بریکنگ نیوز

مذہب

فکر وخیالات

مدیر کی قلم سے

Poll

Should the visiting hours be shifted from the existing 10:00 am - 11:00 am to 3:00 pm - 4:00 pm on all working days?

SUBSCRIBE LATEST NEWS VIA EMAIL

Enter your email address to subscribe and receive notifications of latest News by email.

امپار نے محرم گائیڈ لائن جاری کی: جانئے اس میں کیا کچھ ہے

کورونا کے پھیلاؤ کے امکان کو دور کرنے کی کوشش ہی امام حسین (انسانیت کا نجات دہندہ اور شہداء کا فخر)کو بہترین خراج عقید ت ہو گی: امپار

وطن سماچار ڈیسک
فائل فوٹو

امپار نے محرم گائیڈ لائن جاری کی
 کورونا کے پھیلاؤ کے امکان کو دور کرنے کی کوشش ہی امام حسین  (انسانیت کا نجات دہندہ اور شہداء کا فخر)کو بہترین خراج عقید ت ہو گی: امپار


نئی دہلی: عید اور عید الاضحی کی طرح ہی انڈین مسلمس فار پروگریس اینڈ ریفارمس (آئی ایم پی اےآر) نے ماہ محرم کے مقدس موقع پر جاری کردہ رہنما خطوط میں کہا ہے کہ یہ مہینہ معاشرے کے ایک بڑے طبقے کےلئےانتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ امپار نے محرم کے لئے جاری رہنما خطوط میں کہا گیا ہے کہ اس مقدس مہینے میں لوگوں کو عید اور عید الاضحی کی طرح اس بات کا پوری طرح خیال رکھنا چاہئے کہ اس عالمی وبا کی کسی گائیڈ لائن کی خلاف ورزی نہ ہو اور مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے ذریعہ جاری گائیڈ لائن کے مطابق ہی اس مقدس مہینے کے مذہبی پروگراموں کا اہتمام کیا جائے ۔

 


امپار نے میڈیا کو جاری ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ یہ رہنما خطوط ماہرین ،ملی رہنماؤں ، علمائے کرام ، ماہرین صحت اور کمیونٹی اسٹیک ہولڈرز کے مقامی و عالمی خیالات اور مشورے سے تیار کیے گئے ہیں۔ امپار نے کہا ہے کہ وہ یہ تسلیم کرتا ہے کہ تمام برادریوں کے لئے اپنی تقریبات اور تہواروں پر پابندی عائد کرنا ایک چیلنج ہے ، لیکن یہ ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس وائرس کی روک تھام میں اپنا کردار ادا کرے۔

 


امپار نے کہا ہے کہ محرم کے دوران عوامی مشاہدات وپروگرام کے لئے زور دینے والے افراد کو یہ سوچنا ہوگا کہ اگر محرم کے بعد کورونا پھیلتا ہے (اللہ نہ کرے ایسا کبھی بھی ہو) تو اس کی ذمہ داری کون قبول کرے گا؟ کیا یہ لوگ لینے کو تیار ہیں؟ امپار نے آیت اللہ سیستانی صاحب کے اس حکم کی کلی تائید کی ہے جس میں انہوںنے کہاہے کہ رواں سال کے غیرمعمولی حالات میں لوگوں کو ذاتی طور پر محرم کا خیال رکھنا چاہئے اور آن لائن مجالس اور دیگر تقریبات کا اہتمام کرنا چاہئے۔

 


امپار نے کہا ہے کہ کچھ لوگوں نے اپنی سیاست چمکانے کی کوشش میں پورے معاشرے کو خطرہ میں ڈال دیا ہے ، ہمیں ان سے ہوشیار اور محتاط رہنا ہوگا۔ انہوں نے کورونا دور غریبوں کی پرواہ نہیں کی ، جبکہ ٹوکن ازم کے مقابلے میں سب کی حفاظت اور بہبود کو ترجیح دی جانی چاہئے۔ انسانی زندگی کو باقاعدہ رسوم و رواج سے کہیں زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ ہم کسی ایک کی زندگی کو خطرہ میں نہیں ڈال سکتے۔ ہر زندگی کی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔امپار کا خیال ہے کہ اس وبا کے دوران حفاظت اور احتیاطی تدابیر معاشرے اور قوم کی فلاح و بہبود کے لئے بہت اہم ہیں۔ ہمیں ملک کے ایک فرد ،برادری اور ذمہ دار شہری کی حیثیت سے حکومت کی گائڈ لائن کا احترام کرنا چاہئے ۔تمام احتیاطی تدابیر - امام حسین - انسانیت کا نجات دہندہ اور شہداء کے فخر کو بہترین خراج عقیدت ہوگا۔ کورونا وائرس کے وبا کی وجہ سے حکومت کی طرف سے عائد پابندیوں کے پیش نظر ، عوامی مفاد میں کچھ ضوابط اور ہدایت ہیں جن کا لوگوں کو احترام کرنا چاہئے ، تاکہ کمیونٹی کو بدنامی سے بچایا جاسکے۔
 براہ کرم اس بات کو یقینی بنائیں کہ مجلس میں حصہ لینے والے عزاداروں کی عمر 20 سے 50 سے متجاوزنہ ہو (اس سے بیمار اور حاملہ مستثنیٰ ہیں ) چھوٹے بچوں والی خواتین کی خصوصی نگہداشت کی ضرورت ہے۔
 میزبان کو یہ یقینی بنانا چاہئے کہ عزاخانہ کے احاطے کے داخلی دروازے پر مندرجہ ذیل حفاظتی اقدامات کیے گئے ہوں۔

 


مجلس میں عزادار لازمی طور پر ماسک پہنیں (منہ اور ناک کو ڈھانپیں)۔ درجہ حرارت کی جانچ ہونی چاہئے اور98.4C سے زیادہ درجہ حرارت والے افراد کو یو ٹیوب پر براہ راست دیکھنا چاہئے۔ ہینڈ سینیٹائزر استعمال کرنا چاہئے۔میزبان کو فرش پر بیٹھنے کے لئے فرش (قالین یا چٹائی نہیں) پر 6 فٹ کے نشان کے ساتھ گولا بنانا ہوگا اورعزادار صرف ان نشان زدہ علاقوں میں بیٹھیں گے۔ فوگنگ سینیٹائزیشن اور اسپرے مجلس سے ایک گھنٹہ پہلے اور مجلس کی تکمیل کے فورا بعد کیا جانا چاہئے۔درجہ حرارت کی جانچ ، ہاتھ اور جگہ کی صفائی مجلس کے میزبان کے ساتھ ہم آہنگی سے کی جانی چاہئے۔عزادار کو ممبر سے کم از کم 10 فٹ دور بیٹھنا چاہئے ، کیونکہ اسپیکر کے منہ سے آنے والی بو قریبی لوگوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ یہی بات قرآن ، دعا ، مرثیہ ، سلام ، زیارت کے لئے بھی ہے نافذ ہوتی ہے ۔ میزبان کو قرآن ، مرثیہ اور سلام کے لئے مزید دو مقامات پر نشان لگانا چاہئے کیونکہ ہر پروگرام کے ختم ہونے کے بعد ہر جگہ کو حفظان صحت کے لائق بنانا ہوگا ، تاکہ ہم بہتر حفظان صحت کے نتائج برآمد ہوسکیں ، مائیک کو دو جگہوں کے درمیان رکھنا ہوگا۔
 میزبان ایک ایسے شخص کی تقرری کرے گا جو دستانے پہن کر مائیک کی نقل و حرکت اور مائیک اور فرش کی صفائی کا ہر پروگرام کے بعد خیال رکھے گا ۔ بولنے والوں کو مائیک کو ہاتھ نہیں لگانا چاہئے۔ یہ بہتر ہوگا کہ مجلس کسی کھلے علاقے میں منعقد کی جائے۔ کسی بھی صورت میں ، چٹائی ، قالین وغیرہ کو فرش پر نہ بچھایا جائے ، کیونکہ ان کا صاف کرنا مشکل عمل ہے ۔ بیٹھنے کیلئے فرش پر یا پلاسٹک کی کرسیوں کو سینیٹائز کرکے استعمال کیا جاسکتا ہے اور بعد میں بھی اس کی صفائی از حد ضروری ہے۔ بھیڑ سے بچنے کے لئے میزبان جوتے چپل کیلئے الگ الگ دروازے سے انٹری دیے سکتا ہے تاکہ کسی کو دقت نہ ہو ۔

 


تبر ک کو صرف بند پیکٹ میں ہی تقسیم کیا جائے ۔بہتر ہوگا کہ نوجوانوں کی خدمات لے کر اسے لوگوں کے گھر پہونچا دیا جائے یا تبرک کے دوران بھیڑ کو روکنے کے لئے الگ الگ داخلی دروازوں پر ہی اسے دے دیا جائے ۔ سبیل کو بند گلاس میں دیا جائے ۔اس کیلئے ایسے گلاس بالکل استعمال نہ کئے جائیں جن کو دوبارہ استعما ل کیا جا سکتا ہو۔ میزبان کو اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ المز، تابوت جیسے مقدس نمونے کو کنٹیکٹ لیس مقامات پر رکھاجائے تاکہ لوگ دور سے بوسہ دے سکیں ۔ اگر کسی عزادار کو کوویڈ 19 کی علامات (جیسے کھانسی اور نزلہ ) پائے جاتے ہیں تو اسے مجلس کو گھر سے لائیودیکھنا چاہئے ۔ مذکورہ سارے عمل کو انجام دینے کے لئے ، میزبان ، عزادار ، اے ای آئی ، آئی ایف آئی اور حسینی کوویڈویریئرس کے مابین انتہائی تعاون کی ضرورت ہے۔ حسینی کوویڈ -19 کے ویریئرس ماسک ، دستانے ضرور پہنیں۔سیاہ پرچم اور امام حسین (ع) کی عزاداری کی دیگر علامتوں کو رات کے وقت عوامی مقامات ، محلوں اور گلیوں میں رکھا جانا چاہئے تاکہ لوگ اگلی صبح آرام سے ایک دوسرے سے سماجی دوری بنائے رکھتے ہوئے اس کی زیارت کر سکیں ۔کوویڈ ۔19 کے خطرات سے لوگوں کو آگاہ کرنے کے لئے بھی ویبنار کے ذریعے پروگرام کئے جاسکتے ہیں ، تاکہ لوگوں کو اس کے بارے میں آگاہ کیا جاسکے۔ یہ معلوم ہونا چاہئے کہ یہ رہنما خطوط امامیہ میڈکس انٹرنیشنل کے ساتھ بات چیت کرکے تیار کیے گئے ہیں۔

 

You May Also Like

Notify me when new comments are added.