Hindi Urdu

مذہب

فکر وخیالات

مدیر کی قلم سے

Poll

Should the visiting hours be shifted from the existing 10:00 am - 11:00 am to 3:00 pm - 4:00 pm on all working days?

SUBSCRIBE LATEST NEWS VIA EMAIL

Enter your email address to subscribe and receive notifications of latest News by email.

حضرت عائشہ پر وسیم رضوی کی فلم کے بارے میں دہلی اقلیتی کمیشن کا نوٹس اور عبوری حکم

دہلی اقلیتی کمیشن نے اپنے آرڈر میں مزید کہا ہے: ’’چونکہ یہ بہت حساس مسئلہ ہے، اس کی وجہ سے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات مشتعل ہونگے اور بڑے پیمانے پر تشدد پھیل سکتا ہے نیز ہمارے ملک کی اس سے بےعزتی ہوگی، اس لیے جب تک یہ کیس نیم عدالتی اختیارات کی مالک دہلی اقلیتی کمیشن میں درج ہےآپ اس پروجیکٹ پر مزید کوئی کام نہیں کریں گے‘‘۔

وطن سماچار ڈیسک

نئی دہلی: میڈیا رپورٹوں اور دہلی کے کچھ باشندوں کی شکایت پر دہلی اقلیتی کمیشن نے شری وسیم رضوی کو ایک نوٹس بھیجا ہے۔ اطلاعات کے مطابق شری  رضوی حضور پاک کی زوجۂ طاہرہ حضرت عائشہ کے بارے میں ایک فلم بنارہے ہیں یا بنا چکے ہیں۔ انھوں نے اپنی فلم کا ایک ٹریلر ریلیز کیا ہے اور اس متنازع پروجیکٹ کے بارے میں بیانات بھی دیے ہیں۔اس فلم کی خبروں سے مسلمانان ہند سخت ناراض ہیں۔ شری رضوی کو کمیشن نے حکم دیا ہے کہ 2 اکتوبر تک اپنا جواب فائل کرکے بتائیں : (1) اس پروجیکٹ کا مقصد کیا ہے؛  (2) اس وقت یہ پروجیکٹ کس مرحلے میں ہے اور (3) کیا اس فلم کے لیے سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن سے اجازت  لی گئی ہے یا اس کے لیے درخواست دی گئی ہے۔ کمیشن نے شری رضوی کو یہ حکم بھی دیا ہے کہ  کمیشن کو مذکورہ فلم یا اس کے ٹریلر کا سی ڈی فراہم کریں، سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن کے اجازت نامے یا اس کے لیے دی گئی درخواست کی کاپی مہیا کریں اور فلم کی اسکرپٹ کے ساتھ اس کے لکھنے والے ، ریسرچ کرنے والے اورڈائرکٹر وغیرہ  کے نام بھی بتائیں۔

دہلی اقلیتی کمیشن نے اپنے آرڈر میں مزید کہا ہے: ’’چونکہ یہ بہت حساس مسئلہ ہے، اس  کی وجہ سے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات مشتعل ہونگے اور بڑے پیمانے پر تشدد پھیل سکتا ہے نیز ہمارے ملک کی اس سے بےعزتی ہوگی، اس لیے جب تک یہ کیس نیم عدالتی اختیارات کی مالک دہلی اقلیتی کمیشن میں درج ہےآپ اس پروجیکٹ پر مزید کوئی کام نہیں کریں گے‘‘۔

اسی کے ساتھ دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن کو  خط لکھ کر کہا ہے کہ ’’یہ فلم  حد درجے کی اہانت ہے جس سے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات نہ صرف ہندوستان میں مشتعل ہونگے بلکہ دنیا کے بہت سے ملکوں میں بھی غصے کی لہر دوڑے گی کیونکہ پیغمبر اسلام کی زوجہ پر فلم نہیں بنائی جاسکتی ہے بلکہ ان کا کارٹون تک نہیں بنایا جاسکتا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو ہماری سڑکوں پر تشدد پھیلے گا ۔ آپ سے درخواست ہے کہ اس اہانت انگیز فلم کو اجازت نامہ نہ دیں‘‘۔  اقلیتی کمیشن کے صدر نے اپنے خط میں مذکورہ بورڈ کو  مزید مطلع کیا  ہے کہ ’’اگر یہ فلم ریلیز ہوتی ہے تو ہم کم از کم صوبہ دہلی میں اس پر پابندی لگادیں گے‘‘۔

 

You May Also Like

Notify me when new comments are added.