جدید تکنیکی دور میں اسلام

اس لئے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام میں انسانی برادری کے تمام اقوال وافعال کو ایک بااصول دائرہ میں میں رکھنے اور ٹھیک ٹھاک زندگی گزارنے کا مکمل نظام حیات موجود ہے۔ ایک مذہب کی شکل میں اسلام نے ہمیشہ سے ہی اپنے پیروکاروں کو مذہبی تعلیم کا متلاشی بننے اور دنیا وی تہذیب وضروریات کو تسلیم کرنے کی ترغیب دی ہے۔ مذہبی علم اور دنیاوی تعلیم کے بیچ کبھی کوئی بھیدب بھاؤ اور ٹکراؤنہیں رہا ہے، کیونکہ ان دونوں ہی طرح کے علموں کو حاصل کرنا اللہ تعالیٰ اور اس کے پیغمبرحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کے عین مطابق ہے۔

وطن سماچار ڈیسک

 جدید تکنیکی دور میں اسلام

 

مکرمی!

 

سائنس اور تکنیک کی اہمیت کو آج کوئی مسترد نہیں کرسکتا ہے۔ دنیا کے بیشتر لوگ خواہ وہ تعلیم یافتہ ہوں یا تعلیم سے نابلد، کسی نہ کسی شکل میںسائنسی تکنیکوں کا استعمال کرتے ہیں، لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ سائنس اور تکنیک کے جدید نظریے کو ہم اپنے اسلامی نظریات کے ساتھ کیسے جوڑ سکتے ہیں۔ اسلام میں پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اللہ تعالی کی طرف سے جو پہلی ہدایت آئی وہ تعلیم پر مشتمل تھی، جو اس مذہب کی بنیادی روح ’علم‘ کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ اسلامی ممالک سائنس اور تکنیک کے ذریعہ کس قدر خود کوبدل رہے ہیں۔اسی دوران مذہب اسلام نے یہ بھی بتایا ہے کہ آپ کو کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں کرنا چاہئے۔

 

 

اگر جدید تکنیک کے استعمال کے دوران کچھ لوگ اس کے ذریعہ طبقاتی کشمکش پیدا کرتے ہیں یا انسان سے انسان میں دوری پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیںتب ہمیں چوکنا ہوکر وہی چیز لینی ہے جو پرامن اسلام نے ہمیں سکھائی اور بتائی ہیں۔

 

 

اسلام کو ہمیشہ سے ہی انسانیت کے سامنے ایک ایسے مذہب کے طور پر مانا جاتا ہے جس میں زندگی گزارنے کی تمام چیزیں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ اس میں روحانی، اقتصادی، سماجی، عدالتی اور سیاسی مضامین سمیت زندگی کے ہر شعبے کیلئے ضابطے اور ہدایات شامل ہیں۔

 

اس لئے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام میں انسانی برادری کے تمام اقوال وافعال کو ایک بااصول دائرہ میں میں رکھنے اور ٹھیک ٹھاک زندگی گزارنے کا مکمل نظام حیات موجود ہے۔ ایک مذہب کی شکل میں اسلام نے ہمیشہ سے ہی اپنے پیروکاروں کو مذہبی تعلیم کا متلاشی بننے اور دنیا وی تہذیب وضروریات کو تسلیم کرنے کی ترغیب دی ہے۔ مذہبی علم اور دنیاوی تعلیم کے بیچ کبھی کوئی بھیدب بھاؤ اور ٹکراؤنہیں رہا ہے، کیونکہ ان دونوں ہی طرح کے علموں کو حاصل کرنا اللہ تعالیٰ اور اس کے پیغمبرحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کے عین مطابق ہے۔

 

 

 

تکنیک کے حقیقی استعمال کا معاملہ یہ ہے کہ آج کل ہر ایک شخص اپنی مذہبی اور دنیاوی ضرورتوں کی تکمیل کیلئے اسمارٹ فون کا استعمال کرتا ہے اور مسلمان بھی اس میں پیچھے نہیں ہیں، مثال کے طور پر مسلمان اپنے آس پاس موجود مساجد اور اسلامی مراکز کا پتہ لگانے کیلئے جی پی ایس ٹریکنگ اور لوکیشن سے متعلقہ اپلی کیشن کا استعمال کرتے ہیں،بہت سی ویب سائٹس ہیں جو قرآن کریم کے استعمال کیلئے پوری طرح کی ہدایات دیتی ہیں۔ مگر اسی بیچ ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ مذہب کو اپنے مفاد کیلئے اپنے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ لوگ اسلام کے صحیح پیروکاروں اور اسلام کے حقیقی علم کے ماہرین پر خو دکو برتربتانے کیلئے سوشل میڈیا پر ایسی چیزیں بھی ڈالتے ہیں جو سماج میں دراڑ پیدا کرتی ہیں۔ ایسے میں نوجوانوں کو ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر ان نا پختہ لوگوں کی باتوں کو رد کریں اوراسلام کے حقیقی جانکاروںسے رجوع کریں۔ آج سوشل میڈیا پر نفرت کی تبلیغ، تشدد پسندی اور زہریلی باتیں آتی ہیں اس لئے ان پر بحث ومباحثہ کی بجائے اس کو فوری مسترد کردینا چاہئے۔

 

عبداللہ

گلی قاسم جان، بلی ماران، دہلی ۔6

 

وضاحت نامہ:۔یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ مضمون کو من و عن شائع کیا گیا ہے۔ اس میں کسی طرح کا کوئی ردوبدل نہیں کیا گیاہے۔ اس سے وطن سماچار کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی جانکاری کیلئے وطن سماچار کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی وطن سماچاراس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے۔


You May Also Like

Notify me when new comments are added.