مسلم خواتین کو بااختیار بنانا

مسلم خواتین کو با اختیار بنانے کا معاملہ پالیسی حلقوں، میڈیا اورماہرین تعلیم کے مابین ہمیشہ موضوع بحث رہا ہے۔ مختلف بیانات، تصورات اور خیالات ہیں کہ آخر بااختیار کس معنی میں ہے اور خصوصا جب مسلم خواتین کے سیاق و سباق میں بات کی جارہی ہو۔ بااختیاربنانے سے مراد عام طور پر کسی فرد کی مجموعی ترقی ہوتی ہے جس سے وہ خود کفیل ہوسکے، پیرامیٹر جس کے ذریعہ خواتین کو بااختیار بنایاجائے۔معاشرتی، ثقافتی، معاشی، سیاسی اورفیصلہ سازی کے میدان میں وہ بااہل ہوسکیں۔ تاہم کسی کو اصطلاح کی لغوی تعریف پر نہیں جانا چاہئے بلکہ عملی طورپر میدان میں اترنا چاہئے۔ عام طور پر مسلم خواتین کی پسماندگی ان کے اعتقادی نظام، قدیم خاندانی ڈھانچے اور مجموعی طور پر سماج کی معاشی پسماندگی پر محمول کی جاتی ہے، لیکن بڑا سوال یہ ہے کہ کیا مذہب اسلام مسلم خواتین کی آزادی اور انہیں بڑھنے سے کو روکتا ہے؟ یامعاشرتی اور ثقافتی دشواریاں ہیں جن سے ہندواور مسلم خواتین دونوں ہی یکساں طو رپر متاثرین ہیں۔

گیسٹ کالم

مسلم خواتین کو بااختیار بنانا

مکرمی!

مسلم خواتین کو با اختیار بنانے کا معاملہ پالیسی حلقوں، میڈیا اورماہرین تعلیم کے مابین ہمیشہ موضوع بحث رہا ہے۔ مختلف بیانات، تصورات اور خیالات ہیں کہ آخر بااختیار کس معنی میں ہے اور خصوصا جب مسلم خواتین کے سیاق و سباق میں بات کی جارہی ہو۔ بااختیاربنانے سے مراد عام طور پر کسی فرد کی مجموعی ترقی ہوتی ہے  جس سے وہ خود کفیل ہوسکے، پیرامیٹر جس کے ذریعہ خواتین کو بااختیار بنایاجائے۔معاشرتی، ثقافتی، معاشی، سیاسی  اورفیصلہ سازی کے میدان میں وہ بااہل ہوسکیں۔ تاہم کسی کو اصطلاح کی لغوی تعریف پر نہیں جانا چاہئے بلکہ عملی طورپر میدان میں اترنا چاہئے۔ عام طور پر مسلم خواتین کی پسماندگی ان کے اعتقادی نظام، قدیم خاندانی ڈھانچے اور مجموعی طور پر سماج کی معاشی پسماندگی  پر محمول کی جاتی ہے، لیکن بڑا سوال یہ ہے کہ کیا مذہب اسلام مسلم خواتین کی آزادی اور انہیں بڑھنے سے کو روکتا ہے؟ یامعاشرتی اور ثقافتی دشواریاں ہیں جن سے ہندواور مسلم خواتین دونوں ہی یکساں طو رپر متاثرین ہیں۔

جب بھی مسلم خواتین کو بااختیار بنانے پر بحث ہوتی ہے تو عمومی طور پر یہ بات  سمجھی جاتی ہے کہ مکمل طور پر مذہب انہیں معاشرتی کردار کو اپنانے کی طرف راغب کرتا ہے۔ یہ اکثر کہا  جاتا ہے کہ خواتین اپنے مذہب کی وجہ سے نئی سماجی تبدیلیوں اور جدید کاری کے عمل کی طرف مائل نہیں ہوتیں۔ ہندوستان میں مسلم کمیونٹی نے ترقیاتی امور میں امتیازات کا سامنا کیا ہے جس کی وجہ سے خواتین تعلیم اور روزگار کے معاملات میں بدترین پسماندگی کا شکار ہوئیں۔یہ کہنا مبالغہ آمیز نہیں ہوگا کہ مسلم معاشرے کی خواتین کا پوراطبقہ خاص طور پر دیہی مسائل سے دوچار ہے۔ہندوستان جیسے ایک پیچیدہ ثقافتی معاشرے میں خواتین کو بااختیار بنانے میں مذہب کو مکمل طور پر ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا مذہب مسلم خواتین کیلئے صرف دینی علوم میں ہی تعلیمی کیریئر کو منوانے کیلئے واقعی حد مقرر کرتا ہے؟۔ آئیے تاریخ کے تجزیے کے ذریعہ ہندوستانی سیاق و سباق میں اس سوال پر بات کرتے ہیں۔ متعدد مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت کے ذریعہ شروع کی گئی ریزرویشن اسکیموں نے دوسرے پسماندہ طبقات کے موازنے میں مسلم اقلیت کی پوزیشن تبدیل نہیں کی۔  اس میں بہت بڑا دخل غلط ریزرویشن نظام ہے، اسلام مرد اور خواتین دونوں کو تعلیم کیلئے حوصلہ افزائی کرتا ہے تاکہ وہ ترقی میں سرگرم شراکت دار بنیں۔

دین اسلام علم اور تعلیم کے حصول پر زیادہ زور دیتا ہے۔ متعدد آیات میں قرآن مجید تعلیم یافتہ افراد کی تعریف کرتا ہے،اختراعی سوچ اور تحقیق کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ جب علم کے حصول کے بارے میں بات کی جائے تو اسلام مردوں اور عورتوں میں تفریق نہیں کرتا۔سچی بات تو یہ ہے کہ خواتین کی تعلیم پر زیادہ زور دیا جاتا ہے کیونکہ ماں کو بچے کیلئے پہلا اسکول سمجھا جاتا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ بچی کو تعلیم دینا مذہبی فریضہ ہے۔ اس حقیقت سے کوئی  انکار نہیں کرسکتا کہ مسلم خواتین دوسری مذہبی جماعتوں کے برابر خواندگی حاصل کرنے میں پیچھے رہ گئی ہیں  اور یہ بھیکہ اس کی وجہ مذہب قطعی نہیں۔ ڈاکٹر گوپال سنگھ کی قیادت میں ایک اعلی سطحی کمیٹی جو 1980 میں حکومت کی وزارت داخلہ نے تشکیل دی تھی نے پایاکیا کہ اقلیتوں میں مسلمان سب سے زیادہ پسماندہ ہیں۔ جسٹس راجندر سچر کی زیرصدارت 2005 میں وزیر اعظم کی اعلی سطحی کمیٹی کی ایک اور رپورٹ میں پتہ چلا کہ مسلم کمیونٹی کی حالت پہلے کی بہ نسبت خراب ہوئی ہے۔ اسی طرح کی ایک رپورٹ جسٹس رنگناتھ مشرا  کی بھی آئی،  جو حکومتی سطح پر 2005 میں قائم کی گئی تھی۔ اعداد و شمار کے مطابق ہندوستانی مسلم کمیونٹی کی تقریبا48.11 فیصد خواتین ناخواندہ ہیں۔ یہاں مسلم لڑکیوں میں پرائمری سطح پر ڈراپ آؤٹ زیادہ ہے۔ مطالعات میں مزید انکشاف ہوا ہے کہ اعلی تعلیم میں مسلم طلبہ کی فیصد سب سے کم ہے اور مسلم طلبہ کا معاملہ تو تقریبا ناپید ہے۔

ہندوستان میں مسلم خواتین کی حیثیت پر بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ خصوصی فلاحی اسکیمیں سیاسی،تعلیمی اور روزگار کے مواقع میں تحفظات وقت کی ضرورت ہے تاکہ اس کے ذریعہ خواتین کو خود کو بااختیار بنانے کی ترغیب دی جاسکے۔ چونکہ ہندوستان میں بیشتر مسلم خواتین اپنے حقوق اور ان کے لئے دستیاب سرکاری اسکیموں سے بخوبی واقف نہیں ہیں،اسلئے عوامی بیداری کا پروگرام بہت ضروری ہے۔ جبکہ معاشرے کے پسماندہ طبقوں خصوصا خواتین کے استحکام اور ترقی کیلئے حکومتی طریقہ کار ایک لازمی شرط ہے، خاص طور پر مسلم سماج میں مذہبی اور جدید تعلیم کے مابین توازن پیدا کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے تاکہ دونوں تعلیم کی حصولیابی کے ساتھ خواتین آبادی اپنے لئے روشن مستقبل محفوظ  کرنیکے قابل ہوں  اور معاشرتی بہبود اور ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔ اسی کے ساتھ اس بات پر بھی زور دینے کی ضرورت ہے کہ ہندوستانی مسلم خواتین کو اپنی اہمیت،مقام اور ذمہ داری سمجھنے کی ضرورت ہے۔

 

محمد ہاشم، چوڑیوالان،، جامع مسجد دہلی

وضاحت نامہ:۔یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ مضمون کو من و عن شائع کیا گیا ہے۔ اس میں کسی طرح کا کوئی ردوبدل نہیں کیا گیاہے۔ اس سے وطن سماچار کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی جانکاری کیلئے وطن سماچار کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی وطن سماچاراس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے۔ 


 

You May Also Like

Notify me when new comments are added.