Hindi Urdu

مذہب

فکر وخیالات

مدیر کی قلم سے

Poll

Should the visiting hours be shifted from the existing 10:00 am - 11:00 am to 3:00 pm - 4:00 pm on all working days?

SUBSCRIBE LATEST NEWS VIA EMAIL

Enter your email address to subscribe and receive notifications of latest News by email.

مبارک ہو فرزان آپ اس کے حقدار تھے

رپورٹنگ کی خواہش ظاہر کی تھی اور ان کی خواہش بوس (خالد انور) نے منظور کرلی ہے ۔اس لیے ان کی خبروں کو اس ڈائری میں جگہ دی گئی ہے۔

وطن سماچار ڈیسک

جس وقت میں ہمارا سماج میں ملازمت کر رہا تھا اس وقت میرے ذمہ میرے محسن دوست اور اس وقت میرے امیڈیٹ بوس عامر سلیم خان نے مجھے بہت ساری ذمہ داریوں کے ساتھ ایک ذمہ داری یہ بھی دے رکھی تھی کہ مجھے ہر روز پرانی دہلی کے نام سے ایک ڈائری لکھنی ہوتی تھی ۔اس ڈائری میں عموما 7یا 8 خبریں ہوا کرتی تھیں۔ ایک دن اچانک میں نے دیکھا کہ اس ڈائری میں کچھ خبریں ایک دوسرے شخص کے نام کے ساتھ شائع ہوئی ہیں ،تو مجھے تعجب ہوا ۔وہ اس لئے کہ مجھے اس کی کوئی اطلاع ہی نہیں تھی اور میں اس کے بارے میں کچھ جانتا بھی نہیں تھا، جبکہ صحافت کا یہ اصول ہے کہ جب آپ کی بیٹ میں کوئی انٹر کرتا تو آپ کو اس کی اطلاع دی جاتی ہے ۔ بہرحال میں نے عامر سلیم صاحب سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ ایک فرزان قریشی صاحب ہیں۔انہوں نے پرانی دہلی سے رپورٹنگ کی خواہش ظاہر کی تھی اور ان کی خواہش بوس (خالد انور) نے منظور کرلی ہے ۔اس لیے ان کی خبروں کو اس ڈائری میں جگہ دی گئی ہے۔( واضح رہے کہ اس وقت ہمارا سماج 12 صفحات پر مشتمل ایک ممتاز ترین اخبار ہوا کرتا تھا اور ہمارا سماج نے بہت سے ایسی خبریں بریک کی ہیں جو میل کا پتھر ثابت ہوئی ہیں) ۔

کچھ دنوں بعد میری فرزان صاحب سے شناسائی ہوئی ۔بات چیت ہوئی تو کافی خوشی ہوئی ،کیونکہ ان کے آنے سے مجھے کافی مدد ملی ۔وہ پرانی دہلی کے لوکل تھے جبکہ میں اوکھلا کا رہنا والا تھا ۔مجھے پرانی دہلی میں 10-12 گھنٹے روز دینے پڑتے تھے۔ کبھی حاجی ہوٹل تو کبھی محمود ضیاء کی آفس ، کبھی قصاب پورا تو کبھی بلیماران ، کبھی فتحپوری ۔ کوئی گلی شاید ہی چھوٹی ہو سیتا رام بازار سے لے کر حوض رانی اور نہ جانے کیا کیا ۔ بہر حال یہ سلسلہ چلتا رہا ،اچانک ایک دن مجھے اطلاع ملی کہ فرزان بھائی نے روزنامہ انقلاب جوائن کر لیا ہے، جس سے مجھے بے حد خوشی ہوئی کیونکہ امید تھی کہ اب فرزان بھائی کو اچھی تنخواہ ملے گی کیونکہ انقلاب ایک کارپوریٹ گروپ کا اخبار ہے ۔
بہرحال ایک صحافی کے طور پر فرزان قریشی نے یقیناًاپنی چھاپ چھوڑی ہے ۔ انہوں نے جس طرح سے گزشتہ کچھ سالوں میں بیباک طریقے سے اردو اساتذہ اور اقلیتوں کے مسائل پر خبریں کی ہیں وہ اس کے لئے مبارکباد کے مستحق ہیں۔ دہلی اقلیتی کمیشن نے اپنے سالانہ اجلاس میں جس کا انعقاد 18 دسمبر2018 کو نئی دہلی کے وگیان بھون میں ہوا تھا ،اس میں صحافیوں کے زمرے میں فرزان قریشی کو شامل کیا اور انہیں ایوارڈ سے نوازا۔ یقیناًیہ خبر میرے لئے اس معنی میں بے حد اہم خبر تھی اور مجھے انتہائی خوشی اور مسرت ہوئی کہ میری برادری کے ایک عظیم انسان کو آج وہ ملا جس کا وہ حقدار تھا ۔ میری دعا ہے کہ فرزان بھائی ایسے ہی ترقی کرتے رہیں اور بلندیوں کو چھوئیں ۔ صحافت میں اور اعلیٰ مقام پیدا کریں ۔
محمداحمد 
ایڈیٹر وطن سماچار 
رابطہ نمبر:09711337827

You May Also Like

Notify me when new comments are added.