بنے رہیں گے ہند ایران تعلقات

بھارت ایران کا قدیم پڑوسی ملک ہے، 1947 تک دونوں کی سرحدیں ملتی تھیں ۔ آرینس سے مغل دور تک جو بھی بھارت آئے فارس کی تہذیب و ثقافت، زبان و ادب، سماجی اقدار و روایات، موسیقی یہاں تک کہ فن تعمیر بھی اپنے ساتھ لائے ۔ جس نے ہندوستانی سماج پر گہرے اثرات مرتب کئے، ان کا پر تو آج بھی دیکھا جا سکتا ہے ۔ ہند ایران کے یہ تاریخی و تہذیبی رشتے آپس میں گتھے ہوئے ہیں ۔ انہیں الگ کرنا آسان نہیں ہے مثلاً فارسی کو باکمال بنانے میں سنسکرت نے اہم رول ادا کیا ۔ تو فارسی عرصہ تک بھارت کی سرکاری زبان رہی ۔ رامائن جیسی مذہبی کتاب میں بھی 250 سے زیادہ فارسی الفاظ استعمال ہوئے ہیں ۔ صوفیاء کرام ہند اور ایران میں یکساں طور پر قابل احترام ہیں ۔ خواجہ اجمیری، حضرت نظام الدین محبوب الہیٰ، بختیار کاکی، صابر کلیری، بابا فرید، امیر خسرو وغیرہ کی مقبولیت ایران میں بھارت سے کم نہیں ہے ۔ دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات نے کئی اتار چڑھاؤ دیکھے، مگر ان کے درمیان ساتھ، اشتراک اور تہذیب و ثقافت کی مشترکہ وراثت نے کبھی تلخی نہیں آنے دی ۔ بھارت کو ایران پر بھروسہ رہا ہے کہ مصیبت کی گھڑی میں وہ اسے تنہا نہیں چھوڑے گا ۔ اسی طرح ایران بھارت پر اعتماد رکھتا ہے کہ وقت پڑنے پر وہ اس کے ساتھ کھڑا رہے گا ۔

گیسٹ کالم

بنے رہیں گے ہند ایران تعلقات 

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی 

 

بھارت ایران کا قدیم پڑوسی ملک ہے، 1947 تک دونوں کی سرحدیں ملتی تھیں ۔ آرینس سے مغل دور تک جو بھی بھارت آئے فارس کی تہذیب و ثقافت، زبان و ادب، سماجی اقدار و روایات، موسیقی یہاں تک کہ فن تعمیر بھی اپنے ساتھ لائے ۔ جس نے ہندوستانی سماج پر گہرے اثرات مرتب کئے، ان کا پر تو آج بھی دیکھا جا سکتا ہے ۔ ہند ایران کے یہ تاریخی و تہذیبی رشتے آپس میں گتھے ہوئے ہیں ۔ انہیں الگ کرنا آسان نہیں ہے مثلاً فارسی کو باکمال بنانے میں سنسکرت نے اہم رول ادا کیا ۔ تو فارسی عرصہ تک بھارت کی سرکاری زبان رہی ۔ رامائن جیسی مذہبی کتاب میں بھی 250 سے زیادہ فارسی الفاظ استعمال ہوئے ہیں ۔ صوفیاء کرام ہند اور ایران میں یکساں طور پر قابل احترام ہیں ۔ خواجہ اجمیری، حضرت نظام الدین محبوب الہیٰ، بختیار کاکی، صابر کلیری، بابا فرید، امیر خسرو وغیرہ کی مقبولیت ایران میں بھارت سے کم نہیں ہے ۔ دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات نے کئی اتار چڑھاؤ دیکھے، مگر ان کے درمیان ساتھ، اشتراک اور تہذیب و ثقافت کی مشترکہ وراثت نے کبھی تلخی نہیں آنے دی ۔ بھارت کو ایران پر بھروسہ رہا ہے کہ مصیبت کی گھڑی میں وہ اسے تنہا نہیں چھوڑے گا ۔ اسی طرح ایران بھارت پر اعتماد رکھتا ہے کہ وقت پڑنے پر وہ اس کے ساتھ کھڑا رہے گا ۔ 

 

چابہار زاہدان ریلوے لائن اور فرزاد ۔ بی گیس فیلڈ کو ایران نے خود ڈولپ کرنے کا فیصلہ کیا، تو میڈیا نے اسے  ایران کے ذریعہ بھارت کو ان منصوبوں سے الگ کرنے کے طور پر رپورٹ کیا ۔ اس میں جین کی سازش ہونے کا امکان بھی تلاش کیا گیا ۔ پورٹ اینڈ میریٹایم کے افسر فرحت منتشر نے ایرانی نیوز ایجنسی ارنا کو بتایا کہ بھارت کے ساتھ دو چیزوں پر معاہدہ ہوا تھا پہلا چابہار پورٹ کو ڈولپ کرنے کا اور دوسرا 15 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کا ۔ انہوں نے کہا کہ ریل پروجیکٹ پر بھارت کے ساتھ کوئی قرار ہی نہیں ہوا تھا ۔ وفد میں کئی سرمایہ کار آئے ان میں سے ایک ریلوے کے لئے بھی آیا تھا یہ چابہار پروجیکٹ کا حصہ نہیں تھا ۔ ایران نے بھارت کو چابہار سے الگ کرنے کی خبر کی تردید کی ہے ۔ بھارت نے بھی اسے اٹکل بازی بتایا ہے لیکن ایران نے یہ بھی نہیں کہا کہ بھارت یہ پروجیکٹ کرے گا ہی ۔ ویسے حکومت ہند فرزاد ۔ بی گیس فیلڈ پروجیکٹ سے او این جی سی کے الگ ہونے کی تصدیق کر چکی ہے ۔ 

 

فرزاد ۔ بی گیس فیلڈ کا معاہدہ کرنے کی بھارت 2009 سے کوشش کر رہا تھا ۔ خلیج فارس میں واقع ایران کا یہ گیس پروجیکٹ کافی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے ۔ اس میں 21.7 ٹرلین کیوبک فٹ قدرتی گیس ہے ۔ با ظاہر یہ گیس پروجیکٹ ہے مگر اس کے معاہدہ میں توانائی، انفرا اسٹرکچر، صنعت اور تکنیک کے شعبہ میں مل کر کام کرنے کی بات بھی شامل ہے ۔ معاہدہ کو با غور پڑھنے سے مزید امکانات کا اندازہ ہو سکتا ہے ۔ اس وقت ملک میں سالانہ 38.8 ملین ٹن Liquefied natural gas (ایل این جی) کی کھپت ہے ۔ پیٹرولیم وزیر دھرمیندر پردھان نے اکتوبر 2019 میں بتایا تھا کہ ملک میں قدرتی گیس کی کھپت 6.2 فیصد ہے جسے 2030 تک دوگنا کرنے کا منصوبہ ہے ۔ وہیں بھارت ایل پی جی گیس درآمد کرنے والا دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے ۔ اس لحاظ سے بھی بھارت کے لئے ایران کے گیس پروجیکٹ سے جڑنا ضروری ہے ۔ 

 

ایران کے جنوب مشرق میں خلیج عمان کے ساحل پر واقع چابہار ایک خوبصورت شہر ہے ۔ یہ پاکستان میں چین کے تعاون سے بن رہے گوادر پورٹ سے قریب سو کلومیٹر اور بھارت کے کاندلہ بندرگاہ سے ساڑھے چھ سو میل دور ہے ۔ 2002 میں ایرانی حکومت نے چابہار پورٹ کو جہاز رانی کے لئے ڈولپ کرنے اور چابہار شہر کو ڈیوٹی فری شہر کی شکل دینے کا منصوبہ بنایا ۔ تو بھارت سرکار نے اس میں اپنی دلچسپی کا مظاہرہ کیا ۔ اسے لگا کہ وسطی ایشیا اور افغانستان تک اس کی رسائی آسان ہو جائے گی ۔ 2003 میں اس وقت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی اور ایران کے صدر محمد خاتمی نے چابہار کو لے کر معاہدہ کیا ۔ اسی سال ایران کے صدر یوم جمہوریہ کی پریڈ میں بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے ۔ مگر یہ معاہدہ ایران پر اقتصادی اور معاشی پابندیاں عائد ہونے کی وجہ سے آگے نہیں بڑھ سکا ۔ مگر جب 2015 میں پانچ ممالک نے ایران سے نیوکلیائی معاہدہ کیا اور اس پر سے پابندیاں ہٹیں تو 2016 میں بھارت، ایران اور افغانستان نے چابہار سے زاہدان تک 628 کلومیٹر کے راستہ پر ریلوے لائن بچھانے کے سہ فریقی معاہدہ پر دستخط کئے ۔ سینئر صحافی شکیل شمسی کے مطابق اس موقع پر وزیراعظم نریندر مودی نے چابہار بندرگاہ کی تعمیر و توسیع اور ریلوے لائن بچھانے کے علاوہ 300 ایکڑ میں ایک مشترکہ بازار "ایران انڈیا پارک" بنانے کا معاہدہ بھی کیا تھا ۔ ریل کی پٹریاں بچھانے کی ذمہ داری ریلوے کے بین الاقوامی پروجیکٹ میں مہارت رکھنے والی ہندوستانی کمپنی ارکان انٹرنیشنل کو دی گئی تھی ۔ یہ پروجیکٹ 1.6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے 2022 تک پورا کیا جانا تھا ۔ 

 

ڈونالڈ ٹرمپ نے اقتدار میں آنے کے بعد ایران پر دوبارہ اقتصادی پابندیاں لگا دیں ۔ جرمنی اور فرانس جیسے ممالک نے ٹرمپ کے فیصلہ پر اعتراض تو کیا مگر ایران کے ساتھ کاروباری تعلقات کو آگے نہیں بڑھایا ۔ ایران کو اپنے ایشیائی پارٹنرز بھارت، ساوتھ کوریا اور جاپان جیسے ممالک سے بڑی امید تھی کہ وہ اس کی معیشت کو بچا لیں گے ۔ لیکن یہ ممالک امریکہ کے بھی پارٹنر ہیں اس کے دباؤ میں انہوں نے بھی ایران سے فاصلہ بنا لیا ۔ حالانکہ چابہار پروجیکٹ کو ان پابندیوں سے الگ رکھا گیا تھا ۔ مگر مودی ٹرمپ کی دوستی سے ہند ایران کے صدیوں پرانے رشتوں پر آنچ آئی ۔  یہ نریندر مودی کی بدلتی خارجی پالیسی کا نیا رنگ ہے ۔ امریکی دباؤ میں بھارت نے نہ صرف ایران سے تیل، یوریا لینا بند کر دیا بلکہ اس نے وہاں سرمایہ کاری بھی نہیں کی ۔ شاید بھارت کی سردمہری کی وجہ سے ہی ایران کو خود ریلوے لائن بچھانے کا کام شروع کرنا پڑا ۔ جبکہ ایران بھارت میں کچے تیل کا تیسرا سب سے بڑا سپلائر تھا وہاں سے تیل خریدنا بھارت کو سستا بھی پڑتا تھا ۔ پھر ایران نے بھارت کو انڈین کرنسی میں بھگتان کی سہولت بھی دے رکھی تھی ۔ 2019 میں ایران کے وزیر خارجہ جاوید ظارف نے کہا تھا کہ ہم نے سوچا تھا کہ ہمارا دوست بھارت امریکی پابندیوں کے خلاف ہمارا ساتھ دیگا لیکن شاید بھارت امریکہ کو ناراض نہیں کرنا چاہتا ۔ 

 

وہیں دوسری طرف چین ہے جس کے ساتھ ایران کے رشتوں کی شروعات 1971 میں ہوئی ۔ اس وقت ایران میں شاہ کی حکومت تھی ۔ امریکہ کے ساتھ بھی رشتے ٹھیک تھے ۔ 1979 میں جب اسلامی انقلاب آیا تو ایران مغربی ممالک سے دور ہو گیا ۔ ادھر چین کے صدر ماؤ زیڈونگ اپنی پالیسیوں کی وجہ سے مغرب سے دور تھے لہٰذا دونوں ساتھ آگئے ۔ 16 جنوری 2016 کو ایران سے اقتصادی پابندیاں ختم ہوئیں، اس کے محض ایک ہفتہ کے اندر 24 جنوری کو چین کے صدر جنپنگ ایران پہنچ گئے ۔چین کا کوئی صدر چودہ سال بعد ایران پہنچا تھا ۔ ان کی آمد پر ایران کے ساتھ17 معاہدے ہوئے، دونوں کے درمیان ایک دہائی میں آپس کا کاروبار بڑھا کر 45 لاکھ کروڑ تک لے جانے کا فیصلہ ہوا ۔ اس وقت چین نے اقتصادی اور سیکورٹی پارٹنر شپ کی تجویز بھی رکھی تھی جس پر ایران نے کوئی خاص توجہ نہیں دی ۔ مگر 400 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے 25 سال کے لئے ہوئے تازه قرار میں اسے منظور کئے جانے کی خبر ہے ۔ اس معاہدہ کے تحت چین اور ایران کی فوجیں ساتھ میں فوجی مشق کریں گی ۔ ہتھیار بنانے اور فوجی خفیہ معلومات بھی دونوں ممالک آپس میں شیئر کریں گے ۔ بینکنگ، بندرگاہ اور ریلوے بھی اس قرار میں شامل ہے ۔ اس کے بدلے ایران چین کو سستے ریٹ میں تیل اور گیس فراہم کرے گا ۔

 

ایران میں چین کو لے کر عام ناراضگی پائی جاتی ہے ۔ وہاں کا بڑا طبقہ ایران میں کورونا پھیلنے کے لئے چین کے کام گاروں کو ذمہ دار مانتا ہے ۔ دوسرے ملک کے وسائل کو سستی قیمت میں چین کو دینے کی مخالفت ہو رہی ہے ۔ تیسرے چین کی وسعت پسندانہ پالیسی کو وہاں کے لوگ ملک کے لئے خطرہ مان رہے ہیں ۔ ایران میں چین کی موجودگی بھارت کے حق میں نہیں ہے ۔ ایران میں چین کے اثرات بڑھنے سے سینٹرل ایشیا اور افغانستان ہماری رسائی میں دشواریاں پیدا ہو سکتی ہیں ۔ اس لئے بھارت کو غور کرنا چاہئے کہ امریکہ کی دوستی ایران جیسے پرانے بھروسہ مند دوست کی قیمت پر مل رہی ہے ۔ اس دوستی کی وجہ سے ہمارا فطری پارٹنر ہم سے دور ہو رہا ہے ۔ جو کسی بھی لحاظ سے مناسب نہیں ہے اس لئے امید ہے حکومت اس طرف پیش رفت کرے گی اور ہمارے رشتے بنے رہیں گے ۔ ایک دوسرے کا ساتھ ہی ہماری طاقت ہے، اس ساتھ کو بنائے رکھنے کے لئے ضرورت ہو تو امریکہ سے بھی بات کرنی چاہئے ۔

 

وضاحت نامہ:۔یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ مضمون کو من و عن شائع کیا گیا ہے۔ اس میں کسی طرح کا کوئی ردوبدل نہیں کیا گیاہے۔ اس سے وطن سماچار کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی جانکاری کیلئے وطن سماچار کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی وطن سماچاراس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے۔ 


You May Also Like

Notify me when new comments are added.