کیجریوال حکومت میں قید تبلیغی کارکنان کی وطن واپسی کیسے ہوئی ممکن؟

جمعےۃ کے تعاون سے دہلی میں قید تبلیغی کارکنان کی وطن روانگی کا سلسلہ جاری جمعےۃ علماء ہند کے کارکنان دونوں ریاستوں کے متعلقہ ڈی ایم سے اجازت حاصل کرکے ان کو روانہ کرنے میں دن رات مصروف

وطن سماچار ڈیسک

کیجریوال حکومت میں قید تبلیغی کارکنان کی وطن واپسی کیسے ہوئی ممکن؟

 جمعےۃ کے تعاون سے دہلی میں قید تبلیغی کارکنان کی وطن روانگی کا سلسلہ جاری

جمعےۃ علماء ہند کے کارکنان دونوں ریاستوں کے متعلقہ ڈی ایم سے اجازت حاصل کرکے ان کو روانہ کرنے میں دن رات مصروف

نئی دہلی، ۴۱/مئی۰۲۰۲ء

بھلے ہی دہلی سرکار نے تبلیغی جماعت کے کارکنان کو کورنٹائن سینٹر سے چھٹی دینے کا فیصلہ کردیا ہو، مگر ان کے گھر جانے کی راہ اس قدر آسان نہیں ہے۔ایک طرف تو لاک ڈاؤن کی وجہ سے ا ن کے لیے سواری کامسئلہ ہے تو دوسری طرف جس جگہ وہ محبوس ہیں اور جہاں پہنچنا ہے،ان دونوں اضلاع کے ڈی ایم/ ایس ڈی ایم سے اجازت حاصل کرنا پڑتی ہے۔

جمعےۃ علماء ہندکے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کی سرپرستی میں جمعےۃ کا ایک ٹاسک فورس چلچلاتی دھو پ میں گھنٹوں ایس ڈی ایم صاحب کے دفتر کے باہر کھڑے ہو کر یہ اجازت نامہ حاصل کررہا ہے۔گزشتہ شب بدرپور، نیو فرینڈس کالونی، وزیر آباد ا اور دین دیال اپادھیائے مار گ کورینٹائن سینٹر سے تبلیغی کارکنان کو نکالنے میں پوری رات لگ گئی، پھر جماعت کے احباب کو سحری کھلا کر روانہ کیا گیا۔آج دن بھر سلطان پوری، نریلا، دوارکا، وزیر آباداور راؤز اوینو سے جماعت کے احباب روانہ کیے گئے۔جمعےۃ کی ٹیم نے ان کے لیے گاڑی کا نظم کیا اور سفرو صحت سے متعلق اجازت نامے حاصل کرکے ان کے حوالے کئے۔ گجرات کی جماعت کو جب بھیجا گیا تو اس کے لیے گجرات کی حکومت سے آن لائن پرمیشن حاصل کئی گئی، اس درمیان سفر سے متعلق دشواری بھی پیش آئی، ایس ڈی ایم دفتر کے ذریعہ بتایا کہ گیارہ سیٹ والی ایک گاڑی میں صرف پانچ لوگوں کو اجازت ملے گی۔ ظاہر سی بات ہے کہ گجرات کے طویل سفر میں  چار پہیہ کی گاڑی کی مہنگی اجرت چکانی پڑتی ہے، ایسے میں گیارہ سیٹ والی گاڑی پانچ لوگوں کے لیے کافی مہنگی ثابت ہوتی۔اس طرح کی پریشانی کو بھی جمعےۃ علماء کے کارکنان نے حل کرنے کی کوشش کی۔اسی طرح نریلا کورینٹائن سینٹر سے سیتاپور، لکھنو اور مغربی بنگال اور آسام کے احباب کو بھی روانہ کیا گیا۔

 ان تمام امور کی انجام دہی کے لیے جمعےۃ علماء ہند کی ٹیم کی سربراہی مولانا حکیم الدین قاسمی کررہے ہیں۔ ان کے علاوہ مولانا داؤ امینی، مولانا غیور احمد قاسمی،مولانا یسین جہازی، مولانا ضیاء اللہ قاسمی، مولانا عرفان قاسمی، مولانا جمال قاسمی، وعظ امن، مولانا دلشاد سلطانپور ی دہلی، قاری عبدالسمیع، بھائی جاوید،  مولانا رحمت اللہ، حاجی محمد نسیم،مولانا اسجد قاسمی پسونڈہ، حاجی محمد فرمان قریشی، حاجی نادر قریشی وغیرہ کے نام شامل ہیں۔

 

You May Also Like

Notify me when new comments are added.