Hindi Urdu

ہندوستان میں فلسطین کی حمایت کے لئے پلیٹ فارم کا قیام

ہر بھارتی گاؤں میں ایک اسرائیل اور ایک فلسطین موجود ہے: دلت لیڈر ڈاکٹر ونسنٹ منوہرن نے کہا کہ اس میٹنگ کا مقصد نسل پرست مخالف ہفتہ منانا اور بھارت میں کایروس فلسطین کی حمایت سمیت بی ڈی ایس (اسرائیل کے بائیکاٹ کی تحریک) کی حمایت کرنا نیز ۱۵؍ مئی کو یوم نکبہ منانا اور بھارت میں فلسطینی جدوجہد کی حمایت کے لئے ایک مشترک پلیٹ فارم تیار کرنا ہے

Administrators

نئی دہلی: بھارت کے مختلف حصوں میں فلسطینیوں کے مفاد کے لئے سرگرم افراد کی ایک میٹنگ دہلی اقلیتی کمیشن میں منعقد ہوئی۔   اس میں بھارت میں فلسطین کے لئے کام کرنے والے افراد اور غیر سرکاری رضاکار تنظیموں کے نمائندوںنے شرکت کی، جن میں خاص طورسے عیسائی تنظیموں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے جو فلسطین کی حمایت کرتی ہے۔دہلی، ناگپور، وارانسی، ممبئی، گوا اور چنئی وغیرہ کے سرگرم افراد نے اس میٹنگ میںحصہ لیا جو دلت کرسچن واچ کے نیشنل کنوینر ڈاکٹر ونسنٹ منوہرن کی کوششوں سے منعقد ہوئی۔ اس میں مقرر خصوصی گوا کے رنجن سولومون تھے جو اسرائیل وفلسطین میں کئی سال گذار چکے ہیں جس نے فلسطینیوں کے ساتھ صہیونی یہودیوں اور مغرب میں ان کے صہیونی حامیوںکے ذریعے ہونے والی تاریخی ناانصافی سے متعلق ان کی آنکھیں کھولدیں۔


ڈاکٹر ونسنٹ منوہرن نے کہا کہ اس میٹنگ کا مقصد نسل پرست مخالف ہفتہ منانا اور بھارت میں کایروس فلسطین کی حمایت سمیت بی ڈی ایس (اسرائیل کے بائیکاٹ کی تحریک) کی حمایت کرنا نیز ۱۵؍ مئی کو یوم نکبہ منانا اور بھارت میں فلسطینی جدوجہد کی حمایت کے لئے ایک مشترک پلیٹ فارم تیار کرنا ہے۔ دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر ظفرالاسلام خاں نے فلسطینی مسئلہ پر عمومی نظر ڈالتے ہوئے میٹنگ کا افتتاح کیا اور بتایا کہ دنیا بھر سے نوآبادیاتی یہودی آبادکاروں نے برطانیہ کی مدد سے کس طرح فلسطین کی سرزمین پر قبضہ کیا اور مئی۱۹۴۸ میں فلسطین کی تقریباً ۶۰ فیصد آبادی کو جلا وطن کردیا ۔آج یہ پناہ گزین اسرائیل سے متصل ملکوں کی سرحدوں پر واقع بہت سے پناہ گزین کیمپوں میں پائے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر ظفرالاسلام نے مزید کہا کہ ۱۹۹۲ ۔ ۱۹۹۳  کے اوسلو معاہدہ کے بعد یہ امید قائم ہوئی تھی کہ فلسطین کا مسئلہ حل ہوجائے گا ، لیکن فلسطین کے سادہ لوح لیڈروں کی وجہ سے ایسا نہیں ہوسکا کیونکہ وہ بنیادی مسائل جیسے پناہ گزین، بیت المقدس ، مجوزہ فلسطینی ریاست کی سرحدوں اور اس کے قدرتی وسائل پر کنٹرول وغیرہ کے معاملات کو طے کرنے کو یقنی بنائے بغیر اوسلو معاہدے پر راضی ہوگئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اوسلو معاہدے کے بعد صہیونی حکومت مزید زمینوں پر قبضہ کرنے، ناجائز بستیاں بسانے اور پہلے سے زیادہ فلسطینیوں پر ظلم وتعدی اور ایذا رسانی کرنے لگی۔ آج فلسطین کا مسئلہ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی سربراہی میں ایک نئے خطرناک مرحلے میں داخل ہوگیا ہے کیونکہ وہ آنکھ بند کرکے اسرائیل کی حمایت کررہے ہیں۔ انہوں نے امریکی سفارتخانے کو مقبوضہ بیت المقدس منتقل کردیا ہے اور فلسطینیوں پر ایک غیر واضح منصوبے کو تسلیم کرنے کے لئے دباؤ ڈال رہے ہیں ۔ اس منصوبے کو ” صدی کا معاہدہ“ کا نام دیا جارہا ہے۔ اس کے تحت امریکی حکام کچھ خلیجی ملکوں سے فلسطینی اتھارٹی کو بہت بڑے پیمانے پر سرمایہ دلائیں گے، جب کہ مصر، صحرائے سینا کا ایک قطعہ فلسطین کو دے دے گا۔ اور یوں فلسطینی مسئلہ کو ”حل شدہ“ قرار دے دیا جائے گا۔ امریکی صدر نے مقبوضہ شام کی جولان پہاڑیاں بھی اسرائیلیوں کو تحفہ میں دے دی ہیں۔


کایروس فلسطین کے ایک کلیدی رکن رنجن سولومون نے کہا کہ اسرائیل کے حالیہ انتخابات فلسطینیوں کے لئے عظیم سانحہ تھے۔امریکی صدر اور ان کے داماد سمجھتے ہیں کہ فلسطین کوئی پراپرٹی کا مسئلہ ہے۔ نئے دائیں بازو والے امریکی نظام کے تحت نکبہ پھر سے فلسطینیوں پر مسلط کیا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطینی زور لگا رہے ہیں کہ ان کے تحفظ کے لئے ایک عالمی اتحاد قائم کیا جائے۔ اسرائیلیوں کو جولان کی پہاڑیوں پر تیل کے حقوق سابق امریکی صدر ڈک چینی کی کمپنی کو دے دئے گئے ہیں۔نتین یاہو بدعنوانی کے سنگین الزامات کا سامنا کررہے ہیں۔ اس نے دائیں بازو کے گروپوں کے سربراہ کی حیثیت سے الیکشن لڑا لیکن حقیقت ہے کہ اسرائیل میں اعتدال پسند بھی دائیں باز والے ہی ہیں۔ نتین یاہو نے ایک خصوصی نسل پرست قانون لانے کے وعدے پر الیکشن لڑا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل اور فلسطین میں زمین کا حق صرف یہودیوں کو حاصل ہے۔جب اسرائیل کہتا ہے کہ ہم مزید زمینیں حاصل کریں گے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ وہ مزید فلسطینیوں کو ملک بدر کرے گا۔صہیوینوں کا وجود نفرت کی سیاست پر قائم ہے۔ وہ مغربی کنارہ اور غزہ کو اسرائیل میں ضم کرنا چاہتے ہیں پھر بھی دنیا بے بسی کے ساتھ یہ سب دیکھ رہی ہے۔ نیتن یاہو کی پالیسیاں پورے علاقے کو تباہی وبربادی سے دوچار کردیں گی۔ یورپ ان جرائم کی صرف زبانی مذمت کرتا ہے۔ وہ اب تک اس احساس جرم میں مبتلا ہے کہ نازیوں نے یہودیوں کے خلاف جرائم کئے تھے۔ اس وجہ سے اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ کچھ بھی کرلے، اسے سنجیدگی کے ساتھ کوئی سزا نہیں دی جائے گی۔ لیکن اسرائیلیوں کے لئے فلسطینی علاقوں کو ہڑپنا آسان نہیں ہوگا۔وہ یہ کام اس نسل پرستانہ پالیسی کے بغیرنہیں کرسکتے جو نسل پرست جنوبی افریقہ نے کالے لوگوں کے ساتھ کیا تھا۔ یہ ایک بہت بڑا سوال ہے کہ نسل پرستانہ نظام کے تحت اسرائیل فلسطینی علاقوں پر کس طرح حکمرانی کرپائے گا؟ فلسطینی اپنی جدوجہد کو” صمود‘‘ کہتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ وہ اپنی جدوجہد ہر حال میں جاری رکھیں گے۔ رنجن نے مزید کہا کہ تمام یہودیوں اور فلسطینیوں کے لئے واحد جمہوری ریاست ہی ایک حل ہے۔


بھارت میں نیشنل کاؤنسل آف چرچز کے جنرل سکریٹری اسیر ابینزیر نے کہا کہ چرچ کے لئے عیسائی صہیونیوں کو مخاطب کرنا ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ ہمیں ان سے کہنا ہے کہ اس معاملہ کو مذہبی نقطۂ نظر سے دیکھو جس سے وہ سمجھ سکیں گے کہ انہیں جو تاریخ پڑھائی گئی ہے وہ شکاریوں کی تاریخ ہے، زمین کے لوگوں کی نہیں۔ صہیونیوں اور عیسائیوں کے درمیان رابطہ کومنقطع کرنا بہت اہم کام ہے۔ عیسائی مقدس سرزمین کو اسرائیلی نقطۂ نظر سے دیکھتے ہیں۔ ہمیں ان سے کہنا ہے کہ وہ اسے فلسطینی نقطۂ نظر سے دیکھیں۔ ہمیں عیسائی صہیونیت کو توڑنا ہے ، بھارت میں اسرائیل کی حمایت کو ختم کرنا ہے اورجب بھی ہم مقدس سر زمین جائیں تو فلسطینیوں کے علاقوں میں رہ کر ہمیں ان کی اقتصادیات کو مستحکم کرنا ہے ۔


جامعہ ملیہ اسلامیہ میں مغربی مطالعہ جات سنٹر کے استاد ڈاکٹر رفیع اللہ اعظمی نے کہا کہ اندھی امریکی تایید کی وجہ اسرائیل اپنا موجودہ رویہ اختیار کرپارہا ہے۔ عیسائی صہیونی، یہودی صہیونیوں سے بھی زیادہ صہیونی ہیں۔ صہیونیت کچھ دیو مالائی کہانیوں پر مبنی ہے جیسے ”بغیر مالکوں والی زمین بغیر زمین والے لوگوں کے لئے“ اور یہ کہ” فلسطین یہودیوں کی ارض موعود“ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی تخلیق بڑی منصوبہ بندی کے ساتھ کی گئی ۔ اس کا وجود ایک استثنا ہے ۔ اسرائیل خود کو جمہوریت پسند ظاہر کرتا ہے جبکہ وہ عملا ً ایک نسل پرست نظام ہے۔اسے ہمیشہ اپنے تحفظ کے بارے میں تشویش لاحق رہتی ہے حالانکہ اس کے پاس سیکڑوں نیو کلیائی بم ہیں لیکن ان بارے میں کوئی کچھ نہیں کہہ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوسلو بغیر امن کا ایک عمل تھا۔ اس وقت اسرائیل کی حمایت کرنے والے خاص طور سے ٹرمپ، کشنیر، ایم بی ایس اور محمد بن زاید ہیں۔ ممکن ہے کہ سعودی یہ کام ۱۱؍۹   کے بعد کے دباؤ کی وجہ سے کررہے ہوں جس میں ۱۵؍ سعودی ملوث تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کے ساتھ روابط اور تعلقات کے لئے صرف مودی کو الزام نہیں دیا جاسکتا ، اس سے پہلے والی کانگریسی حکومت کی پالیسیاں بھی یہی تھیں۔


وارانسی کے رہنے والے ایکٹیوسٹ لینن رگھوونشی نے بتایاکہ اسرائیل میں ملٹری ٹریننگ حاصل کرنے کے بعد وہاں کے نوجوان جھنڈ کے جھنڈ کی شکلوں میں واراناسی آتے ہیں اور آر ایس ایس سے قریبی تعلق رکھتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ اور دلت عیسائی مفادات کے چیمپئن فرینکلن سیزر نے کہا کہ برہمن وادی تسلط بہت بڑا مسئلہ ہے اور بی جے پی وکانگریس دونوں اس کی حمایت کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برہمنوں نے ہٹلر کی حمایت کی تھی اور اب وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ یہودیوں کی حمایت کرتے ہیں۔


نیشنل دلت موومنٹ کے لیڈر رمیش نے کہا کہ فلسطینیوں کو دلتوں کی حمایت ۲۰۰۱  میں نسل پرستی کے خلاف منعقد ہونے والی ڈربن کانفرنس سے شروع ہوئی۔ ہم نے بھارت میں دیکھا کہ دلت بھی انہی حالات سے دوچار ہیں جن سے فلسطینی دوچار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہاں ہر گاؤں میں ایک اسرائیل اور ایک فلسطین موجود ہے۔ دلت لڑکیوں کی جب چاہے عزت لوٹ لی جاتی ہے۔ دلت تحریک کو کچلنے کے لئے غیر دلت افراد دلت عورتوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ ہم کوئی الگ مملکت نہیں چاہتے لیکن ہم مساوی سلوک، انصاف، عزت ووقار اور انسانی حقوق چاہتے ہیں۔فلسطینیوں کو بھی ان کے فطری اور قانونی حقوق ملنے چاہئیں۔


دلتوں کے انسانی حقوق کے مسائل پر کام کرنے والے پانڈیان نے کہا ہمیں اپنے آپ کو اور دوسرے لوگوں کو بھی یہ یاد دلاتے رہنا ہے کہ ہمارے ارد گرد کیا ہورہا ہے۔ سری لنکا، تمل ناڈو اور جموں وکشمیر میں نسل کشی ہورہی ہے پھر بھی ہم خاموش ہیں۔ہمیں اپنے گھروں سے نکلنا ہوگا ، دنیا کو حقیقت بتانا ہوگا اور عوامی تحریکیں چلانی ہوں گی۔ لاکھوں کروڑوں لوگ فلسطین کے بارے میں کچھ جانتے ہی نہیں۔


انڈین سوشل انسٹی ٹیوٹ بنگلور کے ڈاکٹر سیلوار اج ارول ناتھن نے کہا کہ اس وقت دنیا میں دو نسل پرستانہ نظریات قائم ہیں : ایک صہیونیت اور دوسراہندتوا۔یہ ایک سوال ہے جو پوچھا جانا چاہئے اور اس کا جواب دیا جانا چاہئے کہ آخر بھارت، پی ایل او کی حمایت کرتے کرتے اچانک اسرائیل کی حمایت کیوں کرنے لگا؟ انہوں نے کہا کہ فلسطین میں جو کچھ ہورہا ہے اس کے اصل تناظر کو سمجھنے کے لئے ہمیں اپنے مذہبی بیانیہ کو ازسر نو لکھنا پڑے گا۔انہوں نے سوال کیا کہ اسرائیل میں جو کچھ ہورہا ہے اس کے سلسلے میں مسلم ممالک کیا رول ادا کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر آئندہ  ۱۵ سال تک بھارتی سیاست کی قیادت ہندتوا کے ہاتھوں میں رہے گی تو اسرائیل اور فلسطین کے سلسلے میں بھارت کی پالیسیاں یہی رہیں گی۔


دلتوں کے حقوق سے متعلق سرگرم ایکٹیوسٹ ڈاکٹر رچرڈ دیواداس نے کہا کہ مجھے چرچ کی دعاؤں میں پڑھایا گیا تھا کہ اسرائیل مقدس سرزمین ہے اور یہودی اللہ کے محبوب ومنتخب لوگ ہیں ، اگر آپ اسرائیل کو چھیڑتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی آنکھ کو چھیڑتے ہیں۔ یہ بالکل غلط بات ہے۔ ہمیں اپنے لوگوں کو حق سے روشناس کرانے کے لئے باہر آنا ہوگا۔ ہمارے لوگ دلتوں اور آدیواسیوں کے مسائل کو سمجھ سکتے ہیں لیکن وہ فلسطین کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ ہمیں پادریوں کی بالادستی سے بھی باہر آنا ہوگا۔ ہمیں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں جاکر ان لوگوں کو سچائی بتانی ہوگی۔ یہ بہت ضروری ہے کیونکہ ہمارے اخبارات فلسطینیوں کے بارے میں سچائی نہیں لکھتے۔


دہلی یونیورسٹی میں ریسرچ اسکالر ندا عارف نے کہا کہ فلسطین میں نو آبادیاتی بستیوں کے قیام نے مجھے ان کے بارے میں مطالعہ کی طرف راغب کیا۔فلسطین میں نوآبادیاتی بستیاں اس زمانے میں قائم ہورہی تھیں جب نوآبادیاں دنیا سے تیزی سے ختم ہورہی تھیں ۔ایک غیر فطری وجود عرب دنیا کے قلب میں پوری قوت سے ابھر رہا تھا ۔ فلسطینیوں کی زمین سے محرومی بہت بڑا مسئلہ ہے جس سے دوسرے مسائل پیدا ہوتے ہیں ،اس سوال پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔


جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں ریسرچ اسکالر اسوتوش سنگھ نے کہا کہ صہیونیوں نے اپنا پیغام پھیلانے کے لئے میڈیا اور ماہرین تعلیم کو استعمال کیا ہے۔ جے این یو میں کمارا سوامی نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ گاندھی جی صہیونیت کے حامی تھے۔ کام شروع کرنے کے لئے یونیورسٹیاں بہترین مقام ہیں۔فلسطین کو صرف ایک مسلم مسئلہ کے طور پر نہیں دیکھنا چاہئے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ریسرچ اسکالر عالیہ خان نے کہا کہ اوسلو اور اوسلو کے بعد انتفاضہ نے فلسطینیوں کے اصل مسائل کو حل نہیں کیا۔درحقیقت اوسلو ثانی نے اسرائیل کو مزید قوت واختیارات عطا کردئے۔ اوسلو کے بعد جو دس فیصد زمین فلسطینیوں کے پاس رہ گئی تھی وہ بھی اسرائیلی ہاتھوں میں چلی گئی۔فلسطین میں پانی کے ذریعہ بھی نسل کشی ہورہی ہے۔ جہاں اسرائیلی، فلسطینی پانی سے لطف اندوز ہورہے ہیں وہیں فلسطینیوں پر خود اپنے پانی کے استعمال پر پابندیاں عائد ہیں۔ فلسطینی اقتصادیات بہت ہی بری حالت میںہیں کیونکہ فلسطینی علاقوں تک رسائی کے تمام مقامات پر اسرائیل کا کنٹرول ہے۔


جامعہ ملیہ اسلامیہ میں عربی کے پروفیسر ڈاکٹر عبدالمجید قاضی نے کہا کہ اصل نکبہ مئی ۱۹۴۸ میں واقع ہوا تھا لیکن فلسطینیوں کے ساتھ اس کے بعد بہت سے نکبات پیش آچکے ہیں۔ بھارت میں ۱۹۹۱ میں اکیلے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تقریبا ایک ہزار فلسطینی طالب علم تھے لیکن بعد میں بھارتی پالیسیوں میں زبردست تبدیلیاں کی گئیں جن کی وجہ سے فلسطینی طالب علموں کو اجتماعی طورپر بھارت کو چھوڑنے پر مجبور کردیا گیا۔ آج جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بھی کوئی فلسطینی طالب علم نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہر طرح کے مسائل کے باوجود آج فلسطینی مشرق وسطیٰ میں تعلیم واداب کے میدان میں سر فہرست ہیں۔


انڈوپال فاؤنڈیشن کے گوہر اقبال نے ،جو چند سال قبل فلسطینیوں کی حمایت کے لئے ایک فارم کی شکل میں قائم کی گئی تھی، کہا کہ ہم مختلف میدانوں کے مثلاً سفارت کاروں، سیاسی لیڈروں اور ماہرین تعلیم کے فلسطینی وفود کا یہاں خیر مقدم کرتے ہیں جو بھارت میں اپنے ہم منصب لوگوں سے روابط قائم کرتے ہیں۔ انڈوپال فاؤنڈیشن کے نمائندے بیروت اور استنبول وغیرہ مقامات پر فلسطینیوں کے ذریعے منعقد ہ کانفرنسوں میں شرکت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی سفارت خانہ بھارتی یونیورسٹیوں میں بہت سرگرم ہے۔

بی ڈی ایس کی جنوبی ایشیا میں کوآرڈینیٹر اپوروا نے کہا کہ یہاں اسرائیل زبردست مفادات حاصل کر رہا ہے۔ اسرائیل، بھارت کو اپنے ایک اتحادی کے طورپر فخریہ پیش کرتاہے۔ انڈین فلم انڈسٹری بھی اسرائیل کے لئے کام کررہی ہے کیونکہ اسرائیل میں انھیں شوٹنگ کے مواقع ومقامات فراہم ہوتے ہیں۔ اس میٹنگ نے بھارت کے مختلف شہروں جیسے دہلی، گوا، چنئی، وارانسی، ناگپور، علی گڑھ، مالا پورم اور سری نگر وغیرہ میں انڈوپال فاؤنڈیشن اور یونائٹیڈ اگیسنٹ ہیٹ کے تعاون سے ۱۵؍  مئی کو یوم نکبہ پرپروگرام منعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔ میٹنگ میں ”انڈین نیشنل الائنس فارپالسٹین“ کے نام سے ایک وفاقی تنظیم قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا تاکہ وہ تمام تنظیمیں اور افراد جو فلسطین کے لئے بھارت میں کام کررہے ہیں متحد ہوسکیں اور اس کے جھنڈے تلے کام کرسکیں۔


You May Also Like

Notify me when new comments are added.