اندھیرے میں زندگی گزار رہے تھے، ان کے گھروں میں روشنی ہوئی۔ ۲۲/ کروڑ کسانوں کو ”کسان سماّن ندھی“ کے تحت فائدہ پہنچایا گیا تو اس میں بھی ۳۳/ فیصد سے زائد اقلیتی طبقہ کے غریب کسان فیضیاب ہوئے۔ ۸/ کروڑ خواتین کو ”اجولایوجنا“ کے تحت مفت گیس کنکشن دیا گیا تو اس میں ۷۳/ فیصد اقلیتی طبقہ کے غریب کنبے فیضیاب ہوئے۔ ۴۲/کروڑ لوگوں کو ”مودرا یوجنا“ کے تحت چھوٹی، مجھولی تجارت اور دیگر روزگار والی اقتصادی سرگرمیوں کے لیے آسان قرض دیے گئے ہیں جن میں ۶۳/ فیصد سے زیادہ اقلیتوں کو فائدہ ہوا۔ یہ فائدہ انھیں اس لیے ملا کہ وہ غریب ہیں یا انھیں غریبی کے دلدل میں سوچی سمجھی سیاسی سو کے تحت پھینک کر رکھا گیا تھا۔

                اس کے علاوہ ”ہنر ہاٹ“، ”غریب نواز سوروزگار یوجنا“،”سیکھو اورکماؤ“ وغیرہ روزگار والی”کوشل وکاس یوجناؤں“کے ذریعہ گزشتہ ۵/ برسوں میں ۰۱/ لاکھ سے زیادہ اقلیتوں کو روزگار اور روزگار کے مواقع مہیا کرائے گئے ہیں۔ گزشتہ تقریباً ۵/ برسوں میں ۳/ کروڑ ۰۵/ لاکھ سے زائد اقلیتی طبقے کے طلبہ اور طالبات کو مختلف اسکالرشپ دی گئی ہیں۔ جس وجہ سے طلبہ بالخصوص طالبات کا اسکول ڈراپ آؤٹ ریٹ ۲۷/ فیصد سے گھٹ کر ہوکر ۲۳/ فیصد رہ گیا ہے جو مستقبل قریب میں صفر فیصد ہو جائے گا۔

                ملک بھر میں اوقاف کا ۰۰۱/ فیصد ڈجیٹلائزیشن کر دیا گیا ہے اور صد فیصد اوقاف کے جیو میپنگ کا کام جلد پورا ہو رہا ہے۔مودی حکومت کے ۵/ برسوں میں ہندوستان سے عازمین حج کی تعداد میں ریکارڈ ایک لاکھ ۰۳/ ہزار سے دو لاکھ کااضافہ ہوا ہے۔ آزادی کے بعد پہلی مرتبہ، وزیر اعظم جن وکاس کاریہ کرم کے تحت اوقاف پر اسکول، کالج، آئی ٹی آئی، کمیونٹی سینٹر، مختلف معاشی، سماجی، تعلیمی سرگرمیوں کی تعمیر کے لیے مودی حکومت صد فیصد فنڈنگ کر رہی ہے۔مودی حکومت کے ذریعہ ملک بھر میں جنگی پیمانے پر تعلیمی، سماجی، اقتصادی اور روزگاروالی بنیادی سہولیات کی تعمیر کی گئی ہے جس کی سخت ضرورت تھی۔

                گزشتہ ۵/ برسوں کے دوران مودی حکومت نے ’پردھان منتری جن کلیان کاریہ کرم‘ (پی ایم جے وی کے)کے تحت ملک بھرکے اقلیتی اکثریت علاقوں میں اقتصادی، تعلیمی،سماجی اور روزگار مہیا کرانے والی سرگرمیوں کے لیے بڑی تعداد میں انفراسٹیکچر کی تعمیر کرائی جن میں ۲۱۵۱/ نئی اسکولی عمارت، ۴۱۵۲۲/ اضافی کلا س روم، ۰۳۶/ ہاسٹل، ۲۵۱/ رہائشی اسکول، ۰۲۸۸/ اسمارٹ کلاس روم (سینٹرل اسکولوں سمیت)، ۲۳/ کالج، ۴۹/ آئی ٹی آئی، ۳۱/ پولیٹکنک، ۲/ نوودے ودھیالیہ، ۳۰۴/ سدبھاؤ منڈپ (ملٹی پرپزکمینونٹی سینٹر)، ۸۹۵/ مارکیٹ شیڈ، ۲۴۸۲/ اسکولوں میں بیت الخلا اور پانی پینے کی سہولیات، ۵۳۱/ کامن سروس سینٹر، ۲۲/ ورکنگ وومن ہاسٹل، ۷۱۷۱/ مختلف طبی منصوبے، ۵/ اسپتال، ۸/ ہنر ہب، ۰۱/ مختلف کھیل سہولیات، ۶۵۹۵/ آنگن باڑی مراکز وغیرہ کی تعمیر ارت شامل ہیں۔

                 ویسے سبھی سرکاری یوجناؤں کا فائدہ اقلیتی سماج کو بھی مساوی طور پر مل رہا ہے، پھر بھی وزارت برائے اقلیتی امور کا جو بجٹ کانگریس کے دور اقتدار میں ۰۰۵۳/ کروڑ روپے تھا اسے مودی حکومت نے ۰۰۰۵/ کروڑ سے زیادہ کردیا ہے یعنی ۰۷/ فیصد کا اضافہ۔یہی نہیں ۴۱۰۲/ تک مرکزی حکومت کی خدمات میں اقلیتوں کی حصہ داری جہاں ۴/ فیصد کے ارد گرد تھی، آج مودی حکومت میں ۰۱/ فیصد کی شرح کو پار کر رہی ہے۔ سول سروسیز میں بھی گزشتہ ۰۶/ برسوں میں سب سے زیادہ اقلیتی سماج کے لوگ منتخب کیے گئے ہیں، یہ حکومت کی غیر جانبداری اور قابلیت کی قدرکی پالیسی کا نتیجہ ہے۔ 

                کورونا کے قہر کے دوران سماج کے سبھی ضرورت مندوں کو لاک ڈاؤن کے درمیان ۲۳/ کروڑ لوگوں کو ڈائریکٹ بینی فٹ ٹرانسفر کے ذریعہ ۱۳/ ہزار کروڑ سے زائد کی رقم تقسیم کی گئی ہے۔ اس کا بڑا فائدہ اقلیتی طبقہ کے لوگوں کو بھی ہواہے۔ اس قدرتی آفت کے وقت وزیر اعظم غریب کلیان انن یوجنا کے تحت ۵/ کروڑ ۰۳/ لاکھ ضرورت مندوں کو مفت راشن مہیا کرایا گیا ہے۔ اسی دوران ۴/کروڑ سے زیادہ لوگوں کو اجولا یوجنا کے تحت مفت گیس سلنڈر مہیا کرائے گئے ہیں۔ وزیر اعظم کسان یوجنا کے تحت ۸/ کروڑ ۰۳/ لاکھ کسانوں کو پہلی قسط کے لیے ۶۱/ ہزار کروڑ روپے سے زائد کی مدد کی گئی ہے۔ ۰۲/ کروڑ خواتین کے جن دھن اکاونٹ میں ۲۱/ ہزار کروڑ روپے ڈالے گئے ہیں۔ تعمیراتی امور سے متعلق ۳/ کروڑ ۰۵/ لاکھ سے زائد رجسٹرڈ مزدوروں کے لیے ۱۳/ ہزار کروڑ روپے کا فنڈ دیا گیا ہے۔ ان سبھی کا فائدہ بڑی تعداد میں اقلیتوں کو بھی پہنچا ہے۔

                جب کورونا کا قہر دنیا میں شروع ہوا تھا، تب پاکستان سمیت اور کئی ملک اپنے شہریوں کی فکر نہیں کر رہے تھے، تبھی مودی حکومت ووہان، ایران، عراق، سعودی عرب وغیرہ سے بڑی تعداد میں ہندوستانیوں کو واپس ملک لیکر آئی، ان میں زیادہ تر مسلم طبقہ کے لوگ شامل تھے۔ وہیں حال ہی میں شروع کیے گئے ”وندے بھارت مشن“ کے تحت بھی مالدیو، متحدہ عرب امارات سمیت کئی ملکوں سے ہندوستانیوں کو واپس لایا جا رہا ہے جن میں بڑی تعداد میں اقلیتی سماج کے لوگ ہیں۔

                ہم نے کبھی سماج کے سبھی طبقوں کے ساتھ اقلیتوں کے سماجی، تعلیمی اور معاشی ترقی کے لیے کیے گئے کام کا ڈھول نہیں پیٹا نہ اس کا سیاسی فائدہ لینے کی کوشش کی۔ ”مشترکہ ترقی۔جامع خود مختاری“ مودی حکومت کے لیے ”راشٹر نیتی“ہے، ”راج نیتی“ نہیں۔اسی اعتماد کا نتیجہ ہے کہ کورونا کے چیلنج کو شکست دینے کے لیے سماج کے سبھی طبقے متحد ہوکر لڑرہے ہیں، مندر، گورودوارہ، چرچوں کی طرح مسجدیں، درگاہیں اور سبھی مذہبی،سماجی جگہوں پر ہر طرح کی بھیڑ بھاڑ والے پروگرام بند ہیں، سبھی لوگ ایمانداری کے ساتھ لاک ڈاؤن، کرفیو، سماجی فاصلہ، کورونا کے تحت سبھی جاری ہدایات و ضابطوں اور وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی ہر اپیل کو احترام کے ساتھ قبول کر تے ہوئے اس پر عمل کر رہے ہیں۔

                یہی نہیں مختلف مذہبی، سماجی اداروں جن میں درگاہیں، مسجدیں، امام باڑے، انجمنیں اور اقلیتی سماجی۔تعلیمی ادارے وغیرہ شامل ہیں، لوگوں کو راحت پہنچانے کے لیے آگے بڑھ کر مدد کر رہے ہیں۔ لیکن اس مشکل وقت میں بھی ”سازشوں کے سوترادھار“ باز نہیں آ رہے ہیں۔ ”سائبر ٹھگوں“ سے تال میل کر کے سماجی فاصلے پر افواہیں پھیلانے، ناحق تشہیر کرنے، بیرون ملک میں ہندوستان کے خلاف مکتوب روانہ کرنے میں مصروف ہیں، لیکن میرے ملک کا عزم و رسم اتنا مضبوط ہے کہ ان تمام”سازشی سورماؤں کی شیطانی چالوں“ کو ناکام کرتا ہوا،وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ”سب کا ساتھ- سب کاوکاس -سب کا وشواس“کے عہد کے ساتھ،یکجہتی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے اور بڑھتا رہے گا، ملک کے ”وشواس چکر“کو ”وشم چکر“ میں بدلنے کے لیے ایسے ”سازشی سنڈیکیٹ“ کے ہندوستان کو بدنا کرنے کے ”اسلاموفوبیا کارڈ“اور ”ہارر ہنگامہ“ بری طرح تباہ ہوگا۔اور ہندوستان ”ایک بھارت -سریسٹھ بھارت“ میرے ہندوستان کی روح ہے، اس پر چوٹ ۵۳۱/ کروڑ ہندوستانیوں کی روح پر حملہ ہے، ہمارا یکجہتی کے ساتھ ہندوستان کی کامیابی کا ہم سفر بن کر چلنا ہی ”راشٹر دھرم“ ہے۔

 

 

وضاحت نامہ:یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ مضمون کو من و عن شائع کیا گیا ہے۔ اس میں کسی طرح کا کوئی ردوبدل نہیں کیا گیاہے۔ اس سیوطن سماچار کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی جانکاری کیلئے وطن سماچار کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی وطن سماچاراس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے۔ 


You May Also Like

Notify me when new comments are added.