بابری مسجد کا مدعا بھلا کر مسلمان آگے بڑھیں

وطن سماچار ڈیسک

بابری مسجد کا مدعا بھلا کر مسلمان آگے بڑھیں
مکرمی
6 دسمبر 1992کا دن ہندوستانی تاریخ میں بہت سی یادیں سمیٹے ہوئے ہے۔ یہی وہ دن تھا جب کارسیوکوں کے ایک ہجوم نے بابری مسجد کو بزور طاقت شہید کردیا تھا۔ اس بھیڑ کا دعویٰ تھا کہ یہی جگہ بھگوان شری رام کی مقدس جائے پیدائش ہے۔ یہ سانحہ پورے ملک نے کھلی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ بابری مسجد کی شہادت اور اس کے بعد ملک بھر میں رونما ہونیوالے سانحات نے ملکی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو کافی نقصان پہنچا اور بالواسطہ طو رپر دو طبقات ہندؤں اور مسلمانوں کے مابین نفرت کی دیواریں کھڑی ہوگئی تھیں۔ لیکن بھارت کی اکثریت خواہ وہ ہندو ہوں یا مسلمان ’کثرت میں وحدت‘ کے اصول پر قائم رہے ہیںکیونکہ اسی اصول سے پوری دنیا میں ہمارے ملک ہندوستان کی ایک الگ اور ممتاز پہچان بنی ہوئی ہے۔
 بابری مسجد کی شہادت کی تین دہائیاں گزر چکی ہیں اور اب وہ نسل آچکی ہے جو ان ساری چیزوں کو بھول کر خود کی اور دیش کی ترقی کی طرف گامزن ہونا چاہتی ہے۔  اب ایک نئے ہندوستانی دور کا آغاز ہوچکا ہے۔ مسلمان بھی اب اجودھیا تنازع کو بھول کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس تنازع سے ہندؤں اور مسلمانوں دونوں کابڑا نقصان ہوچکاہے۔دونوں میں تفریق پیدا ہوئی تھی جو بڑی مشکل سے ایک راہ پر آئی ہے۔آج دونوں میں فرقہ وارنہ اشتعال انگیزی کو ہوا دینے کی بجائے مصالحانہ طور طریقہ اختیار کرنا چاہئے کیوں کہ اسی میں پورے دیش کے تمام طبقات اور ملک کی بھی بھلائی ہے۔ اس تنازع نے بہت درد دیا اور اب اس تکلیف اور درد کو دہرانا ٹھیک نہیں۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان بابری مسجد اور رام جنم بھومی کے متعلق سپریم کورٹ کے حکم کو پورے دل سے قبول کریں اورماضی کو بھول کرمستقل کی طرف بڑھیں کیونکہ بہت سے لوگ پہلے ہی اس تنازعہ سے برباد ہوچکے ہیں۔
 ملک کی سالمیت اور یکجہتی پر ہرطبقہ کو اوربالخصوص مسلمانوں کو توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ جب تک ہماری نظریں مستقبل پر نہیں ہوگی پرانی یادیں تازہ ہوتی رہیں گی۔ ہندو او رمسلمان دونوں کے ذہنوں سے وہ یادیں کھرچ دینی چاہئیں اور مستقبل کا رخ کرنا چاہئے۔جزیرہ نمابھارت میں صوفی سنتوں کی پر امن تعلیمات کے سہارے اسلام کی تشہیر اور پرچار ہواتھا۔ یہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا صبروتحمل تھا جس کی وجہ سے انہوں نے بغیرکسی قتل وخونریزی اور جنگ وجدال کے مکہ مکرمہ فتح کرلیا تھا۔ آج ہندوستانی مسلمانوں کو حضرت محمدؐ کے اسی صبر سے کام لینے اور اپنے روشن مستقبل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے  اور یہ روشن مستقبل ہمیں تعلیم اور روزگار سے مل سکتا ہے۔ ہم سبھی طبقات میں بھروسے اور ہم آہنگی کے پل بناسکتے ہیں، جس سے ہمارا ملک پرامن ہوگا اور ہندوستان کی  سالمیتمستحکم ہوگی ۔  ہمیں ہمیشہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ مذہب کی بنیاد پر لڑائی نہیں ہونی چاہئے کیونکہ  قرآن مجید کی سورہ الکافرون میں اللہ تعالی کا فرمان ہے ، ’’آپ کیلئے آپ کا مذہب اور میرے لئے میرا مذہب‘‘۔ 
عبداللہ

 

گلی قاسم جان، بلی ماران، دہلی ۔6

وضاحت نامہ:۔یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ مضمون کو من و عن شائع کیا گیا ہے۔ اس میں کسی طرح کا کوئی ردوبدل نہیں کیا گیاہے۔ اس سے وطن سماچار کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی جانکاری کیلئے وطن سماچار کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی وطن سماچاراس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے۔


You May Also Like

Notify me when new comments are added.