اقلیتی کمیشن نے این جی اوز ، انسانی حقوق اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے کارکنان اور اردو و پنجابی زبانوں کو فروغ دینے والوں کو ایوارڈز دئے

ڈاکٹر ظفر الاسلام نے بڑے پیمانے پر اورخاص طور پر موجودہ حالات میں اقلیتوں اور سماج کے مفاد کے لئے انتھک کام کرنے والے افراد اور غیر سرکاری تنظیموں کی کاوشوں کو سراہا ۔ انھوں نے کہا کہ آج کل کے حالات میں ہندوستان کےسیکولر نظام اور آئین کو بچانے کے لئے کوششوں کو دوگنا کردینا چاہئے۔

وطن سماچار ڈیسک

 

اقلیتی کمیشن نے  این جی اوز، انسانی حقوق   اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے  کارکنان اور اردو  و پنجابی زبانوں کو فروغ دینے والوں کو ایوارڈز  دئے

نئی دہلی، 10 جون 2020: دہلی اقلیتی کمیشن نے آج  کچھ چنیدہ  این جی اوز، انسانی حقوق  اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لئے کام کرنے والوں اور اردو و پنجابی زبانوں کے فروغ  کے لئے کام کرنے والوں کو اپنے  کانفرنس روم میں دو شفٹوں  کے دوران  ایوارڈز تقسیم کیے۔

 

dmc.png

دہلی اقلیتی کمیشن کے صدر  ڈاکٹر ظفر الاسلام خان اور ممبر انستاسیا گل نے دونوں تقریبات میں  ایوارڈز حاصل کرنے والوں  کو شیلڈز اور ایوارڈز  کے کتابچے  پیش  کیے۔

 ڈاکٹر ظفر الاسلام نے بڑے پیمانے پر  اورخاص طور پر  موجودہ حالات میں اقلیتوں اور  سماج  کے مفاد کے لئے انتھک کام کرنے والے افراد اور غیر سرکاری تنظیموں کی کاوشوں کو سراہا۔ انھوں نے  کہا کہ آج کل کے حالات میں  ہندوستان کیسیکولر نظام اور آئین کو بچانے کے لئے کوششوں کو دوگنا کردینا چاہئے۔

کمیشن نے اس سے قبل دلی کے  وگیان بھون میں منعقدہ ایک یادگار تقریب میں پچھلے سال کے ایوارڈز تقسیم کیے تھے لیکن اس بار، کوویڈ 19 لاک ڈاؤن کی وجہ سے  کسی بڑی تقریب کا انعقاد ممکن نہیں تھا۔ لہذا کمیشن سماجی دوری کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے دفتر میں چھوٹے چھوٹے  فنکشن  کرکے یہ کام انجام دے رہا ہے۔

یہاں ان چاروں  زمروں  کے تحت منتخب کردہ افراد و تنظیموں کی فہرست ہے جن کو آج ایوارڈز  دئے گئے:

سماجی ہم آہنگی:  ڈاکٹر ایم ڈی تھامس (بین المذاہب مکالمہ)، ڈاکٹر ونسنٹ منوہرن (بین المذاہب مکالمہ)، تیج لال بھارتی (فرقہ وارانہ ہم آہنگی)، ایم فاروق انجینئر (فرقہ وارانہ ہم آہنگی)، رئیس احمد (صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن)، اقبال ملا (بین المذاہب مکالمہ)، بابا ہردیپ سنگھ جی (فرقہ وارانہ ہم آہنگی)، سول آف ہیومینیٹی  (ضرورت مندوں کی مدد کرنے والا این جی او)، وشو ستسنگ سبھا (فرقہ وارانہ ہم آہنگی)، جیشری شکلا (گنگا جمنی تہذیب  کو فروغ دینے والی اور پرانی دہلی پر فوٹو مضامین کی مصنفہ)۔

انسانی حقوق: ڈاکٹر ڈنزیل فرنانڈیس (انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے سماجی سائنسدان)، اے سی مائیکل (اقلیتی حقوق کی سرگرم کارکن، سابق ممبر  دہلی اقلیتی کمیشن)، مسز انا  پنٹو (انسانی حقوق کی سرگرم کارکن)، فرح نقوی (مصنفہ اور کارکن حقوق انسانی)، ارمیت سنگھ خان پوری (32 کشمیری لڑکیوں کو واپس انکے  گھر پہنچایا اور 15 لڑکیوں کو فسادات میں بچایا)، محمود پراچہ ایڈوکیٹ (انسانی حقوق)، کویل فاؤنڈیشن (پسماندہ طبقات کے انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی این جی او)۔

غیر سرکاری تنظیمیں: انسٹی ٹیوٹ آف  آبجیکٹیواسٹڈیز (ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور تھنک ٹینک)، حق ایجوکیشنل اینڈ سوشل ویلفیئر سوسائٹی (پیشہ ورانہ تربیت فرایم کرنے والا این جی او)، سکھ یوتھ آرگنائزیشن، مہاکنیشک بودھ وہار کلیان سمیتی، گرو دانی فاؤنڈیشن، پرتیک (ملک میں 2000  اسکولوں کو جوڑنے والی این جی او)، بودھیے دھمن چاریکا سمیتی دہلی پردیش، دہلی وائی ڈبلیو سی اے، ایکشن ایڈ انڈیا

پنجابی کو فروغ  دینے والے: پنجابی ہیلپ لائن، اونیت کور بھاٹیا

اردو کو فروغ  دینے والے: عرفان راہی (شاعر)، پروفیسر خالد محمود (مصنف، نقاد)، مشرف عالم ذوقی (مصنف، ناول نگار، صحافی)، سید ساحل آغا  (داستان گوئی)۔

 

 

You May Also Like

Notify me when new comments are added.