Hindi Urdu

مذہب

فکر وخیالات

مدیر کی قلم سے

Poll

Should the visiting hours be shifted from the existing 10:00 am - 11:00 am to 3:00 pm - 4:00 pm on all working days?

SUBSCRIBE LATEST NEWS VIA EMAIL

Enter your email address to subscribe and receive notifications of latest News by email.

بھارت کا مسلمان اپنے مستقبل کا فیصلہ خود لے

ہم نے کچھ دن پہلے اپنے قارئین کو بتایا تھا کہ اسمبلی انتخابات کے وقت ٹکٹوں کی تقسیم کیلئے جب عام آدمی پارٹی کی سب سے پاور فل باڈی ’پی اے سی ‘ میں یہ تجویز رکھی گئی تھی کہ روٹین سے ہٹ کر پارٹی کو پانچ کی جگہ سات مسلم امیدواروں کو اسمبلی انتخابات کے لئے میدان میں اتارنا چاہئے ، اس سے سماج میں اچھا پیغام بھی جائے گا اور مسلمانوں کایقین پارٹی پر مزید گہرا ہوگا۔

وطن سماچار ڈیسک
فائل فوٹو

نئی دہلی :دہلی پردیش کانگریس کی صدر شیلا دکشت کی بار بار یقین دہانیوں اور کانگریس پارٹی کے دہلی کے چار چوٹی کے مسلم لیڈران کے ذریعہ کانگریس صدر راہل گاندھی کو کسی ایک مسلم کو امیدوار بنانے کو لے کر مکتوب لکھے جانے کے بعدبھی کانگریس کی طرف ملک کی راجدھانی دہلی میں کسی مسلم کو امیدوار نہ بنائے جانے سے بہت سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ لوگ یہ پوچھ رہے ہیں کہ ایسے وقت میں جبکہ کانگریس اپنے سب سے خراب سیاسی دور سے گذر رہی ہے اس کے باوجود وہ مسلمانوں کو اہمیت دینے کو تیار نہیں ہے تو پھر اہمیت کب دے گی؟لوگ یہ پوچھ رہے ہیں کہ بھارت کا مسلمان کیا صرف ووٹ کی مشین بن کرکے رہے اور وہ اپنے لوگوں کو ایم پی یا ایم ایل اے نہ بنائے ؟اگر مسلمانوں کونظر انداز کرنے کا یہ سلسلہ جاری رہا اور مستقبل قریب میں اگر کانگریس اقتدر میں آجاتی ہے تو بھی اس بات کی کیا گارنٹی ہوگی کہ کسی مسلم کو اہم نمائندگی ملے گی، جیسا کہ ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے کہ آزادی کے بعد کانگریس نے نہ کسی مسلم کو وزیرداخلہ بنایا اور نہ مولانا آزاد کے بعد کسی کو وزیر تعلیم او ر وزیراعظم کا عہدہ تو ویسے ہی مسلمانوں کیلئے اچھوت ہے ، اور سیکولرزم کو بچانے کی ذمہ داری بھی بھارت کے مسلمانوں کے ہی کندھے پر ڈال دی گئی ہے۔

modi_shiela.jpg
گوگل کے شکریہ کیساتھ
قارئین کو بتادیں کہ کانگریس صدر شیلادکشت نے یقین دہانی کرائی تھی کہ اگر دہلی میں اتحاد نہیں ہوتا ہے تو پھر کانگریس کسی مسلم کو امیدوار ضرور بنائے گی ، یہ شرط اس لئے بے معنیٰ تھی کہ کانگریس اگر مضبوط پوزیشن میں نہیں ہوگی تو مسلمانوں کا اعتماد حاصل کرنے کے لئے وہ کسی مسلمان کو دہلی سے ٹکٹ دے گی ، لیکن اگر مضبوط پوزیشن میں ہوگی تو اسے صرف خیرات میں ہی مسلمانوں کا ووٹ چاہئے ہوگا، اب سوال پھر یہی اٹھتا ہے کہ کیا بھارت کا مسلمان صرف ووٹ کی مشین ہے یا اس کے اپنے بھی کچھ حقوق ہیں جس کو لیکرکے سنجیدگی سے کوئی کوشش ہونی چاہئے ۔ 

 

دوسری طرف عام آدمی پارٹی جس نے اپنے ساتوں امیدواروں کے ناموں کا اعلان کردیا ہے اور اس میں سے 6نے پرچہ نامزدگی کردی ،لیکن اس میں ایک بھی مسلمان نہیں ہے۔ ایک سال قبل ہوئے راجیہ سبھا کے چناؤ میں بھی عام آدمی پارٹی نے کسی مسلم کو ٹکٹ نہیں دیا تھا۔ اس سے یہ بات صاف ہے کہ عام آدمی پارٹی کے دل میں بھی مسلمانوں کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے اور اسے بھی مسلم ووٹ صرف خیرات میں ہی چاہئے ۔ 

ہم نے کچھ دن پہلے اپنے قارئین کو بتایا تھا کہ اسمبلی انتخابات کے وقت ٹکٹوں کی تقسیم کیلئے جب عام آدمی پارٹی کی سب سے پاور فل باڈی ’پی اے سی ‘ میں یہ تجویز رکھی گئی تھی کہ روٹین سے ہٹ کر پارٹی کو پانچ کی جگہ سات مسلم امیدواروں کو اسمبلی انتخابات کے لئے میدان میں اتارنا چاہئے ، اس سے سماج میں اچھا پیغام بھی جائے گا اور مسلمانوں کایقین پارٹی پر مزید گہرا ہوگا۔ اعداد وشمار کے مطابق صرف سات مسلمان الیکشن جیتنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں بلکہ چودھ اسمبلیوں میں مسلمان بہ آسانی الیکشن جیت سکتے ہیں،اس وقت کیجریوال نے یہی کہاتھا کہ جب مسلمان ووٹ دیے رہے ہیں تو پھر ٹکٹ کی کیا ضرورت ہے اور پارٹی نے بہ مشکل پانچ کو ٹکٹ دیا ، کیجریوال تو اس بات کیلئے بہ ضد تھے کہ صرف چار مسلمانوں کو ٹکٹ دیا جائے۔ 

خبروں کے مطابق کیجریوال سرکا رمیں مسلم بچوں کو اسکالر شپ اسکیم سے کلی طور پر محروم رکھا گیا ہے۔ حج کمیٹی کی فائل پاس کرانے کے لئے وزیر کی جو منتیں کرنی پڑتی ہیں اس کا انداز ہ بھی نہیں لگایاجاسکتا ہے۔ حج ہاؤس کے کام کو سرد بستے میں ڈال دیا گیا ہے اور یہ فائل کیجریوال کے چہیتے وزیر کے ٹیبل پر مہینوں سے پڑی ہوئی ہے۔ حج کمیٹی کی نئے سرے سے تشکیل ہونی تھی ،لیکن وزیر موصوف نے فروری سے ہی اس فائل کو الجھا کر رکھا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ پڑھے لکھے نہیں بلکہ جاہل اور ناخواندہ لوگ ہی مسلمانوں کی امامت کرائیں۔ ایسے میں آپ کانگریس اور عام آدمی پارٹی دونوں کے بارے میں سوچیں اور پھر بی جے پی کے جس خوف کو آپ کے ذہن و دماغ میں ڈال دیا گیا ہے اس کے بارے میں غور کریں اور اپنے مستقبل کا فیصلہ بڑی سنجیدگی سے لیں۔ 

You May Also Like

Notify me when new comments are added.