امپار نے انتہا پسندی کے خلاف عالمی تحریک کا آغاز کیا

ہم تمام ہم خیال افراد سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ امن ، انصاف اور انسانیت کےلئے سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارم کے ذریعے اس تحریک میں شامل ہوں: ڈاکٹر ایم جے خان

وطن سماچار ڈیسک

امپار نے انتہا پسندی کے خلاف عالمی تحریک کا آغاز کیا
ہم تمام ہم خیال افراد سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ امن ، انصاف اور انسانیت کےلئے سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارم کے ذریعے اس تحریک میں شامل ہوں: ڈاکٹر ایم جے خان
 
نئی دہلی : امپار (ہندوستانی مسلمانوں کی ترقی اور ریفارمس کیلئے بنائی گئی تنظیم)نے انتہا پسندی کے خلاف عالمی تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔واضح رہے کہ امپار کی تشکیل ہندوستانی اور ہندوستانی نژاد ایک ہزار سے زیادہ مسلمانوں کے ذریعہ سے کی گئی ہے جو ہندوستانی مسلمانوں کی ترقی اور ریفارمس کیلئے کام کرتی ہے ۔ امپار کے ذریعہ جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ انسانی تہذیب کی ترقی کے لئے امن ضروری ہے ، لیکن اس کے باوجود زمین ذات و مذہب کے نام پر قبائلی برادریوں اور اقوام کے مابین وقتا فوقتا انتہا پسندی اور تشدد کا گواہ بن چکی ہے۔ یہ نفرتیں عدم برداشت اور انتہا پسندی میں اضافے کی وجہ سے پیدا ہوئیں ہیں جو انسانی معاشرے کی پرامن زندگی اور بقائے باہمی کو خطرہ ہیں۔

 

 

 


امپار نے کہا ہے کہ پرامن فضا کیلئے رحم اور رحم دلی کی سب سے زیادوہ ضرورت ہے۔ جب تک لوگوں کے اندر رحم کی صفت کو پروان نہیں چڑھایا جائے گا تب تک پر امن فضا کا مکمل تصور نہیں کیا جاسکتا ہے۔ امپار نے کہا ہے کہ جب سے رواداری کی قدریں پامال ہوئی ہیں اور انسانی ہمدردی کا جنازہ اٹھنے لگا ہے تب سے حالات زیادہ خراب ہوئے ہیں۔ امپار کی جانب سے کہاگیا ہے کہ جب تک اپنے بچوں سے زیادہ اپنے مخالف کے بچوں کو ہم معصوم نہیں سمجھیں گے تب تک ہم امن کا تصور نہیں کرسکتے ہیں ، اس لئے پر امن فضا کیلئے مزید ہمدردی اور افہام و تفہیم کی ضرورت ہے۔ دائیں بازو کی سیاست کے عروج اور جیو پولیٹکس کے کردار اور سوشل میڈیا کے پھیلاؤ نے تشدد اور دہشت گردی کو جنم دیا ہے ، جس سے پرامن بقائے باہمی ایک چیلنج بن گیا ہے۔

 

 


امپار نے کہا کہ اس چیلنج کو بھانپتے ہوئے ، جنیوا کانفرنس میں فروری 2016 میں ، اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے ایک وسیع تر عالمی نقطہ نظر پر زور دیا ، جس میں نہ صرف سلامتی پر مبنی انسداد دہشت گردی کے اقدامات ضروری تھے ، بلکہ تشدد پر قابو پانے کے لئے باقاعدہ احتیاطی اقدامات کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا تھا، جو افراد کو انتہا پسند گروپوں کے ساتھ جڑنے کیلئے اکستاتے ہیں یا ان میں شامل ہونے کی ترغیب دیتے ہیں۔

 

 


امپار نے کہا ہے کہ ہندوستان معاشرتی اور ثقافتی اعتبار سے دنیا کا سب سے متنوع ملک ہے ، جس میں نہ صرف تمام مذاہب کے پیروکار آباد ہیں بلکہ چار بڑے مذاہب کی جڑیں یہاں موجود ہیں۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی 200 ملین کے قریب ہے ، جو دنیا کی دوسری سب سے بڑی اکثریت ہے ۔امپار نے کہاہے کہ ہندوستانی مسلمان دلوں کو جوڑنے والے صوفی پیغامات کے ذریعے کثیرثقافتی معاشرے  میں پرامن بقائے باہمی کی راہ دکھانے کے لئے بہترین اورموزوں ہیں۔

 

 


امپار کے صدر ڈاکٹر ایم جے خان نے کہا ہے کہ تنظیم نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ 10 لاکھ دستخطوں کو جمع کرکے اسے اقوام متحدہ میں پیش کرے گی تاکہ انتہا پسندی کے خلاف عالمی تحریک کامیاب ہوسکے ۔ امپار نے کہا ہے کہ وہ تمام ہم خیال افراد سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ امن ، انصاف اور انسانیت کے لئے سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارم کے ذریعہ اس تحریک میں شامل ہو کر اس کی حمایت کریں۔

You May Also Like

Notify me when new comments are added.