ڈاکٹر راحت اندوری : بحیثیت شاعر

ڈاکٹر راحت اندوری 1 جنوری 1950ءکو صوبہ مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں پیدا ہوئے ۔ والد رفعت اللہ قریشی اور والدہ کا نام النساء بیگم تھا ابتدائی تعلیم نوتن اسکول اندور اور اسلامیہ کالج اندور سے بیچلر مکمل کیا 1975ء میں برکت اللہ یونیورسٹی بھوپال سے اردو ادب میں ایم اے کیا 1985ء میں مدھ پردیش کے مدھ پردیش بھوج اوپن یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ان کے تحقیق کا موضوع "اردو مشاعرے "تھا کچھ عرصہ اندور یونیورسٹی شعبہ اردو میں ملازمت بھی کی بعد میں فلمی نگری ممبئی چلے گئے اور فلموں کے لئے گیت لکھتے رہے۔ انہوں نے بہت سی فلموں میں نغمہ نگاری کی جیسے منا بھائی ایم بی بی ایس،آشیاں،قریب،مرڈر وغیرہ فلموں میں گانے لکھے۔

گیسٹ کالم


ڈاکٹر راحت اندوری : بحیثیت شاعر

 

ڈاکٹر راحت اندوری 1 جنوری 1950ءکو صوبہ مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں پیدا ہوئے ۔ والد رفعت اللہ قریشی اور والدہ کا نام النساء بیگم تھا ابتدائی تعلیم نوتن اسکول اندور اور اسلامیہ کالج اندور سے بیچلر مکمل کیا 1975ء میں برکت اللہ یونیورسٹی بھوپال سے اردو ادب میں ایم اے کیا 1985ء میں مدھ پردیش کے مدھ پردیش بھوج اوپن یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ان کے تحقیق کا موضوع "اردو مشاعرے "تھا کچھ عرصہ اندور یونیورسٹی شعبہ اردو میں ملازمت بھی کی بعد میں فلمی نگری ممبئی چلے گئے اور فلموں کے لئے گیت لکھتے رہے۔ انہوں نے بہت سی فلموں میں نغمہ نگاری کی جیسے منا بھائی ایم بی بی ایس،آشیاں،قریب،مرڈر وغیرہ فلموں میں گانے لکھے۔

 

راحت اندوری نے پہلی شادی 1988ء میں مشہور شاعرہ انجم رہبر سے کی مگر یہ شادی راس نہیں آئی اور جلد ہی 1993ء میں طلاق ہو گیا پھر انہوں نے دوسری شادی سیمہ نامی خاتون سے کی جو آخری دم تک آپ کی ہم سفر رہیں ۔

 

راحت صاحب عالمی سطح کے شاعر ہیں دنیا میں جہاں جہاں بھی اردو ہے وہاں وہاں راحت اندوری نے اپنی سلیس و ساده اور بامعنی غزلوں سے لوگوں کو متاثر کیا اور خوب داد و تحسین حاصل کی انہیں مشاعروں کا بادشاہ Star Poet کہا جاتا ہےاردو مشاعرے میں انہیں لوگ ہمہ تن گوش ہو کر سماعت کرتے تھے وقت کے گزرنے کا احساس تک نہیں ہوتا تھا ان کے لب و لہجے میں بلا کی کشش ہوتی تھی اور ان کی شاعری لوگوں کے دلوں میں براہ راست اترتی چلی جاتی تھی گنگا کے پانی کی طرح ایک ایک لفظ صاف و شفاف ہوتا تھا راحت اندوری کو اردو کا سفیر کہا جا سکتا ہے وہ ہندی کے کوی سمیلنوں میں بھی اردو کا جادو جگاتے ہیں ہندی والے بھی ان سے ٹوٹ کر محبت کرتے ہیں۔

 

اگر خلاف  ہیں  ہونے  دو  جان  تھوڑی  ہے

یہ سب دھواں ہے کوئی  آسمان تھوڑی  ہے

لگے گی آگ تو  آئیں گے  گھر  کئی  زد  میں

یہاں   پہ   صرف   ہمارا   مکان  تھوڑی  ہے

جو آج صاحب  مسند ہیں  کل  نہیں ہونگے

کرائے   دار   ہیں    ذاتی   مکان   تھوڑی ہے 

سبھی کا خون ہے شامل یہاں کی مٹی میں 

کسی  کے   باپ   کا   ہندوستان  تھوڑی  ہے

 

میرے حجرے میں نہیں اور کہیں پر رکھ دو

آسماں   لائے   ہو   لے  آؤ  زمیں  پر  رکھ  دو 

اب  کہاں   ڈھونڈنے  جاؤ   گے   ہمارے  قاتل 

آپ   تو   قتل   کا   الزام   ہمیں  پر  رکھ  دو

 

راحت اندوری کے مندرجہ بالا اشعار کی مقبولیت کے حوالے سے میں صرف اتنا کہہ دینا کافی سمجھتا ہوں کہ راحت صاحب کے یہ اشعار نہ صرف مشہور و مقبول بلکہ عوام و خواص کے حافظے کا حصہ ہیں ۔

 

اردو میں نظیر اکبر آبادی کو جمہوری یا عوامی شاعر کہا جاتا ہے کسے خبر تھی کہ اکیسویں صدی میں اندور کا رہنے والا ایک شاعر بھی عوامی شاعر کہلائے گا اس کی شاعری عوام کے احساسات کی ترجمانی کرے گی ان کے دلوں کو جوش وخروش سے بھر دے گی مایوسی کے اندھیرے میں امید کی کرن پیدا کرے گی راحت اندوری کی سب سے بڑی خاصیت یہی ہے کہ وہ عوام کے خیالات اپنے کلام میں بیان کرتے ہیں 1986ء میں راحت اندوری نے کراچی کے مشاعرے میں ایک شعر پڑھا جسے لوگوں نے اتنا پسند کیا کہ پانچ منٹ تک ہال تالیوں کی آواز سے گونجتا رہا پھر انہوں نے وہی شعر دہلی میں پڑھا تو یہاں بھی وہی منظر رہا ۔

 

بعض شاعر کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ شعر کسی کی سمجھ میں مشکل سے آئے اور لوگ الفاظ کے معنی تلاش کرتے پھریں اور بعض شاعر وہ ہوتے ہیں جنہیں اس بات کی کوئی فکر نہیں ہوتی کہ صدیوں بعد ان کا ادب انہیں کس طرح یاد رکھے گا وہ لمحہ موجودہ میں جیتے ہیں اور اپنی شاعری کے موضوعات آس پاس  کے واقعات سے اٹھاتے ہیں راحت اندوری بھی اسی قسم کے شاعر تھے وہ حالات حاضرہ پر لکھنا اور پڑھنا پسند کرتے تھے۔

 

ڈاکٹر راحت اندوری مسلمانوں کی زبوں حالی پر مرثیہ اور ان کی عظیم تاریخ پر کس طرح قصیدہ خوانی کرتے ہیں شعر ملاحظہ ہو ؎

 

ہمارے سر کی پھٹی ٹوپیوں پہ طنز نہ کر 

ہمارے تاج عجائب گھروں میں رکھے ہیں

 

راشد علی لکھتے ہیں"منفی سیاست کے چال چلن کا بھرپور پوسٹ مارٹم کیا کرتے ۔اپنے انوکھے انداز اور حسین امتزاج اورشاندار کلام سے لوگوں کے من موہ لیتے ،بلاشبہ وہ اپنے ہم عصروں میں بلندپایہ مقام رکھتے تھے۔انہوں نے مشاعروں کو اپنے موجودگی سے پہچان بخشی ،ان کے بغیر انٹرنیشنل مشاعرے ادھورے رہا کرتے " شعر ملاحظہ فرمائیں۔

 

سرحدوں پر بہت تناؤ ہے کیا

کچھ پتہ تو کرو چناؤ ہے کیا 

 

پلوامہ حملہ اور پارلیمانی انتخاب 2019 کے دوران یہ شعر بہت ہٹ ہوا راحت اندوری نے یہ شعر اس سے بہت پہلے کہا تھا ہند و پاک دونوں کی سیاست ایک دوسرے کے خلاف زہر اگلنے پر مبنی ہے اقلیتیں دونوں ملکوں میں محفوظ نہیں ہیں لیکن دونوں اپنے اپنے ممالک میں انہیں حقوق و تحفظ دینے کے بجائے ان سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں انتخابات کے دوران ایک دوسرے کا خوب ذکر کیا جاتا ہے راحت اندرونی کا یہ شعر ہند و پاک کی سیاسی منظر کشی کرتا ہے ۔

 

سب کی پگڑی کو ہواؤں میں اچھالا جائے 

سوچتا   ہوں   کوئی   اخبار   نکالا   جائے

 

میڈیا جسے کسی زمانے میں جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا تھا آج وہی میڈیا اپنی ذمہ داریوں سے انحراف کرتا ہوا نظر آتا ہے آج کا میڈیا اپنی ذمہ داریوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کسی خاص شخص یا قوم کی پگڑیاں اچھالنے میں ذرا سی بھی شرم محسوس نہیں کرتا ماضی قریب میں ہندوستانی میڈیا نے نظام الدین مرکز پر جس طرح نشانہ سادھا  ہم اور آپ اس سے بخوبی واقف ہیں ۔

 

اردو میں شاید ہی کوئی ایسا شاعر گزرا ہو جس نے ایک بھی نعتیہ شعر  نہ کہا ہو ڈاکٹر راحت اندوری نے بھی نعت گوئی کی حالانکہ نعتیہ مشاعرے بہت کم پڑھے ان کے نعتیہ اشعار میں حضور نبی کریم صلی علیہ وسلم  سے سچی عقیدت و محبت کا جذبہ نظر آتا ہے جو مومن کے ایمان کا حصہ بھی ہے لکھتے ہیں ؎ 

 

زم زم و کوثر و تسنیم  نہیں   لکھ   سکتا 

یا نبیﷺآپ کی تعظیم  نہیں  لکھ  سکتا

میں اگر سات سمندر بھی نچوڑوں راحتؔ

 آپ  کے  نام  کی اک میم نہیں لکھ  سکتا

 

ڈاکٹر راحت اندوری کی نعتیہ شاعری کے بارے میں فاطمہ حق اپنے ایک مضمون "راحت اندوری کی نعتیہ شاعری: ایک جائزہ "میں لکھتی ہیں " اس میں شاعر کے شکستہ دل کی فریاد بھی شامل ہے اور ہر شعر بارگاہ نبوی میں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے بیتاب ہے مجھے کہنے دیجئے کی راحت اندوری کے نعتیہ شاعری کے مطالعے سے قارئین کے دلوں میں ایمان و آگہی کے نور کا چشمہ ابل پڑتا ہے اور روحانی کیف و سرور حاصل ہوتا  بلاشبہ راحت اندوری فنِ نعت نگاری میں ید طولی رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کا نعتیہ کلام  خلوص و محبت کے جذبے سے سرشار، عشق و یقین کی خشبو سے معطر اور تسلیم و رضا کے رنگ میں رنگا ہوا ہے" فرماتے ہیں۔

 

بند آنکھیں ہیں چارسو ہیں آپﷺ

اس   اجالے  کی  آبرو  ہیں  آپﷺ

نعت  پڑھتا   ہوں   اور   لرزتا  ہوں 

ایسا   لگتا  ہے  روبرو  ہیں  آپﷺ

 

 

زیارتِ دربارِ رسول صلی علیہ وسلم کے لئے بیتاب نظر آتے ہیں ان کی خواہش تھی کہ زندگی میں ایک بار ہی سہی گمبد خضریٰ کی زیارت نصیب ہو جائے اور راحت صاحب کی یہ خواہش پوری بھی ہوئی شعر ملاحظہ ہو ؎

 

میں ہندوستان میں ہوں اور مدینہ پاس رہتا  ہے

انگوٹھی   دور   رہتی   ہے  نگینہ  پاس  رہتا  ہے 

لگا رکھی ہے لو سرکارﷺ کے دربار سے  میں  نے

اسی   دربار  سے  جنت  کا  زینہ  پاس  رہتا   ہے

 

ڈاکٹر راحت اندوری ساری زندگی اردو کی خدمت کرتے رہے تمام عالم میں اردو ادب و شاعری کا اقبال بلند کیا کئی کتابوں کے مصنف بھی ہوئے بحیثیت شاعر دنیا میں اپنا نام پیدا کیا لوگوں کے دلوں پر راج کرتے رہے طبیعت علیل ہونے پر 11 اگست 2020 کی صبح اندور کے ایک ہسپتال میں داخل کیا گیا کووڈـ19 کی جانچ رپورٹ مثبت آئی راحت صاحب بندش قلب کے مرض میں بھی مبتلا تھے کم و بیش 70 برس کی عمر میں انتقال ہو گیا ۔ 

 

 

 

 

 

 

 

 

                                                                                                      محمداحتشام انصاری

  شعبہ عربی فارسی

  الہ آباد یونیورسٹی

 رابطہ نمبر - 9598610529

 

وضاحت نامہ:۔یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ مضمون کو من و عن شائع کیا گیا ہے۔ اس میں کسی طرح کا کوئی ردوبدل نہیں کیا گیاہے۔ اس سے وطن سماچار کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی جانکاری کیلئے وطن سماچار کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی وطن سماچاراس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے۔ 


 

You May Also Like

Notify me when new comments are added.