خوگر حمد ہو کچھ گلہ بھی سن لو

جس طرح ہمارے ہی ملک میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں کسی زمانے میں تحریکوں کا انقلاب آیا تھا پھر سمندر کے جھاگ کی طرح بیٹھتا چلاگیا اسی طرح عرب میں بھی اٹھا بلکہ وہاں تو کئی کئی دفعہ اٹھوایاگیا ، ہر تحریک جس طرح اٹھی اسی طرح بیٹھ بھی گئی ۔ سب سے خاص بات یہ کہ کسی بھی تحریک کے بانی مبانی کا خاندانی بت نہیں تراشاگیا ۔ بڑی بڑی شخصیات اٹھیں لیکن ان کے نالائق بچوں کو بھی عرب مسلمانوں نے اسی طرح خدائ منصب عطا کیا جیسا کہ ہمارے یہاں کیا جاتا ہے ؟ قطعی نہیں ۔اس لیے وہاں اٹھنے والی ہر فکر اسلامی ہوتی ہے اسلام کے نام پر شخصی صنم کدے میں قید نہیں ہوتی ۔

گیسٹ کالم

خوگر حمد ہو کچھ گلہ بھی سن لو 

 

ہندو عرب کا اسلامی تفرد ۔

 

 

میں تو کبھی عرب نہیں گیا لیکن جتنا کچھ میں نے اخبارات رسائل اور احباب کے ذریعہ وہاں کے مذہبی کلچر کو سمجھااس کا خلاصہ یہ ہے " عرب کا اسلام بہت ہی آسان ہے ، وہاں فرقہ بندی ضرورہ ہے لیکن عبادت گاہوں کا برصغیر کی طرح بندر بانٹ نہیں ہوا ہے ، اصلاح اعمال اور اصلاح عقائد کے معاملات کو حکومتی سر پرستی حاصل ہوتی ہے ہر شخص اپنی نئی تحریک لے کر چلنے کا مجاز نہیں ہے اور نہ ہی عوامی سطح پر ایسے افکار کو پذیرائ ملتی ہے ۔عرب کے علماء ساری دنیا کے علماکے سامنے سند کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ لیکن برصغیر کا ایک مذہبی حلقہ ایسا بھی ہے جس میں  عرب علماء کی کفری حیثیت وہی ہے جو بھارت کے پنڈوں کی ہے ۔ جن کے بارے میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ " عرب کے سارے علماء ، سرکار کے دینی کارندے اور عوام کی اکثریت بے ادب اور  گستاخ رسول ہیں " اس طرح کی فکر عام ہے اس موضوع پر مضامیں ، مقالے اور کتابیں بھی لکھی جاتی ہیں اور دینی جلسوں میں ڈرامائ تقریریں بھی ہوتی ہیں ۔ایک اور حیرت انگیز پہلو ہے کہ ایک کتاب ہے " جو کفر وایمان کا فیصلہ کرتی ہے باعتقاد ان کے "  اس کتاب کو آسمانی کتاب کا درجہ اس لیے حاصل ہے کہ اس پر اظہار رائے دینے والے سارے علماء عربی ہیں" ۔ غور کرنے کے بعد بڑا تعجب ہوتا ہے یہ کتاب اتنی معتبر ہے کہ قرآن کی تصدیق کے بجائے اس کی تصدیق ضروری ہے اور کہاجاتاہے اس لیے ضروری ہے کہ علماء حرمین نے یہ حکم دیا ہے ، اس کتاب پر تصدیق کے بعد ہی ایک اور کتاب پر علماء حرمیں کی تصدیق ہوئ جو اس گروہ  کے خلاف تھی ۔پھر کیا کہنا ۔ اس کے بعد سے آج تک اہل حرم کے ایمان پر بھی ان " ژیہونسٹ مسلمان کے شک کی تلوار لٹک رہی ہے " ۔ ایک لطیفہ اور ہے کہ اگر اب بھی وہاں کی حکومت کی اجازت سے کسی طرح کی مذہبی رعایت مل جائے تو مت پوچھئے ایسا شور ہوتاہے کہ بس اب اعلان نبوت ہواکہ تب ہوا ۔پھر وہ جھوٹی تاویلات کہ الامان والحفیظ ۔کسی بھی ملک کا کوئ بھی ادارہ ،خاص کر مذہبی ممالک کے مذہبی ادارے کسی بھی شخص کو حکومت کی مرضی کے بغیر نہیں بلاسکتے ۔ لیکن ان سچے لوگوں کی کرامت ہوتی ہے کہ حکومت کے اجازت نامے کے بغیر ہی ایک عام آدمی ان کو  بلا لیتا ہے اور اس کار خیر کی وجہ سے صرف منصب نبوت ان سے  چھٹک جاتاہے ورنہ وہ سارے مناصب جلیلہ جو بخت نصر کے بعد سے آج تک ان کو حاصل نہیں ہوسکے تھے سب خدانے رات ودن اے سی میں رہنے کی وجہ سے  ان کو عطا کردئے  ۔اگر واقعی خدا ایسا ہی ہے کہ صرف کسی خاندان میں پیدا ہونے کی وجہ سے بغیر محنت کے ہی وہ من مانی کرنے والوں کو عالم روحانییت سے  سب کچھ عطا کردیتا ہے تو میں ایسے خدا پر یقین نہیں رکھتا۔

 

جس طرح ہمارے ہی ملک میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں کسی زمانے میں  تحریکوں کا انقلاب آیا تھا پھر سمندر کے جھاگ کی طرح بیٹھتا چلاگیا اسی طرح عرب میں بھی اٹھا بلکہ وہاں تو کئی کئی دفعہ اٹھوایاگیا ، ہر تحریک جس طرح اٹھی اسی طرح بیٹھ بھی گئی ۔ سب سے خاص بات یہ کہ کسی بھی تحریک کے بانی مبانی کا خاندانی بت نہیں تراشاگیا ۔ بڑی بڑی شخصیات اٹھیں لیکن ان کے نالائق بچوں کو بھی عرب مسلمانوں نے اسی طرح خدائ منصب عطا کیا جیسا کہ ہمارے یہاں کیا جاتا ہے ؟ قطعی نہیں ۔اس لیے وہاں اٹھنے والی ہر فکر اسلامی ہوتی ہے اسلام کے نام پر شخصی صنم کدے میں قید نہیں ہوتی ۔

 

ہمارے بر صغیر میں معاملہ کچھ عجیب ہے ۔ ہر مکتبہ فکر کا ایک خاندانی تصوراتی صنم کدہ ہے ، جس میں ایک بڑا سا معجزاتی بت ہے ، اس کی فکر سے اختلاف کرنے پر موت بھی آسکتی ہے ، جان لیوا حملہ بھی ہوسکتا ہے ، کرامات درکرامات سے آپ بیمار ہوسکتے ہیں  اختلاف رائے کے بعد کچھ بھی ہوا تو وہ اسی بڑے بت کی کرامت سمجھی جائے گی ۔    اس بڑے بت کا عذاب کرامات کی شکل میں ظاہر ہوتارہتاہے پھر اس کے چرچے بالکل اسی طرح کرائے جاتے ہیں جس طرح پتھر کے صنم کی دودھ نوشی کو شہرت دلائ جاتی ہے ۔ کوئ بھی شخص دین کا اور اسلام کا کام کرنا چاہے تو الگ الگ پنتھ کے بڑے بت کے خاندان سے اجازت ضروری ہے ورنہ آپ ہزار عاشق رسول ہوں ، اللہ کے ولی ہوں کچھ نہیں ۔ سب بیکار ہے ۔اب خدانے اپنا سارا نظام ان ہی چند خاندانوں کو دے دیا ہے ۔ جن کے عیاش یزید سلطنت ولایت سے احراق غلاف ایمان مسلم کا فریضہ انجام دے رہے ہیں ۔کسے مالدار بنناہے کسے غریب ،  ایک " قبالی تعویذ" میں قید کرنے کا اختیار اللہ نے ان کو دے رکھا ہے ۔کوئ لاکھ مجاہدہ کرے ، رب کی مناجات کرے ، صدق دل سے اپنا سب کچھ اپنے رب کے لیے نچھاور کردے سب بیکار ہے ، جب تک ان خاندانوں کے بڑے پیٹ والے اے سی زدہ سجدے سے معذور خدا کے نمائندوں کی مہر نہیں لگ جاتی کچھ نہیں ملنے والا ۔بڑا تعجب ہوتاہے کہ نہ انہوں نے محنت سے تعلیم حاصل کی ، نہ ریاضت ، نہ مجاہدہ ، نہ سلوک کی  منزلیں نہ خوف خدا نہ عشق خدا پھر اس خدا نے اپنے خزانے کی کنجی ان کو عطا کردی ہے ؟ ۔اگر خدا کا انصاف یہی ہے تو میں اس مکاری سکھانے والا خدا کو نہیں مانتا ۔رات جلسوں میں ایک دوسرے مٹھ اور پنتھ کے خلاف چلانے میں یا کھانے پینے یا سفر میں گزرتی ہے ، دن کھانے پینے اور عیش وطرب میں ۔پھر بھی خدانے اپنی ہر چیز کا مالک ان کو بنادیا ، دوسروں پر داروغائ نظر رکھنے والے ، بڑے بڑے تجارتی مہارتھیوں سے بڑھ کر اپنا بینک بیلینس رکھنے والے اولیا ء  ، خدا کی عبادت سے دور ، اچھے اخلاق وکردار سے دور ، ایک رات کے بدلے لاکھوں روپے کا نذرانہ وصول کرنے والے مسجد کی بنیاد رکھنے کے لیے ایک لاکھ انڈین  تک نذرانہ وصول کرنے والے اگر پنڈتانی مذہب کی طرح خدا کے پسندیدہ ہیں تو ہمیں ان کے خدا پر شک ہے ۔ اس مظلوم مذہب پر اسی راستے سے  سے ظلم ہوا ہے جس کی یہ مخالفت کرتا آیا تھا اور آج بھی مخالفت کرتاہے ۔ اس مذہب میں امیر غریب ، سب برابر تھے سب رعایا سب حاکم لیکن واہ رے بد قسمتی! ظلم بھی ہواتو شریعت کی پاسداری کا ڈھونگ رچاکر ۔

 

 

بڑے بت کے خاندانوں نے ایسا اودھم مچایاہے کہ ان کی سند کے بغیر کسی بھی پنتھ کا اسلام معتبر نہیں ۔ کسی بے چارے سے سات آٹھ دفعہ توبہ کراکے اس کی عزت نفس کو قتل کرڈالتے ہیں پھر بھی خدا بن کر اعلان کرتے ہیں کہ ابھی توبہ قبول نہیں ۔" خدائ منصب پر قبضہ ہوچکا ہے یا قبضے کی تیاری ہے " ۔اگر دجال نہ بھی آئے تو ساری کمی یہی لوگ پوری کردیں گے ۔تعلیمی ، تبلیغی اور دینی کام کرنے کے لیے ان دجالی خداءوں کی سند چاہیے ہوتی ہے اگر آپ کے پاس کسی خاندان سے سند نہیں  تو آپ کا اسلام ان کے یہاں قبول نہیں اور ان کا دعوی ہے کہ " آپ کا اسلام خدا کی بارگاہ میں بھی قبول نہیں " خدائ فرمان جاری کرنا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ۔ اب کسی بھی معاملے میں رب کی مرضی نہیں چلتی بلکہ یہ کچھ الگ الگ خاندان ہیں خدا ان کی مرضی کا پابند ہے ۔ اگر ان کی مرضی کےمطابق خدانے کام نہ کیا تو یہ خاندان خدا سے اس کی قدرت  بھی چھین سکتاہے ۔

 

اب یا تو خود کا اسلام تلاش کیجیے یا پھر ان خاندانوں کے چنگل میں جکڑے ہوئے اسلام کی پناہ میں آجائے ۔ جہاں خدا سے خوف کم ان بتوں سے خوف کا تصور  زیادہ عام کیا جاتاہے ۔ کوئ بھی تنظیم اور تحریک ہو یہ اس قدر پاور فل ہوتے ہیں کہ اس کے غیر اسلامی ہونے کی وحی اپنے صنم کدے سے نازل کردیتے ہیں ۔اس لیے ہر تحریک اور ہر تعلیمی ادارہ ان سے خوف کھاتا ہے ۔ کچھ شریف لوگ ان سے الجھنا نہیں چاہتے تو یہ لوگ  اور بھی جری ہوجاتے ہیں ۔ ان کے اسلام کی عجب کہانی ہے ، کعبے کے صحن میں بیٹھ کر توبہ ان کے یہاں قبول نہیں ہوتی اگر توبہ قبول کرانی ہوتو بڑے صنم کدے میں پہونچ بڑے بت کو پکار کر اپنے توبہ کا اعلان کرنا ہوگا ۔میں ایسے اسلام سے بری ہوں ۔ اپنے اللہ کو گواہ بناکر اس طرح کے خاندانی  اسلام سے اپنی برات کا اعلان کرتاہوں ۔

 

اپنی بات کہنے کے لیے آج کا لہجہ بدلا گیا ہے ۔ جو بھی اشارے ہیں سب حقیقی ہیں تخیلات کا گزر محال ہے ۔

 

محمد رضی احمد مصباحی

 

وضاحت نامہ:یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ مضمون کو من و عن شائع کیا گیا ہے۔ اس میں کسی طرح کا کوئی ردوبدل نہیں کیا گیاہے۔ اس سیوطن سماچار کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی جانکاری کیلئے وطن سماچار کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی وطن سماچاراس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے۔ 


You May Also Like

Notify me when new comments are added.