حکمت کے ساتھ نفرت کے پرچارکوں کو جمعیۃ علماء نے زمین پر لا دیا

وطن سماچار ڈیسک

حکمت کے ساتھ نفرت کے پرچارکوں کو جمعیۃ علماء نے زمین پر لا دیا

ضابطہ کہ مطابق حکومت نے ان ٹی وی چینلوں کے خلاف کیا کاروائی کی؟

سپریم کورٹ کا مرکزاور پریس کونسل آف انڈیا کونوٹس، 15 /جون تک جواب داخل کرنے کا حکم

مرکزاور پریس کونسل سے عدالت کی جواب طلبی،جمعیۃعلماء ہندکی پہلی بڑی کامیابی: مولاناارشدمدنی

 

نئی دہلی 27مئی: اپنے سوسالہ قیام کے روز اول سے ہی جمعیۃ علماء نے حکمت اور مصلحت سے کبھی سمجھوتا نہیں کیا۔ وطن دوستی کی ایسی مثال قائم کی کہ دیگر محبان وطن کیساتھ ملک کو انگریزوں کے چنگل سے خون خرابہ کے بغیر آزاد کرالیا۔ اسی طرح جب بھی ملک میں کسی طبقہ پر ظلم ہوا تو جمعیۃ نے اس کیلئے نفرت کے بجائے حکمت کیساتھ قانونی دروازہ کھٹکھٹایا جس سے لوگوں کا حکومتوں کے عدم منصفانہ رویہ کے باوجود عدالتوں میں اعتماد قائم ہوا اور یہ اعتماد وقت کیساتھ بڑھتا ہی چلا گیا۔ جب ملک کے تمام انصاف پسند لوگ یہ چاہ رہے تھے کہ میڈیا کی بد زبانی پر لگام لگے، اس وقت بھی کسی نے حکمت اور مصلحت کیساتھ عدالتی محاذ پر قدم آگے نہیں بڑھایا،اس نازک وقت میں بھی جمعیۃ علماء نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور اب لوگوں کو یہ لگ رہا ہے کہ میڈیا کی بدبانی پر لگام پوری طرح نہ بھی لگے لیکن اس بدزبانی کے اثرات عرضی داخل ہونے کے بعد سے ہی کم ہوتے نظر آرہے ہیں۔ نفرتی میڈیا پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ نفرت پوری طرح ختم بھی نہ ہوتب بھی دھار کا کنند ہونا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔

 

قارئین کو بتادیں کہ مسلسل زہر افشانی کرکے اور جھوٹی خبریں چلاکرمسلمانوں کی شبیہ کوداغدار اور ہندوؤں اورمسلمانوں کے درمیان نفرت کی دیوارکھڑی کرنے کی دانستہ سازش کرنے والے ٹی وی چینلوں کے خلاف داخل کی گئی جمعیۃعلماء ہند کی عرضی پر آج سپریم کورٹ آف انڈیا میں سماعت ہوئی۔ عدالت نے مرکز کے وکیل سے کہا کہ وہ عرضی گذار کو بتائے کہ اس تعلق سے حکومت نے کیبل ٹیلی ویژن نیٹ ورک قانون کی دفعات 19 اور 20 کے تحت اب تک ان چینلز پر کیا کارروائی کی ہے؟ عدالت نے جمعیۃعلماء ہند کوبراڈ کاسٹ ایسوسی ایشن کو بھی فریق بنانے کا حکم دیا۔ عدالت نے آج سالسٹرجنرل آف انڈیا تشارمہتاکو کہاکہ یہ بہت سنگین معاملہ ہے جس سے لاء اینڈآڈرکا مسئلہ ہوسکتاہے لہذاحکومت کو بھی اس جانب توجہ دینا ضروری ہے۔سینئروکیل دوشینت دوے نے کہاکہ یہ انتہائی حساس معاملہ ہے اور عدالت کو اس پر خصوصی توجہ دینی چاہئے، جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ عدالت کو اس تعلق سے علم ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ 13 اپریل کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف انڈیا کی سربراہی والی تین رکنی بینچ نے پریس کونسل آف انڈیا کو بھی فریق بنانے کا حکم دیا تھا جس کے بعد آج سماعت عمل میں آئی۔ عدالت نے جمعیۃعلماء کی جانب سے داخل پٹیشن مرکزی حکومت کو مہیا کرانے کے ساتھ ساتھ حکومت کونوٹس جاری کرتے ہوئے 15 جون تک جواب داخل کرنے کو کہا۔جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے آج کی پیش رفت پر اپنے ردعمل کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ ہمیں امید تھی کہ معززعدالت آج باقاعدہ کوئی فیصلہ صادرکرے گی تاہم اس نے جس طرح کیبل ٹی وی نیٹ ورک قانون کی دفعات 20-19کے تحت بے لگام ٹی وی چینلوں کے خلاف کاروائی کو لیکر مرکز اور پریس کونسل آف انڈیا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس پر جواب طلب کیا ہے وہ ایک انتہائی امید افزابات ہے اور جمعیۃعلماء ہند کی کامیابی کا پہلامرحلہ ہے،مولانامدنی نے کہا کہ جمعیۃعلماء ہند کی یہ قانونی لڑائی اس ملک کے دستور کو بچانے کیلئے ہے۔انہوں نے کہاکہ ہماری قانونی جدوجہد تب تک جاری رہے گی جب تک کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہیں آجاتا، فیصلہ میں اگرچہ تاخیر ہورہی ہے لیکن میڈیا نے پچھلے کچھ ماہ کے دوران اپنی اشتعال انگیزیوں سے نفرت کا جو ماحول پیداکیاتھا، کورونا وائرس کے حملہ کے بعد لاک ڈاؤن میں پید اہوئی صورت حال میں اس ملک کے مسلمانوں نے غریبوں مزدوروں اور مفلوک الحال لوگوں کی مذہب سے اوپر اٹھ کر انسانیت کی بنیادپر بے مثال خدمت کرکے اس نفرت کو محبت میں تبدیل کردیا ہے۔

 

ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ مسلمانوں نے اپنے عمل سے نہ صرف یہ باورکرادیا کہ وہ ملک کے امن پسند شہری ہیں بلکہ یہ بھی بتادیا کہ ہر مصیبت کی گھڑی میں وہ ایک محب وطن شہری کی طرح اس ملک کے عوام کی بے لوث خدمت کرنے کے لئے تیارہیں۔ان کا یہ عمل ملک کے متعصب میڈیا کے منہ پر ایک ایساطمانچہ ہے جس کی گونج وہ تادیر محسوس کرتے رہیں گے۔

 

 آج عدالتی کاروائی کے بعد گلزار اعظمی نے کہا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق براڈ کاسٹ ایسوسی ایشن کو جلد ہی فریق بناکر اس معاملے کی سماعت جلد ہو اس تعلق سے کوشش کرنے کی ہدایت ایڈوکیٹ آن ریکارڈ کو دی گئی ہے۔ آج چیف جسٹس آف انڈیا اے ایس بوبڑے، جسٹس اے ایس بوپننا اور جسٹس رشی کیش رائے پر مشتمل تین رکنی بینچ کو سینئر ایڈوکیٹ دوشینت دوے (صدر سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن) نے بتایا کہ تبلیغی مرکزکو بنیادبناکر پچھلے دنوں میڈیا نے جس طرح اشتعال انگیز مہم شروع کی یہاں تک کہ اس کوشش میں صحافت کی اعلیٰ اخلاقی قدروں کو بھی پامال کردیا گیا اس سے ملک کے انصاف پسند لوگوں کی  نہ صرف یہ کہ سخت دلآزاری ہوئی ہے بلکہ ان کے خلاف پورے ملک میں منافرت میں اضافہ ہوا ہے۔

اس سے قبل گزشتہ سماعت کے موقع پر ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجازمقبول نے عدالت کی توجہ ان دیڑھ سو چینلوں اور اخبارات کی جانب دلائی تھی جس میں انڈیا ٹی وی،زی نیوز، نیشن نیوز،ری پبلک بھارت،ری پبلک ٹی وی،شدرشن نیوز چینل اور بعض دوسرے چینلوں کی جانب دلائی تھی جنہوں نے صحافتی اصولوں کو تار تار کرتے ہوئے آئین اور قانون میں یقین رکھنے والوں کی دل آزاری اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی ناپاک سازش کی تھی۔

 

You May Also Like

Notify me when new comments are added.