تعلیمی اداروں میں آن لائن پروگرام پر سرکاری کنٹرول تشویشناک:نصرت علی، مرکزی تعلیمی بورڈ

مرکزی تعلیمی بورڈ کے چیئرمین نصرت علی نے میڈیا کو جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ ”ہم حکومت کے اس فیصلے پر اپنا سخت اعتراض درج کراتے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ کانفرنس، سمینار اور ٹریننگ سے متعلق حکومت کا یہ فیصلہ شہریوں کی بنیادی آزادی پر ایک کھلی پابندی ہے۔اس سے سوشل سائنس پر تازہ ترین افکار تک رسائی اور سائنسی مباحثے میں رکاوٹ پیدا ہوگی۔ ساتھ ہی ان نوجوان نسل کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہوگی جو سماجیات، سائنس اور ٹکنالوجی کا نیا میدان تلاش کرنا چاہتے ہیں، نیزیہ ہماری تعلیمی پیشرفت میں کمی کا باعث بنے گا۔کیونکہ اس فیصلے کی وجہ سے ہم بہترین عالمی مہارت کے حصول سے محروم ہوجائیں گے۔ایک طرف حکومت نے قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے ذریعہیہ عزم کیا ہے کہ ملک کو تعلیمی میدان میں وشو گرو بنائے گی، دوسری جانب اس طرح کا سرکاری کنٹرول ہمارے ملک کی ساکھ اور تحقیقی عمل کو کمزور کرتا ہے۔

وطن سماچار ڈیسک

تعلیمی اداروں میں آن لائن پروگرام پر سرکاری کنٹرول تشویشناک:نصرت علی، مرکزی تعلیمی بورڈ

 

 

 

            نئی دہلی، فروری 24: انٹر نیشنل ویبنار پر اپنا کنٹرول رکھنے کے لئے حکومت کی جانب سے جاری کئے گئے آرڈر پر مرکزی تعلیمی بورڈ، جماعت اسلامی ہند کی جانب سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ آرڈر ملک کے شہریوں کی بنیادی آزادی پر پابندی لگانے کے مترادف ہے جو تعلیمی سرگرمیوں میں کمی کا باعث بنے گا۔اس آرڈر میں سرکارکی مالی اعانت سے چلنے والے تمام تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ کسی بھی آن لائن، ورچوئل بین الاقوامی کانفرنس، سمینار اور ٹریننگ پروگرام وغیرہ کے انعقاد کے لئے حکومت  سے منظوری لے۔

 

 

مرکزی تعلیمی بورڈ کے چیئرمین نصرت علی نے میڈیا کو جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ ”ہم حکومت کے اس فیصلے پر اپنا سخت اعتراض درج کراتے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ کانفرنس، سمینار اور ٹریننگ سے متعلق حکومت کا یہ فیصلہ شہریوں کی بنیادی آزادی پر ایک کھلی پابندی ہے۔اس سے سوشل سائنس پر تازہ ترین افکار تک رسائی اور سائنسی مباحثے میں رکاوٹ پیدا ہوگی۔ ساتھ ہی ان نوجوان نسل کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہوگی جو سماجیات، سائنس اور ٹکنالوجی کا نیا میدان تلاش کرنا چاہتے ہیں، نیزیہ ہماری تعلیمی پیشرفت میں کمی کا باعث بنے گا۔کیونکہ اس فیصلے کی وجہ سے ہم بہترین عالمی مہارت کے حصول سے محروم ہوجائیں گے۔ایک طرف حکومت نے قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے ذریعہیہ عزم کیا ہے کہ ملک کو تعلیمی میدان میں وشو گرو بنائے گی، دوسری جانب اس طرح کا سرکاری کنٹرول ہمارے ملک کی ساکھ اور تحقیقی عمل کو کمزور کرتا ہے۔

 

 

لہٰذا حکومت کو اپنے اس فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہئے اوریونیورسٹیوں کو سیاست اور بیوروکریٹک کنٹرول سے دور رکھنا چاہئے اور اس قبول شدہ حقیقت کو لازمی طور پر اختیار کرنا چاہئے کہ یونیورسٹیاں آئیڈیاز اور نظریات و خیالات کے مسابقے کے لئے ایکبہترین جگہ ہوتی ہیں۔ یہ تعلیمی ادارے تبھی پھلے پھولیں گے جب انہیں آزادی اور عالمی نظریات کے مواقع دیئے جائیں گے۔قابل ذکر ہے کہ مرکزی تعلیمی بورڈ،جماعت اسلامی ہند کا ایک شعبہ ہے جو تعلیم کے میدان میں خدمات انجام دے رہا ہے۔یہ بورڈ مختلف زبانوں میں نصابی کتب تیار کرتا ہے، اساتذہ کے لئے تربیتی پروگراموں کا اہتمام کرتا ہے اور تعلیمی اداروں کی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے مختلف نوعیت کی کوششیں کرتا ہے۔

 

You May Also Like

Notify me when new comments are added.