Hindi Urdu

مذہب

فکر وخیالات

مدیر کی قلم سے

Poll

Should the visiting hours be shifted from the existing 10:00 am - 11:00 am to 3:00 pm - 4:00 pm on all working days?

SUBSCRIBE LATEST NEWS VIA EMAIL

Enter your email address to subscribe and receive notifications of latest News by email.

وزیراعظم کی رہائش گاہ پر کانگریس رہنما عارف مسعود کا احتجاج3 اکتوبر کو

مدھیہ پردیش حکومت کی 32171کروڑ روپیہ مرکزی حکومت کے ذریعہ کٹوتی افسوسناک: عارف مسعود

وطن سماچار ڈیسک

وزیراعظم کی رہائش گاہ پر کانگریس رہنما عارف مسعود کا احتجاج3 اکتوبر کو

مدھیہ پردیش حکومت کی 32171کروڑ روپیہ مرکزی حکومت کے ذریعہ کٹوتی افسوسناک: عارف مسعود

نئی دہلی،یکم اکتوبر: بھوپال سے کانگریس پارٹی کے سینئر لیڈر اور سینئر رکن اسمبلی عارف مسعود نے آج میڈیا کو جاری ایک پریس بیان میں کہاہے کہ وہ مدھیہ پردیش حکومت کی مرکزی حکومت کے ذریعہ 32171کروڑ روپیہ کی رقم کی کٹوتی کے خلاف وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر ایک تاریخی احتجاج کریں گے اور انہیں میمورنڈم سونپ کر اپیل کریں گے کہ وہ مدھیہ پردیش حکومت کا 32171کروڑ روپیہ جو مرکزی سرکار نے کاٹا ہے وہ مدھیہ پردیش حکومت کوجلد سے جلد ریلیز کریں۔ ان کے پرائیویٹ سکریٹری عبدالنفیس نے راجدھانی دہلی میں میڈیا کو بھیجے بیان میں کہاہے کہ بھوپال سینٹرل سے کانگریس رکن اسمبلی عارف مسعود کی قیادت میں، 03 اکتوبر کو جنتر منتر پر12بجے تاریخی حتجاج ہوگا اور ہم وہاں سے وزیراعظم کی رہائش گاہ کی طرف کوچ کریں گے اور اگر ہمیں وہاں تک نہیں جانے دیاگیا تو ہم وزیراعظم کے دفتر کو میمورنڈم سونپ کر ان سے مطالبہ کریں گے کہ وہ مدھیہ پردیش حکومت کا 32171کروڑ کی کٹوتی کی رقم کو جلد سے جلد دیں۔

 بیان میں کہاگیا ہے کہ اس احتجاج میں بڑی تعداد میں کانگریس کے کارکنان اور انصاف پسند لوگ شرکت کریں گے اور مدھیہ پردیش حکومت کے ساتھ مودی سرکار کے سوتیلے رویہ کے خلاف حکومت کو جگانے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ آج مدھیہ پردیش سیلاب سے کافی متاثر ہے۔ لوگ کافی پریشان ہیں۔ بیان میں کہاگیا ہے کہ ریاست کے وزیراعلیٰ کمل ناتھ پوری قوت اور محنت کے ساتھ متاثرین کے زخموں کو مندمل کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور لوگوں کو راحت دینے کے لئے ہر وہ طریقہ اختیار کررہے ہیں جو اختیار کیاجانا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ نقصانات کے تخمینہ سے بھی مرکزی حکومت کو واقف کرادیاگیا ہے، اس کے باجود اس سلسلے میں ابھی تک مرکزی حکومت کی سرد مہری جاری ہے اور سرکار ہوش کے ناخن لینے کو تیار نہیں ہے۔ اس لئے ہماری کوشش ہے کہ مرکزی حکومت اگر سچ میں سب کا ساتھ سب کا وکاس اور سب کا وشواس چاہتی ہے تو جملوں سے اوپر اٹھ کر کام کرے۔

 

You May Also Like

Notify me when new comments are added.