"کورونا کے بیچ لاک ڈاؤن رمضان اور میڈیا کا برہمنی پن "

ہم سب یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ حکومتی ذمہ داری تنہا کوئ شخص نہیں چلاتا بلکہ ہر حکومت کے بے شمار کال پرزے ہوتے ہیں جو رات ودن اپنی فکر کے ساتھ کام کرتے ہوئے حکومت کی اپنے طور پر مددکرتے ہیں یہ الگ بات ہے کہ ہر حکومت اپنے طور پر ان کال پرزوں کا استعمال کرتی ہے ۔ اقتصادیات ، معاشیات، نظم وضبط ، شعبہ جاسوسی ، اندرونی اور بیرونی معاملات اور ملکی حالات کی دیکھ ریکھ کے لیے بڑی ٹیم کام کرتی ہے ۔ خاص کر اندرون خانہ حالات کا جائزہ لینے والی سب سے انٹیلیکچول ٹیم ہوتی ہے جو ہر اتار چڑھاءو کا باریک بینی سے جائزہ لیتی ہے ۔بالخصوص ہوشیار حکومت رائے عامہ ہموار کرنے والی ٹیم کو چوبیسو گھنٹہ متحرک رکھتی ہے ، جس کے لیے آج کے سوشل میڈیائ دور میں آئ ٹی سیل کو سب سے زیادہ فوقیت دی جاتی ہے، اسی ایک شعبے پر سالانہ ہر جماعت کئی سوکروڑ صرف کرتی ہے ۔اسی طرح الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے بھی ہر حکومت اپنے مقاصد کے حصول کے لیے لائحہ عمل طے کرنے کے بعد اپنے نظریات کی تشہیر کرتی ہے ۔اس کام کے لیے بھی ملک کا خاص طاقت ور دماغ اپنی حکومتی طاقت کے ساتھ دن رات اس طرح کام کرتاہے کہ چھوٹی سے چھوٹی خبر بھی اس کی نظر سے نہیں بچ پاتی ہے ۔ ہرزبان کا اخبار سرکاری کارندوں کے خصوصی میز کی زینت بناکرتاہے ۔ جب اس قدر چابک دستی سے میڈیا کا جائزہ لیاجارہاہوتو کیا یہ بات ہضم ہونے والی ہے کہ ملکی میڈیا کا مین اسٹریم رات ودن ایک مخصوص طبقے کو نشانہ بنائے ، اس طبقے کے خلاف نفرت پھیلائے اور حکومت کے کارندوں کے کانوں تک یہ آواز نہ پہونچے؟ ۔اب ان تمام باتوں سے نتیجہ نکالیں تو ایک نتیجہ صاف طور پر نکلتاہے کہ " میڈیا جو کچھ بھی کررہاہے یا کرے گا اس میں حکومت وقت کی مرضی شامل ہوتی ہے " اب ایک سوال اور ہوتاہے کہ اگر حکومت کے اشارے پر یہ سب ہوتاہے تو حکومت کو کیا فائدہ حاصل ہوتا ہے ؟ جواب میں بس اتنا کہنا کافی ہے کہ " ہماراملک برہمن کے قبضے میں ہے اور برہمن ہمیشہ وہ کام کرتے ہیں جس سے وقتی فائدہ بھی ان کو حاصل ہو اور بعد میں بھی وہ اس افواہی خبروں سے استفادہ کرسکیں ۔مثلا ۔کرونا کی وبا جس وقت پوری دنیا کی طرف اپنے قدم بڑھارہی تھی اس وقت ہمارے ملک کا برہمنی تعیش بسند طبقہ اپنے ہی ہم مزاج ایک صدر کی آءو بھگت میں لگاہوا تھا ، صدر کے جاتے ہی کرونا وائرس نے ملک میں اپنے پاءوں پسار دئے ، یکایک پڑھے لکھے بھارتیوں کے ذہن میں حکومت کی نااہلی اور غیرذمہ درانہ رویہ کے لیے سوال اٹھنا لازمی تھا ، جس کا خطرناک نتیجہ یہ سامنے آتاکہ " ووٹ بینک بہت زیادہ متاثر ہوتا" اپنے ووٹ بینک کو بچانے کے لیے ایک مہرے کی تلاش تھی جو خیر سے دہلی کے مذہبی بساط سے تبلیغی جماعت کی شکل آسانی مل گئی ۔کرونا کے نام پر مسلمانوں کو بدنام کرنے کا کئی فائدہ ان برہمنوں کو حاصل ہوا ۔ ملک کے بڑے طبقے میں دوریاں پیدا ہوئیں ، حکومت کی نااہلی رات ورات اندھ بھکتوں میں "بھگوان کا وردان " ثابت ہوئ اور یہ پیغام آسانی سے دینے میں کامیابی مل گئی کہ " کرونا مسلمان لے کر آئے ہیں اور مسلمان ہی پھیلا رہے ہیں " ۔اب لاکھ کوئ سمجھالے لیکن ان کے دانش ور اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے ہیں ۔

گیسٹ کالم

"کروناکے بیچ لاک ڈاءونی رمضان اور میڈیا کا برہمنی پن "

ہم سب یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ حکومتی ذمہ داری تنہا کوئ شخص نہیں چلاتا بلکہ ہر حکومت کے بے شمار کال پرزے ہوتے ہیں جو رات ودن اپنی فکر کے ساتھ کام کرتے ہوئے حکومت کی اپنے طور پر مددکرتے ہیں یہ الگ بات ہے کہ ہر حکومت اپنے طور پر ان کال پرزوں کا استعمال کرتی ہے ۔ اقتصادیات ، معاشیات، نظم وضبط ، شعبہ جاسوسی ، اندرونی اور بیرونی معاملات  اور ملکی حالات کی دیکھ ریکھ کے لیے بڑی ٹیم کام کرتی ہے ۔ خاص کر اندرون خانہ حالات کا جائزہ لینے والی سب سے انٹیلیکچول ٹیم ہوتی ہے جو ہر اتار چڑھاءو کا باریک بینی سے جائزہ لیتی ہے ۔بالخصوص   ہوشیار حکومت رائے عامہ ہموار کرنے والی ٹیم کو چوبیسو گھنٹہ متحرک رکھتی ہے ، جس کے لیے آج کے سوشل میڈیائ دور میں آئ ٹی سیل کو سب سے زیادہ فوقیت دی جاتی ہے، اسی ایک شعبے پر سالانہ ہر جماعت کئی سوکروڑ صرف کرتی ہے ۔اسی طرح الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے بھی ہر حکومت اپنے مقاصد کے حصول کے لیے لائحہ عمل طے کرنے کے بعد اپنے نظریات کی تشہیر کرتی ہے ۔اس کام کے لیے بھی ملک کا خاص طاقت ور دماغ اپنی حکومتی طاقت کے ساتھ دن رات اس طرح کام کرتاہے کہ چھوٹی سے چھوٹی خبر بھی اس کی نظر سے نہیں بچ پاتی ہے ۔ ہرزبان کا اخبار سرکاری کارندوں کے خصوصی میز کی زینت بناکرتاہے ۔ جب اس قدر چابک دستی سے میڈیا کا جائزہ لیاجارہاہوتو کیا یہ بات ہضم ہونے والی ہے کہ ملکی میڈیا کا مین اسٹریم رات ودن ایک مخصوص طبقے کو نشانہ بنائے ،  اس طبقے کے خلاف نفرت پھیلائے اور حکومت کے کارندوں کے کانوں تک یہ آواز نہ پہونچے؟ ۔اب ان تمام باتوں سے نتیجہ نکالیں تو ایک نتیجہ صاف طور پر نکلتاہے کہ " میڈیا جو کچھ بھی کررہاہے یا کرے گا اس میں حکومت وقت کی مرضی شامل ہوتی ہے " اب ایک سوال اور ہوتاہے کہ اگر حکومت کے اشارے پر یہ سب ہوتاہے تو حکومت کو کیا فائدہ حاصل ہوتا ہے ؟ جواب میں بس اتنا کہنا کافی ہے کہ " ہماراملک برہمن کے قبضے میں ہے اور برہمن ہمیشہ وہ کام کرتے ہیں جس سے وقتی فائدہ بھی ان کو  حاصل ہو اور بعد میں بھی وہ اس افواہی خبروں سے استفادہ کرسکیں ۔مثلا ۔کرونا کی وبا جس وقت پوری دنیا کی طرف اپنے قدم بڑھارہی تھی اس وقت ہمارے ملک کا برہمنی تعیش بسند طبقہ اپنے ہی ہم مزاج ایک صدر کی آءو بھگت میں لگاہوا تھا ، صدر کے جاتے ہی کرونا وائرس نے ملک میں اپنے پاءوں پسار دئے ، یکایک پڑھے لکھے بھارتیوں کے ذہن میں حکومت کی نااہلی اور غیرذمہ درانہ رویہ کے لیے سوال اٹھنا لازمی تھا ، جس کا خطرناک نتیجہ یہ سامنے آتاکہ " ووٹ بینک بہت زیادہ متاثر ہوتا" اپنے ووٹ بینک کو بچانے کے لیے ایک مہرے کی تلاش تھی جو خیر سے دہلی کے مذہبی بساط سے تبلیغی جماعت کی شکل آسانی مل گئی ۔کرونا کے نام پر مسلمانوں کو بدنام کرنے کا کئی فائدہ ان برہمنوں کو حاصل ہوا ۔  ملک کے بڑے طبقے میں دوریاں پیدا ہوئیں ، حکومت کی نااہلی رات ورات اندھ بھکتوں میں "بھگوان کا وردان " ثابت ہوئ اور یہ  پیغام آسانی سے دینے میں کامیابی مل گئی کہ " کرونا مسلمان لے کر آئے ہیں اور مسلمان ہی پھیلا رہے ہیں " ۔اب لاکھ کوئ سمجھالے لیکن ان کے دانش ور اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے ہیں ۔

ہمارے یہاں ایک کہاوت کہی جاتی ہے شاید آپ کے یہاں بھی کہی جاتی ہو " برہمن ، بکری بانس ۔جہاں رہے سب کچھ کرے ناس " بانس ایک مشہور گھاس ہے ( سائنسی اعتبارسے ) جس کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ وہ اپنے سائے میں کسی بھی پیڑ کو پروان چڑھنے نہیں دیتا ، اسی طرح بکری جس پیڑ کو ایک بار کھالے وہ دوبارہ برگ وبار لانے کے قابل نہیں ہوتا ۔برہمنوں کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ وہ ہر آبادی میں رہتے ہیں اور کم تعداد میں رہتے ہیں ۔برہمن کبھی کسی سے آمنے سامنے کی لڑائ نہیں لڑتے البتہ اپنی اسرائیلی عقل سے پوری آبادی کو لڑا کر خود ہی اس کے سب سے اچھے فیصل بن جاتے ہیں ۔جس آبادی میں برہمن گھل مل کر رہتے ہوں وہاں ان کے علاوہ کوئ ترقی نہیں کرسکتا ۔ اس لیے یہ بات بھی  مشہور ہے کہ فتنہ پروری سیکھنی ہو تو برہمن کے صحبت میں رہو اور تجارت سیکھنی ہو تو مارواڑی ، سندھی یا میمن کے ساتھ رہو ۔ اس قوم نے اسلام کے دفاعی قانون جہاد کے سہارے جس طرح مسلمانوں کو بدنام کیا وہ مسلم دانش وروں کے سوچنے کی چیز ہے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ  اس نام پر جتنی اسلامی تنظیمیں کام کرتی ہیں سب کی فنڈنگ یہی لوگ اپنے بھائی بنی اسرائیلی اور یہودی کے ساتھ کرتے ہیں خاص کر داعش کی مددکے حوالے سے ان برہمنوں کے  بے شمار کیسیز سامنے آچکے ہیں ۔

اتنی باتیں بتانے کا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے ذہن میں وسعت پیدا کریں اور اپنی آپسی جنگ کو بالائے طاق رکھ کر تھوڑی دیر کے لیے سوچیں کہ اس مکار قوم کا مقابلہ کیسے کیا جاسکتاہے ۔؟ ابھی حکومت کی طرف سے بیس لاکھ کروڑ کا اعلان ہو ہے جسے پیکیج کا نام دیا گیا ہے حالانکہ یہ پیکیج" ایک لونی لولی پاپ " سے زیادہ کچھ نہیں ہے ۔ملک کی وزیر مالیات پانچ دن سے اس گتھی کو سلجھارہی ہیں اور خود نہ سمجھتے ہوئے بھی سب کو ہندی میں سمجھانے کی کوشش کررہی ہیں ۔ اس پیکیج کی حقیقت پر ماہرین کی رائے آچکی ہیں اس لیے میں اس سے صرف نظر کرتاہوں ۔کرونا کے خوف کے  بیچ پورے ملک میں سڑکوں پر اور ریلوے ٹریک پر مرنے والے مزدوروں کی تعداد سوسے تجاوز کرچکی ہے ، بھارت کا عام مزدور طبقہ جس طرح سے ملک کے مختلف خطوں سے پیدل سفر کررہاہے اگر عوام نے مددکا ہاتھ نہ بڑھایا ہوتاتو شاید راستے میں بھوک سے مرنے والوں کی   لاشیں اٹھانے کے لیے گاڑیاں کم پڑجاتیں ۔ اس پیدل سفر کا اختتام بھی رونگٹے کھڑے کردینے والا ہے ۔کئی جگہ سے یہ اطلاع ملی ہے کہ جب لوگ ہزاروں کیلو میٹر کا سفر طے کرکے اپنے گاءوں پہونچ رہے ہیں تو گاءوں کے لوگ تو  چھوڑئیے خود اس کے گھر والے اس پریشان حال مسافر کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتے  ۔ ایک لڑکا مہاراشٹرا سے پیدل سفر کرکے گھر پہونچا ، جیسے تیسے اس نے سفر کی صعوبتیں برداشت کرلی لیکن جب اس کے گھروالوں نے اسے گھر کے اندر آنے سے منع کردیا تو زمین کی لمبی مسافت اپنے عزم وحوصلے سے روندنے والے جوان نے اس صدمے سے جان توڑدیا ۔ممکن ہے اس طرح کے بہت سی جان کاہ خبریں آپ کو بھی سننے کو ملے یا آپ کا کوئ عزیز آپ کی محبت کے سہارے ہزاروں کیلو میٹر کی دوریاں سمیٹتا ہوا آپ تک پہونچے تو اس کے حوصلے بڑھائیں ، اپنی نگرانی میں اس کا چیک اپ کرائیں کیونکہ ایسے وقت میں  ان پریشان حال لوگوں کے لیے آپ کی محبت جام شیریں سے کم نہیں ہے ۔

اس سال کا رمضان اسلامی تاریخ کا سب سے مغموم  رمضان ہوگا ، جس میں مساجدیں بند رہی ہیں ، سحروافطار کی وہ گہما گہمی نہیں دیکھی گئی جو پوری دنیا میں دیکھی جاتی تھی ، ہر شخص خود سے سوال کرتا رہاہے کہ اب کیا ہوگا ؟ ۔ایسے وقت میں جہاں توبہ واستغفار کی اپیلیں کی گئیں اور عبادات کا انفرادی پیغام پیش کیا گیا کہ ہم اپنے سابقہ گنہ سے رجوع کریں وہیں مسلم جوانوں کا لاخیرہ گروہ اپنی من مانی میں مصروف نظر آیا ۔ہمارا کردار چیخ چیخ کر اعلان کرتاہے کہ ہم اپنے مذہب کے تعلق سے بالکل ہی یہودیانہ روش پر گامزن ہیں ۔اسی بیچ آذان پرشرطیہ پابندی کا شوشہ بھی چھوڑا گیا اسی بہانے  ہمارے اندر کے اسلام کو بیدار ہونے کا موقع قدرت نے فراہم کیا  بجائے اس کے کہ ہم اس موضوع پر غور کرتے اس معاملے بہتر طریقے سے حل کرنے کے لیے  ہمارا لائحہ عمل کیا ہو؟ ، ہم آج بھی اس مسئلے میں الجھنا اپنی علمی شان سمجھتے ہیں کہ " جمعہ کی آذان ثانی باہر ہوکہ اندر ہو ؟" ۔اگر ہماری مضبوط حکمت عملی اپنا وجود بچالیتی ہے تو اس مسئلے پر آنے والی نسل بھی مناظرے کے مزے سے لطف اندوز ہولے گی اور اگر ہم کوئ حکمت عملی طے نہیں کرپائے تو  مستقبل کا مئورخ ہماری نسل میں مسلکچی مناظرہ باز بھی نہیں ڈھونڈ پائے گا ۔

      " ہمیں کیا کرنا چاہیے "
ہمارے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی کا باریک بینی سے جائزہ لیں ، آقائے کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں مغلوبیت کا زمانہ کیسے گزارا اور پھر کس طرح خیر کی راہیں نکالیں اس کی مطابقت سے آج کوئ شیڈول پیش کریں ۔ اسلام اور مسلمانوں کے غلبے کے زمانے کی تاریخ اور اس دور کی تعلیمات ہمیں کماحقہ فائدہ نہیں پہونچا سکتیں  اس لیے کہ ہماری اکثریت دین سے دور جاچکی ہے ۔کوئ بھی قوم جب اپنے راستے سے اتنی بڑی تعداد میں ہٹ جاتی ہے تو ذلت اس کی تقدیر کا حصہ بن جاتی ہے ۔ کرامات کے بجائے ہمیں افکارواقدام پڑھنے ، سمجھنے اور پھیلانے کی ضرورت ہے ۔ اس ملک کے باشندے اکثر مظلوم ہیں ۔ان پر آج تک برہمنوں نے ظلم کیا ہے ۔ ہر مسلمان کو  اپنا ایک اچھا دوست اکثریتی طبقے سے بنانا چاہیے اور دوستی اتنی گہری کرنی چاہیے کہ وقت آنے پر وہ ہماری ڈھال بن جائے ۔

محمد رضی احمد مصباحی

 

وضاحت نامہ:یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ مضمون کو من و عن شائع کیا گیا ہے۔ اس میں کسی طرح کا کوئی ردوبدل نہیں کیا گیاہے۔ اس سیوطن سماچار کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی جانکاری کیلئے وطن سماچار کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی وطن سماچاراس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے۔ 


You May Also Like

Notify me when new comments are added.