مذہب

فکر وخیالات

مدیر کی قلم سے

Poll

Should the visiting hours be shifted from the existing 10:00 am - 11:00 am to 3:00 pm - 4:00 pm on all working days?

SUBSCRIBE LATEST NEWS VIA EMAIL

Enter your email address to subscribe and receive notifications of latest News by email.

اسلام سماجی انصاف اور برابری کا مذہب ہے

اپنے عقیدتمندوں سے اسلام کا مطالبہ رہتا ہے کہ انسان اپنے مقاصد کی تکمیل کے دوران نیکی وپارسائی اورسنجیدگی قائم رکھے، لوگوں کوسکھائے اور یہ کہ اپنی کمائی کو لوگوں کی فلاح وبہبود میں لگائے۔ چوتھے خلیفہ حضرت علی رضی اللہ عنہ انصاف پسند، دوسروں کے تئیں مخلص، مساوات کے علمبردار اورہم آہنگی کے رول ماڈل تھے۔ سماجی انصاف کامطلب ہے کہ کھلے دل کے ساتھ لوگوں اور سماج میں مثبت رشتوں کی فراوانی ہو،سماجی انصاف کی گہرائی کو سمجھا جائے اور بلالحاظ دین ومذہب اور اونچ نیچ بھلائی عام کی جائے۔ برابری اور عدم امتیاز ایک ایسا نظام ہے، جسے سماجی انصاف کا نام دیا جاتا ہے جو کسی بھی قانون وضوابط والی مثالی سوسائٹی کیلئے اہمہے۔ سماجی انصاف کا مطلب انسان میں صداقت ہواور سچائی اس کے ہاتھ سے نہ چھوٹے اور یہی اسلام کی بنیاد ہے۔ اللہ تعالی انہیں لوگوں کے ساتھ رہتا ہے جو ایماندار اور انصاف پسند ہوتے ہیں۔ اختصار کے ساتھ ہم اسے یوں کہہ سکتے ہیں کہ انصاف ایک عہد اور ضروری شرط ہے خوشی کیلئے کیونکہ سماجی انصاف اور قناعت لازم وملزوم چیزیں ہیں۔

گیسٹ کالم
فائل فوٹو

عبداللہ

 نائی کی منڈی، آگرہ، یوپی

 

اسلام سماجی انصاف اور برابری کا مذہب ہے

مکرمی!

اسلام انصاف اور مساوات کا مذہب ہے۔بغیر کسی کے حقوق کو نقصان پہنچائے یہ ہر ایک فرد کے مساوی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ اسلام میں روحانی روشنی نمایاں ہوتی ہے اور اس میں نسلی اونچ نیچ کاکوئی شائبہ نہیں۔اسلام کے پانچ ستون ہیں، جن میں پوجا اور عبادت کے لائق اللہ کاعقیدہ رکھنا اور حضرت محمدؐ کے رسول او رپیغمبر ہونے کی شہادت دینا ہے۔ دوسرے نماز، تیسرے رمضان کے مہینے میں روزہ رکھناہے، جس میں نہ صرف یہ کہ بندے کوصبح سے شام تک نہ صرف کھاناپینا چھوڑنا پڑے گا بلکہ سماج کے تمام حقوق کاخیال رکھتے ہوئے زبان کو سنبھالے رکھناپڑے گا۔ چوتھے، زکوۃ دینا ہے جس میں آدمی کواپنی کمائی کا سالانہ 2.5 فیصد غریبوں اور محتاجوں کیلئے دینا ہے۔ اسلام کے ستون میں سے پانچوان ستون حج ہے۔ حج بیت اللہ کا مطلب ہے کہ انسان اپنی گاڑھی کمائی سے اس اسلامی رکن کوادا کرے اور دل ودماغ صاف کرلے کہ اسے اب ہمیشہ پاکیزہ رہنا ہے، ہرایک کے ساتھ برابری کا سلوک کرنا ہے اور جہاں انصاف کی بات آئے ایمانداری کرنی ہے تاکہ اس کی وجہ سے کسی کی دل آزاری نہ۔

 اپنے عقیدتمندوں سے اسلام کا مطالبہ رہتا ہے کہ انسان اپنے مقاصد کی تکمیل کے دوران نیکی وپارسائی اورسنجیدگی قائم رکھے، لوگوں کوسکھائے اور یہ کہ اپنی کمائی کو لوگوں کی فلاح وبہبود میں لگائے۔ چوتھے خلیفہ حضرت علی رضی اللہ عنہ انصاف پسند، دوسروں کے تئیں مخلص، مساوات کے علمبردار اورہم آہنگی کے رول ماڈل تھے۔ سماجی انصاف کامطلب ہے کہ کھلے دل کے ساتھ لوگوں اور سماج میں مثبت رشتوں کی فراوانی ہو،سماجی انصاف کی گہرائی کو سمجھا جائے اور بلالحاظ دین ومذہب اور اونچ نیچ بھلائی عام کی جائے۔ برابری اور عدم امتیاز ایک ایسا نظام ہے، جسے سماجی انصاف کا نام دیا جاتا ہے جو کسی بھی قانون وضوابط والی مثالی سوسائٹی کیلئے اہمہے۔ سماجی انصاف کا مطلب انسان میں صداقت ہواور سچائی اس کے ہاتھ سے نہ چھوٹے اور یہی اسلام کی بنیاد ہے۔ اللہ تعالی انہیں لوگوں کے ساتھ رہتا ہے جو ایماندار اور انصاف پسند ہوتے ہیں۔ اختصار کے ساتھ ہم اسے یوں کہہ سکتے ہیں کہ انصاف ایک عہد اور ضروری شرط ہے خوشی کیلئے کیونکہ سماجی انصاف اور قناعت لازم وملزوم چیزیں ہیں۔

 

وضاحت نامہ :یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ مضمون کو من و عن شائع کیا گیا ہے ۔ اس میں کسی طرح کا کوئی ردوبدل نہیں کیا گیاہے۔ اس سےوطن سماچار کا کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی جانکاری کیلئے وطن سماچار کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی وطن سماچاراس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے ۔ 


You May Also Like

Notify me when new comments are added.