حیدرآباد :- بھاگیہ لکشمی مندر سے بھاگیہ نگر تک کتنا جھوٹ کتنا سچ؟

دکن تاریخ کی یہ کتابیں جنوبی بھارت میں سب سے زیادہ مستند مانی جاتی ہیں، بھاگیہ لکشمی مندر نام کا کوئی مندر ان تاریخ کی کتابوں میں موجود نہیں ہے، یوگی آدتیہ ناتھ نے جس مندر کے نام پر حیدرآباد کا نام بدل کر بھاگیہ نگر کی بات کی ہے وہ مندر بھاگیہ لکشمی مندر ہی ہے ، جو ابھی فل حال چار منار کے مشرقی حصہ میں ایک منار کے پاس کونے میں موجودہ ہے، آج تلنگانہ بی جے پی کے لیڈر جو بھاگیہ نگر کی بات کر رہیں ہیں وہ اس مندر کے نام پر ہی کر رہیں ہیں،

وطن سماچار ڈیسک

حیدرآباد :- بھاگیہ لکشمی مندر سے بھاگیہ نگر تک کتنا جھوٹ کتنا سچ؟ 

  عفان نعمانی

 

میرے پاس دکن تاریخ سے جڑی تین کتابیں ہیں،

1. History of the Deccan, Author:- J.D.B. Gribble.

 

2. A Guide To The Heritage Of Hyderabad: The Natural and the Built, Author:- Madhu Vottery.

 

3. The Deodis of Hyderabad- a lost heritage, Author:- Rani Sharma.  

 

 

دکن تاریخ کی یہ کتابیں جنوبی بھارت میں سب سے زیادہ مستند مانی جاتی ہیں، بھاگیہ لکشمی مندر نام کا کوئی مندر ان تاریخ کی کتابوں میں موجود نہیں ہے، یوگی آدتیہ ناتھ نے جس مندر کے نام پر حیدرآباد کا نام بدل کر بھاگیہ  نگر کی بات کی ہے وہ مندر بھاگیہ لکشمی مندر ہی ہے ، جو ابھی فل حال چار منار کے مشرقی حصہ میں ایک منار کے پاس کونے میں موجودہ  ہے، آج تلنگانہ بی جے پی کے لیڈر  جو بھاگیہ نگر کی بات کر رہیں ہیں وہ اس مندر کے نام پر ہی کر رہیں ہیں، 

نہ کہ نواب محمد قلی قطب شاہ کی اہلیہ بھاگیہ متی کے نام پر، کچھ میڈیا اداروں نے نواب محمد قلی قطب شاہ کی اہلیہ بھاگیہ متی سے ہی جوڑکر ایک کہانی تیار کی جسے لوگوں نے بہت شیئر کیا اردو نام والے کچھ لوگوں نے اپنی دادی مانکر خوشی میں شیئر کیا، اور اپنی دادی کے نام پر شہر کا نام رکھنے پر

 بےتابی سے خوشی کا اظہار کیا، اُنھوں نے وہی کیا جو کچھ میڈیا اداروں نے ان کے سامنے پروسا بغیر کچھ کتابوں کے مطالعہ کیے، تاریخ سے جڑی باتیں مستند تاریخ کی کتابوں سے ہی مستند ثابت ہوتی ہیں،  نہ کہ ٹی آر پی کے لئے بے فضول کہانی چلانے سے، بھاگیہ نگر کو لیکر یوگی آدتیہ ناتھ اور تلنگانہ بی جے پی لیڈر کی نواب محمد قلی قطب شاہ کی اہلیہ بھاگیہ متی کے نام پر نہیں بلکہ بھاگیہ لکشمی مندر سے جوڑ کر بھاگیہ نگر بنانے کی بات کو دکن تاریخ سے جڑی اُن سبھی  تاریخ کے کتابوں سے رد کیا جا سکتا ہے، کیونکہ دکن تاریخ میں بھاگیہ لکشمی نام کی کوئی مندر ہی نہیں ہے، ابھی فل حال میں چار منار کے مشرقی حصہ میں جو بھاگیہ لکشمی مندر قائم کیا ہے وہ اسی 20,25 سال کے وقفہ میں ہوا ہے، 

حالانکہ حیدرآباد کے مقامی تیلگو جس کا چار منار کے قریب گھر ہے وہ کہتے ہیں کہ " چار منار کے مشرقی حصہ میں جو بھاگیہ لکشمی مندر قائم کیا ہے وہ اسی 30,40 سال کے وقفے میں ہوا، وہ کہتے ہیں کہ ہم نے بچپن میں کبھی چار منار کے مشرقی حصہ میں بھاگیہ لکشمی مندر نہیں دیکھا ، یہ تلنگانہ بی جے پی لیڈر نے چناؤوی فائدے کے لئے ایک حساس مدہ بنانے کے لئے قائم کیا ہے، پہلے بہت چھوٹا سا تھا اب دھیرے دھیرے بڑا بنایا جا رہا ہے، 

تاریخ میں بھاگیہ لکشمی مندر نہ ہونے کے باوجود فل حال نہ ٹی آر ایس نہ ہی ایم آئی ایم بی جے پی کو جواب دیں پا رہی ہیں، ٹی آر ایس ووٹ بینک کی ڈر سے کچھ نہیں بول رہی ہے، جبکہ بی جے پی لگاتار بھاگیہ لکشمی مندر کے نام پر بھاگیہ نگر بنانے کی بات کر ہندوؤں کا 

 پولرائز کرنے کے لئے متحرک ہے،  ( پیر 20_ 12_7) کے ہی اخباروں میں تلنگانہ بی جے پی صدر اور دیگر بی جے پی لیڈران نے بھاگیہ نگر بنانے کو لیکر ہندوؤں کو ایک ہونے کی بات کی ہے، کہا ہے کہ ہم اقتدار کے قریب ہیں، اقتدار ملتے ہی سب سے پہلے حیدرآباد کا نام بدل کر بھاگیہ نگر کریں گے ، بی جے پی کے دلیل کو تباہ کرنے کا ایک ذریعہ ہے کہ ٹی آر ایس و ایم آئی ایم خود بیان نہ بھی دینا چاہیں تو اچھے تاریخ داں اور میڈیا سے جڑے اچھے اسکالرز کو مدعو کر تاریخ کے حوالے و ثبوت سے بی جے پی لیڈروں کی دلیل کو جھوٹ ثابت کریں، اگر زیادہ دیر ہوئی تو بی جے پی لیڈران جھوٹ قائم کر ہندو ووٹ کا پولرائزیشن کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔

 

وضاحت نامہ:۔یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ مضمون کو من و عن شائع کیا گیا ہے۔ اس میں کسی طرح کا کوئی ردوبدل نہیں کیا گیاہے۔ اس سے وطن سماچار کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی جانکاری کیلئے وطن سماچار کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی وطن سماچاراس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے۔


 

You May Also Like

Notify me when new comments are added.