"آئیے ! جانیں کہ تقدیر امم کیا ہے ؟ "

کسی بھی قوم کی اجتماعی تقدیر بگڑنے یا بننے میں کئی صدیاں لگ جاتی ہیں اگر قوم کی ماءوں نے درد مند دل اور قومی جذبات سے لبریز سینہ رکھنے والے افراد پیدا کرکے دنیا کے سامنے پیش کئے تو وہی آشفتہ حال افراد قوم کی تقدیر اپنی عقل ودانش کے لہو سے لکھ ڈالتے ہیں اور اگر قوم میں ہمیشہ حاسد ، مغرور ، ابن الوقت ، مفاد پرست اور ذہنی سطح پر نہایت ہی پست قد افراد آتے رہے تو پھر اس قوم کی تقدیر بدلنا کسی فرد واحد کے بس کا روگ نہیں ہوتا البتہ ہر زمانے میں چند افراد اپنا خون جگر جلاکر اندھیرے کا سینہ چیر کر روشنی کی راہ ہموار کرجاتے ہیں جسے قوم میں پہلے سے پنپ رہے ذاتی مفاد پرست اچک لے جاتے ہیں اور قوم خوش خیالی کی احمقانہ جنت کی سیر کرتی رہ جاتی ہے ۔ جیساکہ ہمارے ملک میں آدای واسی اور پچھڑی ذاتی کے لوگ، جن کو غلامی کا خوفناک انجیکشن دے کر تین ہزار سال سے ذہنی اپاہیج بنادیا گیا ہے اور اس کام کے لیے ان کے مخالفین کا بڑا دماغ رات ودن اسی موضوع پر کام کرتارہا ہے جب کہ ان دانش وران ظلم وجبر کا مقابلہ کرنے کے لیے آدی واسیوں یا نچلی ذاتی کے افراد نے اپنی نسل میں بہت ہی کم اہل عقل افراد پیدا کئے ۔وہی سلوک جو تین ہزار سال تک دبائے رکھنے کے لیے نچلی ذاتی کے ساتھ ہوا تھا بڑی خوش اسلوبی سے ہمارے ساتھ ہورہاہے اور ہمیں اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھ کر ان کا بڑا دماغ پچھلی ایک صدی سے ہماری تباہی کے تانے بانے بن رہاہے ، ہم ان کی چالوں کو نہ سمجھ سکیں اس کے لیے ہمیں روزانہ نت نئے آپسی مسائل میں الجھانے کی کوشش ہوتی رہی ہے ورنہ آپ غور کریں کہ جن مسائل وموضوعات میں لڑنے بھڑنے اور اختلافات کا پہاڑ کھڑا کرنے سے ہمارا زیرو فیصد کا بھی فائدہ نہیں ہے ہم ان مسائل کو سب سے زیادہ اہمیت کیوں دے رہے ہیں ؟ ظاہر ہے کہ آپس میں شدت سے اختلاف کرنے کی وجہ سے نہ ہماری معیشت بہتر ہوسکتی ہے ، نہ ہمارا تعلیمی نظام اچھا ہوسکتاہے اور نہ ہی سماجی سطح پر یہ اختلافات ہمیں وقار عطا کرسکتے ہیں ۔پھر بھی مسلمانوں کا شرفاء طبقہ ان مسائل میں کیوں الجھا رہتاہے ؟ ۔اس "باہمی جنگ جاہلانہ "کی وجہ سے جب کوئ فائدہ ہی نہیں ہے تو پھر ہمیشہ کے لیے اس کو اپنے معاشرے کی روح بناکر مسلط کرنا دوسروں کی دانش مندی سے زیادہ اپنوں کی عاقلانہ حماقت ہے ۔

گیسٹ کالم

"آئیے ! جانیں کہ تقدیر امم کیا ہے ؟ "

کسی بھی قوم کی اجتماعی تقدیر بگڑنے یا بننے میں کئی صدیاں لگ جاتی ہیں اگر قوم کی ماءوں نے درد مند دل اور قومی جذبات سے لبریز سینہ رکھنے والے افراد پیدا کرکے دنیا کے سامنے پیش کئے تو وہی آشفتہ حال افراد قوم کی تقدیر اپنی عقل ودانش کے لہو سے لکھ ڈالتے ہیں اور اگر قوم میں ہمیشہ حاسد ، مغرور ، ابن الوقت ، مفاد پرست  اور ذہنی سطح پر نہایت ہی پست قد افراد آتے رہے تو پھر اس قوم کی تقدیر بدلنا کسی فرد واحد کے بس کا روگ نہیں ہوتا البتہ ہر زمانے میں چند افراد اپنا خون جگر جلاکر اندھیرے کا سینہ چیر کر روشنی  کی راہ ہموار کرجاتے ہیں جسے قوم میں پہلے سے پنپ رہے ذاتی مفاد پرست اچک لے جاتے ہیں اور قوم خوش خیالی کی احمقانہ جنت کی سیر کرتی رہ جاتی ہے ۔ جیساکہ ہمارے ملک میں آدای واسی اور پچھڑی ذاتی کے لوگ،  جن کو غلامی کا خوفناک انجیکشن دے کر تین ہزار سال سے ذہنی اپاہیج بنادیا گیا ہے اور اس کام کے لیے ان کے مخالفین کا بڑا دماغ رات ودن اسی موضوع پر کام کرتارہا ہے جب کہ ان دانش وران ظلم وجبر کا مقابلہ کرنے کے لیے آدی واسیوں یا نچلی ذاتی کے افراد نے اپنی نسل میں بہت ہی کم اہل عقل  افراد پیدا کئے ۔وہی سلوک  جو تین ہزار سال تک دبائے رکھنے کے لیے نچلی ذاتی کے ساتھ ہوا تھا بڑی خوش اسلوبی سے ہمارے ساتھ ہورہاہے اور ہمیں اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھ کر ان کا بڑا دماغ پچھلی ایک صدی سے ہماری تباہی کے تانے بانے بن رہاہے ، ہم ان کی چالوں کو نہ سمجھ سکیں اس کے لیے ہمیں روزانہ نت نئے آپسی مسائل میں الجھانے کی کوشش ہوتی رہی ہے ورنہ آپ غور کریں کہ جن مسائل وموضوعات میں لڑنے بھڑنے اور اختلافات کا پہاڑ کھڑا کرنے سے ہمارا زیرو فیصد کا بھی فائدہ نہیں ہے ہم ان مسائل کو سب سے زیادہ اہمیت کیوں دے رہے ہیں ؟ ظاہر ہے کہ آپس میں شدت سے اختلاف کرنے کی وجہ سے نہ ہماری معیشت بہتر ہوسکتی ہے ، نہ ہمارا تعلیمی نظام اچھا ہوسکتاہے اور نہ ہی سماجی سطح پر یہ اختلافات ہمیں وقار عطا کرسکتے ہیں ۔پھر بھی مسلمانوں کا شرفاء طبقہ ان مسائل میں کیوں الجھا رہتاہے ؟ ۔اس "باہمی جنگ جاہلانہ "کی وجہ سے جب کوئ فائدہ ہی نہیں ہے تو پھر ہمیشہ کے لیے اس کو اپنے معاشرے کی روح بناکر مسلط کرنا دوسروں کی دانش مندی سے زیادہ اپنوں کی عاقلانہ حماقت ہے ۔

دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہمارا کوئ نظام نہیں ہے ، اس قدر تباہی کے باوجود زمینی سطح پر ہمارا نوجوان طبقہ 90/ فیصد طبعی الحاد وبے دینی کا شکار ہے ، ہمارے سماج میں پنپ رہی برائیاں دن بہ دن سماج سے ہمارے رشتے کو مکڑی کے جالے سے بھی زیادہ کمزور بنارہی ہیں ۔ہماری نئی نسل فکری افلاس کی گہری کھائ میں ٹاپک ٹوئیاں کھیل رہی ہیں ، کسی بھی علاقے سے سونوجوانوں کو اٹھاکر ذہنی سطح کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ ایک تکلیف دہ پہلو یہ بھی  ہے کہ سماج کے جن بچوں کو دین ومذہب کی بنیادی تعلیم کا علم نہیں ہے وہی بچے اپنی فکری ناپختگی کے باوجود" خانہ جنگی " کے مسائل پر مہارت کے ساتھ لیکچر دے کر اپنے بڑوں کی تفہیم کا فریضہ انجام دے سکتے ہیں ۔  ہماری نئی نسل کا اسی فی صد طبقہ مزدوری کی شکل میں غلامی کی زندگی جی رہاہے ، نوے فیصد پر ایک انجانا سا خوف طاری ہے ۔تعلیم میں بارہ فیصد ، مذہبی تعلیم میں صرف دو فیصد ، تجارت ، وہ بھی نچلی سطح کی تجارت میں پندرہ سے تیس فی صد تک ہی ہم شامل ہوپائے ہیں ۔لیکن مذہبی خانہ جنگی کی حالت یہ ہے کہ شاید ہی کوئ گاءوں ، کوئ شہر یا کوئ قصبہ ہو جہاں سال میں مسلک ، مسئلہ ، پیر اور سلاسل کی جنگ نہ ہوتی ہو اور ہماری آپسی سیاست ایک دوسرے کا صفایاکرنے پر کمر بستہ نہ ہوتی ہو ۔ کسی نے بالکل ہی جائز کہا ہے کہ  "  ہماری سیاست سوسال پہلے قبر میں دفن ہوچکی ہے لیکن اس کی جاں گسل بد بو آج بھی ہماری مساجد ، مدارس اور خانقاہوں سے اٹھ رہی ہیں "  ۔ میری ان تمام باتوں سے وہی شخص انکار کرسکتاہے جس کے لیے عذاب الہی ، آپسی جنگ وجدال کی شکل میں روح وجسم کی غذا بن گیا  ہو یا پھر دشمن کی سازشوں میں خاندانی شریک ہو ۔ آج کی نششت میں ہم اس عذاب سے نکلنے کی تدبیر ڈھونڈیں گے اور معاملہ فہمی کے لیے اپنے ہی ملک کی دوسری اقوام کے  تاریخ ساز اقدامات کا جائزہ لیں گے ۔

ایک "جینیسٹ " ڈھابے پر کسی بزرگ نے اس جینیسٹ  سے پوچھاتھاکہ " یہ بتاءو تم لوگوں نے اتنی ترقی کیسے کر لی ؟" اس نے مسکراتے ہوئے ان لفظوں میں جواب دیا " ہم لوگوں نے صرف وہ کام کیا جو ہمیں کرنا چاہیے تھا اور آپ لوگ ابھی تک وہ کام کررہے ہیں جو آپ کو نہیں کرنا چاہیے تھا" جواب بڑا سادہ ہے لیکن اس کی تہ میں جائیں تہ در تہ پرتیں کھلتی چلی جائیں گی ۔ ہمارے ملک میں جین دھرم کے ماننے والوں کا کل فیصد ہے 0.36/ ، اس میں  چھ فرقے ہیں اور ایک سو دس فرقائ گروپ ہیں ۔اندازہ لگائیں اتنی چھوٹی قوم اس قدر گروپ اگر یہ لوگ ہماری طرح ہی آپس کے مسائل میں الجھے رہتے تو کیا آج ملکی تجارت کے کنگ ہوسکتے تھے ؟ ہرگز نہیں ۔ ان کا آپس کا اختلاف ہمیشہ کے لیے ان کے وجود کو نیست ونابود کرسکتاتھا۔ اس کے لیے انہوں نے اپنے مذہبی معمولات ضروریہ  پر عمل  کے ساتھ صرف تعلیم اور تجارت پر فوکس کیا نتیجہ آج سب کے سامنے ہے ۔ بودھسٹ صرف 0.7/ فیصد ہیں ، ان کے دو بڑے فرقے ہیں " ہنائنا اور مہائنا " ان میں بھی کثرت سے گروپ ہیں جس کی درست تعداد کا علم نہیں ہوسکا ۔یہ مذہب بھی اگر آپسی تفرقہ بازی کو زندہ رکھتا تو اب تک مٹ چکا ہوتا اور دنیا کا سب سے مفلس مذہب شمار ہوتا لیکن ایسا نہیں ہے اس لیے کہ انہوں نے زندگی کے لیے اتحاد کا فارمولہ اپنایا ہے اور ہم نے دنیا کی رہنمائ کی دعوے کے ساتھ اختلاف کو زندگی کاحصہ  لازمہ تصور کرلیا ہے ۔

سکھ 1.72/ فیصد ہیں ان میں بھی چار بڑے فرقے ہیں ، تین فرقے اسلامی تعلیمات سے قریب ہیں جب کہ ایک فرقہ برہمنی تعلیمات سے متاثر ہے ۔ اعتقادی اختلافات ہیں لیکن ہمیں اس کی بھنک تک نہیں لگتی ہے ۔ اس مذہب کے پیروکاروں نے بھی ذاتی تجارت اور تعلیم کو اہمیت دی ہے البتہ اسرائیل کی ہوا ان تک بھی آسانی سے پہونچ جاتی ہے ۔ عیسائیت ہمارے ملک میں 2.3/ فیصد ہیں ۔ پوری دنیامیں اس وقت ان کے دو بڑے فرقے کام کرتے ہیں ۔ فرقوں کی صحیح تعداد کا اندازہ صرف اس بات سے لگائیے کہ ہمارے ہی ملک میں اس مذہب کے چودہ سے پندرہ فرقے پائے جاتے ہیں ۔ان کی آپس کی تعلیمات میں بڑا شدید اختلاف بھی ہے ۔ایک یا دو فرقے کو چھوڑ کر سارے فرقے حضرت عیسی کو کسی نہ کسی زاویے سے خدا ضرور مانتے ہیں اس کے باوجود بہت سے معاملات میں ان کا اتحاد قابل رشک ہے ۔کسی علاقے میں ایک فرقے کا چرچ ، فادر اور مبلغ پہلے سے ہو تو دوسرے فرقے کا چرچ ، فادر اور مبلغ وہاں جانے سے گریز کرتاہے ۔ اس ملک میں اس مذہب کے ماننے والوں نے  خود کو سب سے زیادہ تعلیم ، رفاہ عام اور محبت کے مبلغین کے طور پر پیش کیا ۔ "سینٹ سریز اسکول "کا پورے ملک میں اس نے جال بچھادیا ۔ ہر چھوٹا بڑا قصبہ اور شہر ان کے اسکولوں سے فیضیاب ہورہاہے ۔سیاسی میدان میں ان کی صرف ایک پارٹی ہے ۔سیاست سے دور رہتے ہوئے بھی قریب رہتے ہیں ۔ سیاست سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ نہیں ہیں ۔ تعلیم وتجارت میں ان کا مشن قابل تقلید بھی ہے  اور قابل مطالعہ بھی ۔ بھیڑ کی چال چلنے کا رجحان نہیں ہے ۔  ایک مضبوط ٹیم ورک کے تحت کام ہوتاہے اور وہ بھی سوسال پہلے سے ۔

دنیا میں سب سے زیادہ فرقہ بازی اور گروپ بندی کرنے والی قوم یہودی ہے ، دنیا کی کوئ قوم ایسی نہیں جو ان کی ذہنی سازش کا شکار ہونے سے محفوظ رہی ہو ۔ ہمارے ملک میں ان کی تعداد بہت تھوڑی ہے لیکن ان کے چچا زاد بھائ بہت ہیں ۔ ان کے یہاں بھی تین فرقے اس وقت متعارف ہیں ۔ ان کا ایک فرقہ آج بھی ایسا ہے جو اسرائیل کے  وجود کو  تسلیم نہیں کرتا ۔ فکری تشدد میں ہمارے یہاں پائے جانے والے کچھ فرقوں سے بھی سوقدم آگے ہے ۔اس کے باوجود جدید حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان تمام مذاہب نے جینے کا اصول ڈھونڈ لیا ہے ۔ زندگی کی بقا اور قوم کی فلاح کے لیے جو باتیں ضروری ہیں اس کے علاوہ کی جانب توجہ نہیں کی جاتی ہے  ۔ یہودی مذہب کی بنیاد جس اساس پر ہے اس کے بھی دو مختلف نسخے ہیں یعنی تالمود ۔ تالمود کے دونوں نسخے زمان ومکان اور افراد کے فرق کے ساتھ مرتب کئے گئے ہیں لیکن آج سب اپنے مطابق جی رہے ہیں اور اپنے اصل ہدف پر نظر جمائے ہیں ۔ان مذاہب کے فرقوں کا آپسی اختلاف بہت ہی کم باہر نکلتا ہے اور تھانے ، کورٹ کچہری تک تو شاید باید ہی پہونچتا ہے ۔ اس کے برخلاف جس امت کو اتحاد کی خمیر سے تیار کیا گیا تھا شاید ہی ملک کا کوئ شہر ایسا ہو جس میں تھانہ ، کورٹ اور کچہری کی دہلیز تک وہ امت نہ  پہونچی ہو۔

2.3/ عیسائیوں نے تعلیمی میدان میں جو انقلاب برپا کیا وہ ہمارے لیے دل چسپی کی چیز ہے ، یہاں بہت لوگ باہری امداد کا بہانہ کرکے اپنے ہاتھوں سے مسلمانوں کے سرپر ناکامی مسلط کرنے والے جرم پر پردہ ڈالتے ہیں ، تعلیم ، مفلسی اور مذہب کے نام پر بہت بڑا فنڈ مسلمان بھی حاصل کرتے ہیں لیکن شعور زندہ نہ ہونے کی وجہ سے غیر شعوری طور اپنی قوم کی قبر تیار کرتے رہے ہیں ۔ نظام تعلیم کا بہت حد تک مدرسیائ سسٹم ہاتھ میں تھا جو اب بالکل فرسودہ بنادیاگیاہے ۔متاثرکن تعلیم کا کوئ مستقل اور ملکی شعبہ اس قوم کے پاس نہیں ہے ۔ جماعت اسلامی کے اقراء پبلک اسکول کی تعداد بہت زیادہ نہیں ہے ۔ البرکات ، الامین یا رحمانی فاءونڈئشن جیسے ادارے کا فیض عام ہونا ایک مشکل امر ہے ۔ جس قوم میں ہر شخص لیڈر ہو یا پھر کوئ لیڈر نہ ہو وہ قوم صرف سیاست کے پلیٹ فارم سے اپنی قوم کی تقدیر بدلنے کی فکر کر رہی ہے ۔

محمد رضی احمد مصباحی ۔

 

وضاحت نامہ:۔یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ مضمون کو من و عن شائع کیا گیا ہے۔ اس میں کسی طرح کا کوئی ردوبدل نہیں کیا گیاہے۔ اس سے وطن سماچار کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی جانکاری کیلئے وطن سماچار کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی وطن سماچاراس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے۔ 


You May Also Like

Notify me when new comments are added.