دہلی اقلیتی کمیشن نے سماجی سیوا کرنے والے افراد اور غیر سرکاری تنظیموں کو ایوارڈ دئے

ڈاکٹر ظفر الاسلام نے خاص طور پر موجودہ اوقات میں اقلیتوں اور معاشرے کے مفاد کے لئے انتھک کام کرنے والے افراد اور غیر سرکاری تنظیموں کی کاوشوں کو سراہا،خصوصا ایسے وقت میں جب ہندوستان کے سیکولر نظام اور آئین کو بچانے کے لئے کوششوں کو دوگنا کردینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ معاشرے میں ہر ضرورت مند فرد اور طبقے کی سرکاری سہولیات تک رسائی نہیں ہوسکتی ہے، لہذا افراد اور غیر سرکاری تنظیموں کو اس خلا کو پُر کرنے کے لئے آگے آنا چاہئے۔ ہمارے پاس بہت سی این جی اوز عوام کے لئے کام کر رہی ہیں، لیکن اس کے باوجود ان کی تعداد اور پہنچ مغربی ممالک میں پائی جانے والی این جی اوز کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ رضاکارانہ اور فلاحی کاموں کو ہماری دوسری عادت بن جانا چاہئیتاکہ ان لوگوں کی ترقی ہو سکے جو کسی وجہ سے قومی دھارے میں شامل نہیں ہوسکے ہیں، بالخصوص تعلیم کی کمی اور مہارتیں سیکھنے میں ناکامی کی وجہ سے۔بلاشبہہ ایک اہم ضرورت غریبوں اور مساکین کی فوری ضروریات کو پورا کرنا ہے لیکن طویل المیعاد اور زیادہ فائدہ مند طریقہ یہ ہے کہ ان کی پسماندگی کی وجوہات کو مٹا یا جائے،خاص طور پر ان بچوں پر توجہ صرف کی جائے جو کسی وجہ سے اسکول نہیں جا رہے ہیں، نیز بڑوں کو ہنر سکھانا چاہئے تاکہ وہ افرادی قوت میں شامل ہوسکیں اور وقار کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔

وطن سماچار ڈیسک

دہلی اقلیتی کمیشن  نے سماجی سیوا کرنے والے افراد اور  غیر سرکاری تنظیموں کو ایوارڈ دئے

نئی دہلی، 12 جون 2020: دہلی اقلیتی کمیشن نے آج صوبۂ  دہلی میں اقلیتی برادریوں  کی خدمت میں سرگرم منتخب افراد اور غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کو ایوارڈز دئے۔ اقلیتی کمیشن  کے صدر ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے تقریب میں موجود ہر ایوارڈ یافتہ کو  شیلڈ اور ایوارڈکا کتابچہ پیش کیا۔

ڈاکٹر ظفر الاسلام نے خاص طور پر موجودہ  اوقات میں اقلیتوں اور معاشرے کے مفاد کے لئے انتھک کام کرنے والے افراد اور غیر سرکاری تنظیموں کی کاوشوں کو سراہا،خصوصا ایسے وقت میں  جب ہندوستان کے سیکولر نظام اور آئین کو بچانے کے لئے کوششوں کو دوگنا کردینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ معاشرے میں ہر ضرورت مند فرد اور طبقے کی سرکاری سہولیات تک رسائی نہیں ہوسکتی ہے، لہذا افراد اور غیر سرکاری تنظیموں کو اس خلا کو پُر کرنے کے لئے آگے آنا چاہئے۔ ہمارے پاس بہت سی این جی اوز  عوام کے لئے کام کر رہی ہیں، لیکن اس کے باوجود  ان کی تعداد  اور پہنچ مغربی ممالک میں پائی جانے والی این جی اوز کے مقابلے میں  بہت کم ہے۔ رضاکارانہ اور فلاحی کاموں کو ہماری دوسری عادت بن جانا چاہئیتاکہ ان لوگوں کی ترقی ہو سکے جو کسی وجہ سے قومی دھارے میں شامل نہیں ہوسکے ہیں، بالخصوص  تعلیم کی کمی اور مہارتیں سیکھنے میں ناکامی کی وجہ سے۔بلاشبہہ ایک اہم ضرورت غریبوں اور مساکین کی فوری ضروریات کو پورا کرنا ہے لیکن طویل المیعاد اور زیادہ فائدہ مند طریقہ یہ ہے کہ  ان کی پسماندگی کی وجوہات کو مٹا یا جائے،خاص طور پر ان بچوں پر توجہ صرف کی جائے  جو کسی وجہ سے اسکول نہیں جا رہے ہیں، نیز  بڑوں کو ہنر سکھانا چاہئے تاکہ وہ افرادی قوت میں شامل ہوسکیں اور وقار کے ساتھ  زندگی گزار سکیں۔

پچھلے تین دنوں کے دوران، کمیشن نے دہلی میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اقلیتی طلباء، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور انسانی حقوق کے لئے کارکنان، این جی اوز، اردو اور پنجابی زبانوں کے فروغ دینے والیوں، کھلاڑیوں اور بہترین اساتذہ میں ایوارڈ تقسیم کیے۔

کمیشن نے اس سے قبل ایوارڈز دسمبر 2018 میں وگیان بھون میں منعقدہ ایک یادگار تقریب میں تقسیم کیے تھے لیکن اس بار، کوویڈ 19 لاک ڈاؤن کی وجہ سے  ایک بڑی تقریب کا انعقاد ممکن نہیں تھا۔ لہذا کمیشن سماجی دوری کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے دفتر میں چھوٹے چھوٹے فنکشن منعقد کرکے یہ کام انجام دے رہا ہے۔

اس سال کمیونٹی سروس کے لئے منتخب کردہ ایوارڈز کی فہرست یہ ہے:

 

بھدنت بدھا کیرتی (بدھ برادری کی خدمت میں نمایاں کردار)، اسد مسیح (منیر سوشل ویلفیئر سوسائٹی)، رینا چارلز (انسانی حقوق کی کارکن،  سماج کی خدمت)، وکٹر (سماجی کارکن)، فادر ورگھیز کنتھ (نوجوانوں، طلباء، اساتذہ کے لئے سیمینار، تربیت)، ریہاب فاؤنڈیشن (سماجی خدمت)، کاروان فاؤنڈیشن (سماجی خدمت)، سہولت مائیکرو فائننس سوسائٹی (مائیکرو فنانس کو  فروغ دینے اور بلا سودی قرضے فراہم کرنے کی قومی این جی او)، اشونی کمار بیروا  (این جی او کے صدر، بدر پور کے علاقے میں سماجی  کام)، محمد خالد خان (سماجی خدمت)، ڈاکٹر بدرالاسلام  (یوگا کو فروغ دینے والے)، سربجیت سنگھ (سماجی خدمت)، ایڈوکیٹ ابوبکرسباق (سماجی خدمت، انسانی حقوق کی حفاظت)، مشرف حسین (سماجی خدمت)، شمع خان (سماجی خدمت، خاص طور پر کچی آبادی کے علاقوں میں)، مسرور الحسن صدیقی (سماجی خدمت)، مسز فیروزا جساوالا (سماجی خدمت)، ایس ایس ایس گروندر سنگھ (بچوں کی تعلیم کے فروغ کے ذریعیاقلیتی طبقات کی مدد کرنا))، منجیت سنگھ (نانک جی اے چیریٹیبل فاؤنڈیشن)، پرمیت سنگھ چڈھا  (سماجی کارکن)، مندیپ سنگھ (تعلیمی اداروں اور این جی اوز کی مدد سے اقلیتوں کی خدمت)، وراثت سکھ ازم ٹرسٹ (سکھ ورثہ اور پنجابی زبان کی ترقی)، پرمندر سنگھ ملک (سماجی خدمت، خاص طور پر تعلیم کا فروغ)،ہسلین سنگھ سودھی ایڈوکیٹ (اقلیتی برادری کی قانونی  مدد)، بی بی ترویندرکورخالصہ (سماجی خدمت)، اوتار سنگھ(سماجی خدمت)، گگندیپ سنگھ(سماجی خدمت)، اندرجیت سنگھ استھ  (سماجی خدمت)، جسپال سنگھ  (سماجی خدمت)، سورن جیت سنگھ (سماجی خدمت)، اجیت کور (سماجی خدمت)، ڈاکٹر انجو جین(سماجی خدمت)، منجیت سنگھ(سماجی خدمت)، تنویر قاضی (ایکشن ایڈ انڈیا کے دہلی کے سربراہ (سماجی خدمت)، اویس سلطان خان (انسانی حقوق کے کارکن)، ڈی ایس بِندرا ایڈوکیٹ (لنگروں  کے منتظم)۔

You May Also Like

Notify me when new comments are added.