بریکنگ نیوز

مذہب

فکر وخیالات

مدیر کی قلم سے

Poll

Should the visiting hours be shifted from the existing 10:00 am - 11:00 am to 3:00 pm - 4:00 pm on all working days?

SUBSCRIBE LATEST NEWS VIA EMAIL

Enter your email address to subscribe and receive notifications of latest News by email.

میں بند کیا گیامولانا آزاد پورٹل دوبارہ کھولا جائے گا 2013

مولانا آزاد کے 130ویں یوم پیدائش پر اظہار عقیدت مولانا آزاد، جدید ہندوستان کے معمار تھے مولانا آزاد یونیورسٹی میں آزاد میوزیم اور سینٹر قائم کیا جائے گا: فیروز بخت احمد

وطن سماچار ڈیسک

نئی دہلی،11نومبر (پریس ریلیز) آج، مولانا آزاد کے 130ویں یوم ولادت کے موقع پر آئی۔سی۔سی۔آرکی جانب سے منعقد کئے گئے پروگرام میں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے چانسلر جناب فیروزبخت احمد نے اپنی بات یہ افسوس ظاہر کرتے ہوئے میڈیا سے آئے نمائندوں کوبتایا کہ 2013میں جو پورٹل مولانا آزاد کے تعلق سے شروع کیا گیا تھا، وہ محض چند ماہ میں ہی بند کردیا گیا ۔ جب بھی کوئی یہ پورٹل کھولتاتو ، اس میں لکھا ہوا آتا ، ’’یہ پورٹل برائے فروخت ہے۔‘‘ یہ بڑی حیرانی بلکہ افسوسناک پہلو ہے کہ ملک کی ایسی ابقری اور عظیم و ہردلعزیز شخصیت کے ساتھ یہ بھونڈا مذاق کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ مولانا آزاد کی شخصیت ہی کچھ ایسی تھی کہ جس وقت یہ حیات تھے تو مہاتما گاندھی ، پنڈت نہرو اور سردار پٹیل ،جو کہ خود میں ہی بڑی قدآور شخصیات تھیں اور جدوجہد آزادی ہند کے لیے ان کی قربانیاں بھی کم نہیں تھیں، مولانا کے آگے پھیکے پڑجاتے تھے۔ جب کیبنٹ مشن انگلستان سے ہندوستان آیا تو سر اے۔وی۔ الیکزنڈر نے تحریر کیا کہ ہندوستان کی جدوجہد آزادی کے رہنماؤں سے جب انہوں نیبات کی تو پتہ چلا کہ گاندھی جی کا دماغ اگر سائیکل کی رفتار سے دوڑتا تھا تومولانا آزاد کا دماغ ہوائی جہاز کی رفتار سے!

مسٹر بخت نے بتایا اگر چند ہزار کی فیس نہ دیے جانے کی وجہ سے یہ پورٹل بند ہو گیا ہے تو وہ اسے مولانا آزاد قومی اردو یونیورسٹی کے زیراہتمام دوبارہ جاری کرنا چاہیں گے۔ پرانے پورٹل میں مولانا آزاد کی زندگی کے ہر ایک پہلو کے تعلق سے زبردست معلومات فراہم کی گئی تھیں، جن میں مولانا کی وہ تقاریر بھی تھی کہ جس کا حوالہ غالباً پرسار بھارتی ، آل انڈیا ریڈیو اور کسی دیگر ٹی وی چینل پر نہیں ملتا۔ انہی تقاریر میں مولانا آزاد کی 1942کی وہ تقریر بھی تھی کہ جوجامع مسجد کے لال قلعہ کے سامنے اردو پارک پر کی گئی تھی اب کہیں بھی موجود نہیں ہے اور جس میں مختلف مسلم و غیر مسلم تنظیموں نے آزادی ہند کے لیے شانہ بہ شانہ مولانا آزاد اور نیتا جی سبھاش چندر بوس کے نعرے ، ’’تم مجھے خون دو میں تمہیں آزادی دوں گا‘‘کے تعلق سے کافی کچھ کہا گیا اس موقع پر سی۔راج گوپالا چاری سردار پٹیل اور میر مشتاق احمد بھی موجود تھے۔ ۔ اس نئے پورٹل میں ، جوکہ مولانا آزاد قومی اردو یونیورسٹی سے عنقریب جاری کیا جائے گا، اس میں مولانا آزادکی جدوجہد آزادی کے تعلق سے ، وزیراعظم جناب نریندر مودی اور وزارت برائے انسانی وسائل وزیر جناب پرکاش جاوڈیکر صاحب کے پیغامات بھی شامل کئے جائیں گے۔علاوہ ازیں، فیروز بخت نے بتایا کہ ان کے پاس مولاناآزاد کے تعلق سے ان کے پاس کافی اثاثہ جو وہ نہ صرف اس پورٹل کے لیے پیش کریں گے ، بلکہ مولانا آزاد قومی اردو یونیورسٹی میں ایک، ’’مولاناآزاد سینٹر فار پراگریسو اسٹڈیز‘‘ قائم کرکے وہاں ایک بین الاقوامی سطح کا’’مولانا آزاد میوزیم‘‘ بھی قائم کریں گے۔ فیروز بخت نے اس بات پر زور ڈالا کہ محض سال میں مولانا آزاد کی دو برسیاں یعنی یوم ولادت اور یوم وفات پر ان کے مزار پر پھول چڑھا دینے سے ہم ان کی ہندومسلم یگانگی و باہمی ہم آہنگی کی تعلیمات کو مکمل طور پراخذنہیں کر سکتے، بلکہ ہمیں تو اپنی روزمرہ کی زندگی میں بھی ان کے دیے گئے پیغامات کو اپنانا ہوگا۔ 
اس موقع پر معروف کانگریسی سیاست داں اورراجیہ سبھا میں حزب مخالف کے لیڈر جناب غلام نبی آزاد نے کہا کہ آج کے رہنما مولانا آزاد سے ترغیب لیں اور عوام کو آپس میں لڑانے کے بجائے امن، چین، یگانگی اور آپسی بھائی چارے کا سبق دیں۔ انہوں نے مزید یہ کہا کہ وہ مولانا آزاد کو اپنا آئیڈیل مانتے ہیں اور جب بھی وہ کہیں کسی تقریب میں تقریر کرتے ہیں یا دفتر میں ہی بیٹھ کر اپنا کام کرتے ہیں تو ان کے ذہن میں بطور قائد، رہنما، اکابر ملت، اور صحافتی سطون مولانا آزاد کا عکس روشن رہتا ہے اور’’الہلال‘‘ و ’’البلاغ‘‘کی صحافتی عظمت و ایمانداری ان کے لیے مشعل راہ ہے ۔ 
آئی۔سی۔سی۔آر۔ کے ڈائریکٹر محترمہ ریوا گنگولی نے کہا کہ ہندوستان کی مٹّی میں ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی وغیرہ سبھی کا خون پسینہ شامل ہے اور اس ملک کی تاریخ اور بناوٹ ہی ایسی ہے کہ صدیوں سے یہ تمام قومیں مل جُل کر رہتی چلی آئی ہیں۔ مولانا آزاد نے اسی بات کا درس مسلمانانِ ہند کو دیا تھا کہ جب تک آپسی میل جول اور ایک دوسرے کے اُوپر بھروسہ نہیں بڑھے گا، فرقہ واریت کازہر وقتاً فوقتاً بے گناہوں کی جانیں لیتا رہے گا۔
امریکہ میں مقیم اورخاص طورسے اس تقریب کے لیے وہاں سے آئے مولانا آزاد کے پرائیویٹ سکریٹری، جناب اجمل خاں کے بیٹے سلمان خان صاحب نے بتایا کہ وہ مولانا آزاد کی گود میں کھیلے ہوئے ہیں اورعید کے موقع پر مولانا انہیں دس روپے بطور عیدی دیتے تھے جو اس وقت ایک بڑی رقم تھی۔وہ یہ بھی نوٹ کرتے تھے کہ مولانا وزیر اعظم سے ملنے ان کی کوٹھی نہیں جاتے تھے بلکہ پنڈت نہرو ان سے ملنے ، ان کی قیام گاہ چار کنگ ایڈرورڈ روڈ ، نئی دہلی پر آتے تھے اور حد تو یہ کہ کئی مرتبہ انہیں آزاد سے ملنے کے لیے انتظار تک کرنا پڑتا تھا۔ آج کے دور میں شاید ہی کوئی وزیراعظم اپنے وزیر سے ملنے اس کے گھر جاتا ہوً اپنے پیغام میں سلمان صاحب نے کہا کہ 2005سے قبل مزارآزاد مقفل رہتا تھا مگر فیروزبخت صاحب نے کافی کاوشیں کے بعد ایک مقدمہ برائے فلاح عامہ کے تحت نہ صرف وہ قفل کھلوایا بلکہ وہاں پر ایک گارڈ بھی تعینات کروایا تاکہ مزار کے اندر کسی قسم کی غیر قانونی حرکات و سکنات نہ ہوں۔انہوں نے بتایا کہ مولانا آزاد کے مزار پر جو اردو ہندی اور انگریزی کی تختیاں لگائی گئی ہیں، ان کاسہرہ بھی لئے جناب فیروز بخت احمد کی کوششوں کا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مولانا کی آج اہمیت زیادہ ہے کیوں کہ آزادنے ہندوستان کو وہ بنیا د دی تھی بنیاد دی تھی جس بنیاد پر سیکولر جمہوری ہندوستان کی تعمیر ہوئی اور جہاں تک بین مذاہب ہم آہنگی کا تعلق ہے ، اس میں مولانا کا عظیم رول ہے۔ 
اس موقع پر جناب اقبال محمد ملک ، جنرل سکریٹری فرینڈز فارایجوکیشن نے اپنے پیغام میں کہا کہ آج ہندوستان کی یہ عمارت جنونی عناصر کے منفی تحریکات کے نتیجے میں سخت خطرے میں ہے۔ کاش آج مولانا جیسا کوئی موجود ہوتا کہ جو ہندو اور مسلمانوں کو اس مذہبی جنون کے طوفان سے نکالتا اور ایک ایسی راہ پر لے جاتا کہ جہاں دونوں کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے نہ صرف ایودھیا بلکہ دیگرفرقہ وارانا مسائل کا کوئی تعمیری حل نکل آتا۔

You May Also Like

Notify me when new comments are added.