مذہب

فکر وخیالات

مدیر کی قلم سے

Poll

Should the visiting hours be shifted from the existing 10:00 am - 11:00 am to 3:00 pm - 4:00 pm on all working days?

SUBSCRIBE LATEST NEWS VIA EMAIL

Enter your email address to subscribe and receive notifications of latest News by email.

کیا مسلمانوں کو تشدد کیلئے اکسا رہی ہے اویسی کی پارٹی ؟

سینٹرل وِسٹاپروجیکٹ مودی محل کے لیے مساجد قربان نہیں کی جاسکتی: مجلس کا الزام وقف بورڈ کو اس وقت ہوش آیا ہے جب خطرہ سر پر آگیا ہے،وزیر اعظم کو خط لکھنے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں،دہلی حکومت کو اپناموقف واضح کرنا چاہیے۔کلیم الحفیظ

وطن سماچار ڈیسک

کیا مسلمانوں کو تشدد کیلئے اکسا رہی ہے اویسی کی پارٹی ؟

سینٹرل وِسٹاپروجیکٹ مودی محل کے لیے مساجد قربان نہیں کی جاسکتی: مجلس کا الزام 

وقف بورڈ کو اس وقت ہوش آیا ہے جب خطرہ سر پر آگیا ہے،وزیر اعظم کو خط لکھنے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں،دہلی حکومت کو اپناموقف واضح کرنا چاہیے۔کلیم الحفیظ

 

نئی دہلی:سینٹرل وِسٹاپروجیکٹ جسے مودی محل کہنا زیادہ مناسب ہو گا اس کے لیے مساجد قربان نہیں کی جاسکتیں۔اس طرح کا الزام اسد الدین اویسی کی پارٹی مجلس نے لگایاہے۔ مجلس کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہاگیا ہے کہ وقف بورڈ اس وقت ہوش میں آیا ہے جب خطرہ سر پر آگیا ہے۔اس کے باوجود وقف بورڈ کے چیرمین نے صرف وزیر اعظم کو خط لکھ کر سمجھ لیا ہے کہ فرض ادا ہوگیا ہے۔وقف بورڈ کے ساتھ ساتھ دہلی حکومت کی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنا موقف واضح کرے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا خود مجلس کے سربراہ اویسی نے اس سلسلے میں وزیراعظم کو خط لکھا؟ کیا انہوںنے سرکار سے مجوزہ نقشہ طلب کیا؟ کیا انہوںنے سرکار سے بات چیت کی کہ میڈیا میں آنے والی افواہوں کےبارے میں سرکار کا کیا موقف ہے؟

 

جبکہ ضابطہ گنج کی مسجد کے امام اسد فلاحی کا بیان آچکا ہے کہ انہوںنے سرکار سے اپنی مسجد کے سلسلہ میں نقشہ حاصل کرلیا ہے اور کسی بھی طرح سے مسجد کو نقصان نہیں پہونچایا جارہا ہے۔اب اس کے باوجود اس طرح کی خبروں کو ہوا دینا کیا سماج کو ترقی سے موڑ کر تشدد کی جانب نہیں لے کر جانا ہے؟ کیا بقیہ دونوں مساجد کیلئے اویسی کی پارٹی کوئی پیش رفت کرے گی یا صرف پریس ریلیز جاری کرکے اپنا فرض ادا کردے گی یہ تو آنے والا وقت بتائے گا؟

 

تاہم صدر مجلس کلیم الحفیظ نے کہا کہ اول تو  سینٹرل وسٹا پروجیکٹ ہی نہیں بننا چاہئے لیکن قدیم اور تاریخی مساجد کو منہدم کرکے تو کبھی نہیں۔دہلی کے مسلمان کسی بھی قیمت پر اپنی مساجد کی حفاظت کریں گے اول تو مرکزی حکومت کو سینٹرل وسٹا پروجیکٹ کا نقشہ عام کرنا چاہئے تھا۔اگر اس نے نہیں کیا تھا تو یہ دہلی وقف بورڈ کی ذمہ داری تھی کہ اس نقشے کو حاصل کرتا اور اس کا تفصیلی مطالعہ کرتا،ابھی بھی وقف بورڈ کو صحیح صورت حال معلوم نہیں ہے اور ہوا میں تیر چلایا جارہا ہے۔کلیم الحفیظ نے کہا کہ یہ بہت اہمیت کا حامل ایشو ہے۔مساجد مسلمانوں کی شناخت ہی نہیں ان کی زندگی کا محور ہیں ایسے معاملات میں خط لکھنے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے،وقف بورڈ کو فوراً کورٹ پہنچنا چاہئے۔کلیم الحفیظ نے کہا کہ دہلی کی عآپ حکومت کو مسلمانوں نے اپنا سو فیصدووٹ دیا تھامگر حکومت ان کے ساتھ سو فیصد بے وفائی کررہی ہے۔اس معاملے میں دہلی سرکار کو اپنی ذمہ داری نبھانا چاہئے اور مسلم ممبران اسمبلی کو کھل کر اپنی سرکار سے کہنا چاہئے۔کرشی بھون،سنہری باغ والی مسج،انڈیا گیٹ اور نائب صدر جمہوریہ رہائش گاہ مساجد کی اپنی ایک تاریخی حیثیت ہے۔ان کو ہٹانے اور گرانے کا خیال بھی کسی کے دل میں نہیں آنا چاہئے۔یہ مساجد ہمیشہ محفوظ رہی ہیں امید ہے کہ آیندہ بھی محفوظ رہے گی۔دہلی کے مسلمان اپنی جان دے کر بھی ان مساجد کو بچائیں گے۔صدر مجلس نے کہا کہ اس سلسلے میں وقف بورڈ اور دہلی حکومت کو جلد از جلد اپنا موقف اور پالیسی واضح کرنا چاہئے۔دہلی مجلس قطعاً خاموش نہیں رہے گی۔اس کے وابستگان اللہ کے گھر کی حفاظت کے لیے ہر ضروری اقدام کریں گے۔کلیم الحفیظ نے سوال کیا کہ کیجریوال کس منھ سے مسلمانوں کا سامنا کریں گے،انھوں نے دہلی فساد میں مظلوموں کی داد رسی نہیں کی،انھوں نے کووڈ میں تبلیغی جماعت کو بدنام کیا اور اب دہلی کی مساجد پر خاموش ہیں،آخر وہ صاف صاف کیوں نہیں کہہ دیتے کہ مسلمانوں کی ان کی نظر کوئی حیثیت نہیں۔افسوس ہے کہ ہم انھیں مسیحا سمجھتے رہے اور وہ ہماری پیٹھ میں خنجر گھونپتے رہے۔اب دہلی کی جنتا سمجھ چکی ہے۔جس کا نتیجہ انھیں دہلی کے کارپوریشن الیکشن میں دکھائی دے جائے گا۔

 

 

 

 

You May Also Like

Notify me when new comments are added.