Hindi Urdu

روزہ کی افادیت جدید میڈیکل سائنس کی روشنی میں

گیسٹ کالم

ڈاکٹراسلم جاوید

ہماری زندگی میں ایک بار پھر اللہ کے فضل و کرم سے ماہِ رمضان کی برکتوں رحمتوں، اور مغفرتوں کی برسات ابر رحمت بن کر جھماجھم برسنے ہی والی ہے۔ امید ہے  کہ ہم سب اس مہینے کی با سعادت گھڑیوں میں سے اپنی اپنی ہمت و توفیق کے مطابق اپنا حصہ وصول کرنے میں مصروف ہوں گے۔یہ ماہِ مقدس اللہ کی خوشنودی و رضا اور مغفرتِ بے بہا کا پیغام پر تو ہے ہی، لیکن صحت و تن درستی کا بہترین ذریعہ بھی ہے۔اللہ کا مہینہ یعنی رمضان الکریم میں عام طور پر لوگوں کا عبادات کی طرف رجحان قدرتی طور پر بڑھ جاتا ہے۔جوان،بچے اور بوڑھے سبھی بڑے شوق و ذوق سے دن میں روزہ رکھنے کا اہتمام کرتے ہیں۔پنجگانہ نماز کی ادائیگی باقاعدہ کی جاتی ہے۔حصول ثواب اور قربِ ذات کے لیے ہر مسلمان وفورِ جذبات کے نتیجے میں دوسروں سے سبقت لے جانے کی کوشش میں ہوتا ہے۔ اگر چہ نماز و روزہ اللہ کی خوشنودی کا صدیوں سے ذریعہ چلا آرہا ہے، لیکن جدید سائنسی اور طبی تحقیقات نے ان عبادات کی بدنی افادیت کو بھی ثابت کردیا ہے۔ روزہ ایک ایسی عبادت ہے جس میں انسانی جسم اور روح دونوں ہی شامل ہو تے ہیں۔روزہ محض بھوکے پیاسے رہنے کا نام نہیں ہے، بلکہ فطرت کے اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی عملی مشق بھی ہے۔ آج اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ سائنسی ارتقاء اور اسبابِ دنیوی کی فراوانی سے انسان کے روحانی و جسمانی مسائل میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔روپے پیسے کی ریل پیل سے اس نے اپنے طرزِ رہن سہن اور لباس و خوراک میں غیر فطری عوامل کو شامل کرکے اپنی جسمانی تباہی اور صحت و تندرستی کے کئی ایک عوارض کو دعوت دے رکھی ہے۔ذہنی انتشار اور بدنی خلفشار کی بہتات کے اس دور میں روزے سے بڑی کوئی نعمت ہو ہی نہیں سکتی۔روزہ صرف روحانی عبادت کا نام ہی نہیں ہے بلکہ یہ بدنی کسرت کا بہترین ذریعہ بھی ہے۔ روزے کی مددسے موجودہ دور کے کئی خطرناک امراض سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے۔جسے جدید میڈیکل سائنس نے بھرپور دعوے اور دلیل کے ساتھ پیش کیا ہے۔

روزہ ایک ایسی عبادت ہے جو انسان کی نفسیاتی تربیت میں اہم کراداکرتی ہے۔ نفس کی طہارت، اس میں پیدا ہونے والی بیماریوں کی روک تھام او ر نیکیوں میں سبقت حاصل کرنے کی طلب روزے کے بنیادی اوصاف میں سے ہیں۔ اس لیے یہ لازم ہے کہ ہم روزے کو قرآن وسنت کی روشنی میں رکھنے، افطار کرنے اور اس کے شرائط وآداب کو بجا لانے کا خصوصی خیال رکھیں۔دورِ سلف کی نسبت دورِ حاضر میں بہت سی جسمانی بیماریاں رونما ہورہی ہیں، نیز طب میں جدید آلات اور دوا کے استعمال میں گوناگوں طریقے منظر عام آچکے ہیں۔ بوقت ضرورت ان سے فائدہ اٹھانا ایک معمول بن چکا ہے۔مگرآج بھی درجنوں ایسی بیماریاں موجودہیں،بلکہ ہما ری آرام پسند زندگی کے طفیل یہ بیماریاں مزید مہلک اور انسانی زندگی کیلئے ہلاکت کا باعث بھی بن رہی ہیں۔ایک موٹاپے کو ہی لے لیجئے بظاہر یہ ایسی کوئی بیماری نہیں ہے،جس سے یہ دعویٰ کیا جاسکے کہ موٹاپا انسان کی موت کا سبب بن سکتا ہے۔مگر اس میں تو ذرہ برابر شک نہیں ہے کہ موٹاپا درجنوں بیماریوں کا سبب ضرور بن سکتا ہے،جن میں سے کئی بیماریا ں اس قدر مہلک ہیں کہ وہ اپنے شکار کو موت منہ میں دھکیل کرہی دم لیتی ہیں،اکثراوقات موٹاپے کے نتیجے میں پیداہونے والے کئی مرض کا تشفی بخش علاج ہنوز دریافت نہیں کیا جاسکا ہے۔قابل ذکر ہے کہ ایک خطرناک بیماری جس کاتعلق راست طورپر موٹاپے سے ہے،اس بیماری کواگرچہ بہت زیادہ مہلک تصور نہیں کیا جاتا،مگرسائنسدان اور ماہرین علاج اس بات سے مکمل اتفاق رکھتے ہیں ہیں کہ یہ بیماری ایک ناسور ہے جوایک مرتبہ انسان کو اپنا شکار بنالینے کے بعد زندگی بھر اس کا ساتھ نہیں چھوڑ تی،میڈیکل سائنس نے اس مرض کانام شوگر(Diabetes) تجویز کیا ہے، جو بذات خود زیادہ مہلک نہیں ہے،البتہ اس مرض کا متاثر جسم درجنوں بیماریوں کی آماجگاہ یعنی مکمل اسپتال بن جاتا ہے۔سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق شوگر(Diabetes) کا اہم سبب موٹاپا بھی ہے اورروزہ اس کا سب سے مؤثر اور غیر مضر فطری علاج ہے۔

اب ذراہم اس کی مختصر سی پیش کرتے ہیں،جس سے یہ معلوم ہوسکے گا کہ روزہ ڈھیر ساری مہلک بیماریوں کا شافی ثابت ہوسکتاہے،جس کی دلیل جدید میڈیکل سائنس کے طویل ترین تجربات اور ریسرچ سے بھی ملتی ہے۔

واضح رہے کہ خالقِ کائنات نے تین اقسام کی مخلوق پیدا کی ہیں۔نوری یعنی فرشتے،ناری یعنی جن اور خاکی یعنی انسان جسے اشرف المخلوقات کا درجہ دیا گیاہے۔دراصل انسان روح اور جسم کے مجموعے کا نام ہے اور اس کی تخلیق اس طرح ممکن ہوئی کہ جسم کو مٹی سے بنایا گیا اور اس میں روح آسمان سے لا کر ڈالی گئی۔جسم کی ضروریات کا سامان یا اہتمام زمین سے کیا گیا کہ تمام تر اناج غلہ پھل اور پھول زمین سے اگائے، جبکہ روح کی غذا کا اہتمام آسمانوں سے ہوتا رہا۔ہم سال کے گیارہ ماہ اپنی جسمانی ضرورتوں کو اس کائنات میں پیدا ہونے والی اشیاء سے پورا کرتے رہتے ہیں اور اپنے جسم کو تندرست و توانا رکھتے ہیں۔مگر روح کی غذائی ضرورت کو پورا کرنے کی غرض سے ہمیں پورے سال میں ایک مہینہ ہی میسر آتا ہے جو رمضان المبارک ہے۔دنیا کے ایک ارب سے زائد مسلمان اسلامی و قرآنی احکام کی روشنی میں بغیر کسی جسمانی و دنیوی فائدے کاطمع کئے تعمیلاًروزہ رکھتے ہیں۔تاہم روحانی تسکین کے ساتھ ساتھ روزہ رکھنے سے جسمانی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں،جسے دنیا بھر کے طبی ماہرین خصوصا ڈاکٹر مائیکل،ڈاکٹر جوزف،ڈاکٹر سیموئیل الیگزینڈر،ڈاکٹر ایم کلائیو،ڈاکٹر سگمنڈ فرائیڈ،ڈاکٹر جیکب،ڈاکٹر ہنری ایڈورڈ،ڈاکٹر برام جے،ڈاکٹر ایمرسن، ڈاکٹرخان ایمر ٹ، ڈاکٹر ایڈورڈ نکلسن وغیرہم نے جدید سائنس کے ہزاروں کلینیکل ٹرائلز سے تسلیم کیا ہے۔کچھ عرصہ قبل تک یہی خیال کیا جاتا تھا کہ روزہ کے طبی فوائد نظام ہضم تک ہی محدود ہیں،لیکن جیسے جیسے سائنس اور علم طب نے ترقی کی، ویسے ویسے بدن انسانی پر روزہ کے مزیدفوائد آشکار ہوتے چلے گئے اور محققین اس بات پر متفق ہوئے کہ روزہ تو ایک طبی معجزہ ہے۔آیئے! اب جدید طبی تحقیقات کی روشنی میں دیکھیں کہ روزہ انسانی جسم پر کس طرح اپنے مفید اثرات مرتب کرتا ہے۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ایسے شواہد ملے ہیں کہ اگر قاعدے سے روزہ رکھا جائے تو انسان کو صحت سے متعلق کئی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں، جن میں حد سے زیادہ وزن سے نجات نمایاں طور پرشامل ہے۔روزہ سے جین میں تبدیلی پیدا ہوتی ہے اور آئی جی ایف - ون نامی ہارمون کی نشونما میں کمی ہوتی ہے، جس سے بڑھاپے میں کمی آتی ہے اور بڑھاپے سے متعلق بیماریوں کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ جب انسان ضعیف العمر ہونے لگتا ہے تو اس کے مدھم ہونے سے جسم ریپیئر موڈ یعنی مرمت موڈ میں آ جاتا ہے۔

جنوبی کیلیفورنیا یونیورسٹی کے پروفیسر والٹر لونگو کا کہنا ہے کہ روزہ رکھنے سے آئی جی ایف - ون کی سطح میں کمی آتی ہے اور جسم مرمت موڈ میں آ جاتا ہے اور مرمت کرنے والے کئی جین جسم میں متحرک ہو جاتے ہیں۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ایک دن چھوڑ کر روزہ رکھنا زیادہ مفید ہے۔کہا جاتا ہے کہ جسم میں آئی جی ایف-1 کی بہت کم سطح ہونے سے آدمی قد میں چھوٹا رہ جاتا ہے، لیکن مسرت کی بات یہ ہے کہ وہ عمر سے جڑی دو اہم بیماریوں کینسر اور ذیابیطس سے محفوظ رہتے ہیں۔شکاگو میں الونوا یونیورسٹی کی ڈاکٹر کرسٹا ویراڈی نے دو قسم کے موٹے مریضوں پر ایک دن کے بعد ایک دن روزہ کا فارمولا اپنایا اور اس کے اثرات کو انھوں نے اس طرح بیان کیا،اگر آپ اپنے روزے کے دنوں کی پابندی کریں تو آپ کو دل کی بیماریوں کا خطرہ نہیں رہتا، خواہ آپ روزے نہ رکھنے کی حالت میں زیادہ کھاتے ہیں یا کم۔روزہ ان تمام عوارض کو دور کردیتا ہے جو زیادہ کھانے کی وجہ سے امراض قلب کے بے شمار راستے ہموار کردیتے ہیں۔

09891759909

 

وضاحت نامہ :یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ مضمون کو من و عن شائع کیا گیا ہے ۔ اس میں کسی طرح کا کوئی ردوبدل نہیں کیا گیاہے۔ اس سے وطن سماچار کا کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی جانکاری کیلئے وطن سماچار کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی وطن سماچار اس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے ۔ 

 

You May Also Like

Notify me when new comments are added.