بریکنگ نیوز

مذہب

فکر وخیالات

مدیر کی قلم سے

Poll

Should the visiting hours be shifted from the existing 10:00 am - 11:00 am to 3:00 pm - 4:00 pm on all working days?

SUBSCRIBE LATEST NEWS VIA EMAIL

Enter your email address to subscribe and receive notifications of latest News by email.

ڈاکٹر کفیل کو معاوضہ اورافسران کی جوابدہی طے ہو

انڈین مسلمس فار پروگریس اینڈ ریفارمس نے ڈاکٹر کفیل خان پر عائد این ایس اے کو فوری طور پر رد کرنے اور ڈاکٹر کفیل خان کو فوری طور پر رہا کرنے کے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ انڈین مسلمس فار پروگریس اینڈ ریفارمس کی طرف سے جاری ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر کفیل خان کو فروری میں قومی سلامتی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا تھا ، لیکن خوشی کی بات ہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے اہم فیصلے میں ڈاکٹر کفیل خان سے فوری طور پر نہ صرف این ایس اے کو ہٹانے اور ان کی رہائی کا حکم صادر کیا بلکہ ان کی نظربندی کی مدت کو بھی غلط قرار دیا۔

وطن سماچار ڈیسک

ڈاکٹر کفیل کو معاوضہ اورافسران کی جوابدہی طے ہو 
 امپار نے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کیا مطالبہ

نئی دہلی : انڈین مسلمس فار پروگریس اینڈ ریفارمس نے ڈاکٹر کفیل خان پر عائد این ایس اے کو فوری طور پر رد کرنے اور ڈاکٹر کفیل خان کو فوری طور پر رہا کرنے کے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ انڈین مسلمس فار پروگریس اینڈ ریفارمس کی طرف سے جاری ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر کفیل خان کو فروری میں قومی سلامتی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا تھا ، لیکن خوشی کی بات ہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے اہم فیصلے میں ڈاکٹر کفیل خان سے فوری طور پر نہ صرف این ایس اے کو ہٹانے اور ان کی رہائی کا حکم صادر کیا بلکہ ان کی نظربندی کی مدت کو بھی غلط قرار دیا۔

امپار نے اپنی پریس ریلیز میں کہا کہ چیف جسٹس گووند ماتھور اور جسٹس سمترا دیال سنگھ کی ڈویژن بنچ نے ڈاکٹر کفیل خان کے خلاف فوری طور پر این ایس اے کو کالعدم قرار دینے کا حکم دیا۔ واضح رہے کہ 13 فروری 2020 کو ڈاکٹر کفیل خان کو علی گڑھ کے ڈی ایم نے حراست میں لینے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں ڈاکٹر کفیل خان کی نظربندی کی مدت میں توسیع کو بھی غیر قانونی قرار دیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ڈاکٹر کفیل خان نے 13 دسمبر 2019 کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف جو تقریر کی تھی اس میں واضح نہیں ہوتا ہے کہ انہوں نے حکومت یا کسی بھی برادری کے خلاف کوئی اشتعال انگیز بات کہی ہے۔

امپار نے کسی شخص کو غیر قانونی طور پر سزا دینے کے لئے افسران کی جوابدہی طے کرنے کا مطالبہ کیا ہے ، تاکہ کسی فرد کو جرم کیے بغیر نظربند کرنے کا کوئی کام نہ ہو۔ امپار نے متاثرہ افراد کو ہوئی تکلیف ، وقار کو نقصان پہنچانے اور لواحقین کو تکلیف پہنچنے پر معاوضے کی بھی اپیل کی ہے۔ امپار نے کہا ہے کہ وہ شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے اتھارٹیز سے توقع کرتا ہے ، تاکہ مستقبل میں کسی کو بھی سیاسی یا کسی اوروجہ سے گرفتار نہ کیا جائے اور انہیں ہراسانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔


You May Also Like

Notify me when new comments are added.