یوم اطفال 2020 کو بھارت میں موسمیاتی تبدیلی اور بچوں پر کووڈ کے اثرات پر توجہ مرکوز ہوگی ۔

بیس نومبر کو دنیا کی مشہور قدیم یادگار ثقافتی عمارتوں کے ساتھ راشٹرپتی بھون ، قطب مینار اور دیگر آثار قدیمہ بچوں کے حقوق اور یکجہتی کے لئے گو بلیو ہو جائیں گے ۔

وطن سماچار ڈیسک
فائل فوٹو


 یوم اطفال 2020 کو بھارت میں موسمیاتی تبدیلی اور بچوں پر کووڈ کے اثرات پر توجہ مرکوز ہوگی ۔ 

 

بیس  نومبر کو دنیا کی مشہور قدیم یادگار ثقافتی عمارتوں کے ساتھ راشٹرپتی بھون ، قطب مینار اور دیگر آثار قدیمہ بچوں کے حقوق اور  یکجہتی کے لئے گو بلیو ہو جائیں گے ۔

 

 نئی دہلی ، ورلڈ چلڈرن ڈے (WCD)، بچوں کے عمل درآمد کا عالمی دن ہے، بچوں کے ذریعہ، 20 نومبر 1989 کو بچوں کے حقوق کنونشن (سی آر سی) کو اپنایا گیا تھا ۔  بھارت میں، اسی کی تحت نیشنل چلڈرن ڈے 14 نومبر سے عالمی یوم اطفال تک ہفتہ بھر بچوں کے حقوق سے متعلق سرگرمیوں اور تقریبات کا آغاز کیا جا رہا ہے ۔ 

 کووڈ -19 بچوں کے حقوق کا بحران ہے ۔ عالمی وبا کے پس منظر میں، بچوں کے حقوق پر کوووڈ -19 بحران کے اثرات پر یونیسیف نے روشنی ڈالی ہے ۔ بچوں کو اگر وبائی امراض سے فوری طور پر تحفظ فراہم نہیں کیا گیا تو انہیں زندگی بھر اس کی قیمت چکانی پڑ سکتی ہے ۔ 

 اس سال کی سرگرمیاں ورچوئل اور ڈیجیٹل ذرائع سے انجام دی جائیں گی ۔ بالغوں کے ساتھ، بچے بھی ماسک پہنیں گے اور جسمانی فاصلہ برقرار رکھیں گے ۔  تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بچوں کی آواز کوئی دبائے گا - اس ورلڈ چلڈرن ڈے پر بچے نقاب(ماسک) پوش ہوں گے لیکن خاموش نہیں ! 

ممبران پارلیمنٹ کو آب و ہوا (کلائمیٹ چینلز) پارلیمنٹ بچوں کے ساتھ چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کرے گا ۔

 

بھارت میں موسمیاتی تبدیلی ورلڈ چلڈرن ڈے تقریبات کا کلیدی موضوع ہے ۔  دنیا بھر کی حکومتوں کو موسمیاتی خطرات سے نپٹنے کے لئے جن اقدامات کی ضرورت ہے نوجوان ان کے بارے میں بات کر رہے ہیں ۔ 20 نومبر 2020 کو یونیسیف پارلیمنٹرین گروپ برائے چلڈرن (پی جی سی) کے اشتراک میں موسمیاتی پارلیمنٹ کا معزز نائب صدر شری ایم وینکیا نائیڈو اور 30 ممبران پارلیمنٹ کی سربراہی میں اہتمام کر رہا ہے ۔ بچے آب و ہوا کی تبدیلی کے اثرات کے بارے میں پارلیمنٹیرین کے ساتھ تبادلہ خیال کریں گے اور آب و ہوا سے متعلق کاروائی کے لئے چارٹر آف ڈیمانڈس پیش کریں گے ۔ توقع ہے کہ شریک پارلیمنٹیرین بچوں کے حقوق اور آب و ہوا کے عمل کی حمایت کے منصوبوں کو اپنانے اور آوازوں کو مربوط کرنے میں مدد کے عہد نامے پر دستخط کریں گے ۔

 

کووڈ -19 کے بچوں کی زندگیوں پر اثرات اور بچوں کے حقوق کے لئے اظہار یکجہتی گو بلیو مہم کے تحت  راشٹرپتی بھون اور دیگر مشہور یادگار عمارتیں نیلے رنگ کی روشنی سے روشن ہوں گی ۔

 

ملک بھر کے آثار قدیمہ - راشٹرپتی بھون (صدارتی محل) ، وزیر اعظم آفس (شمالی اور جنوبی بلاک)، پارلیمنٹ ہاؤس اور نئی دہلی میں قطب مینار، اور دیگر تاریخی عمارتیں، نشانیاں اور ہندوستان بھر میں اہم سرکاری عمارتیں یکجہتی برائے حقوق اطفال اور کووڈ- 19و ماحولیاتی تبدیلیوں کے ان کی زندگیوں پر اثرات کا اظہار کرنے کے لئے 20 نومبر کو #GoBlue ہوں گی ۔ 

 

 رکی کیج اور دیگر مشہور فنکاروں کے ساتھ ورچوئل کنسرٹ

 ورلڈ چلڈرن ڈے پر بچوں کے ماحول کے بارے میں گانوں پر مشتمل ایک ورچوئل کنسرٹ ، 'ریماجن ، بی کنڈ اینڈ ایس ڈی جی' کا یونیسیف انعقاد کر رہا ہے ۔ اس کے ساتھ گریمی ایوارڈ یافتہ موسیقار میوزک پروڈیوسر اور ماحولیات کے ماہر رکی کیج اور معروف فنکار ہریہارن ، سلیم سلیمان ، جونیٹا گاندھی ، بینی دیال ، نیتی موہن ، انجنا پدمانا بھن (لٹل چیمپس فاتح) ، گنیشور ایم (لٹل چیمپس فاتح) ، اور دیگر کنسرٹ میں شامل ہوں گے ۔ یہ 20 نومبر کو شام 7-8 بجے (IST) یونیسیف / یو این انڈیا ڈیجیٹل چینلز اور متعدد سرکردہ میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعہ نشر کیا جائے گا ۔ 

 

 غیر ملکی نمائندوں کے کلب میں میڈیا کے ساتھ اجتماعی گفتگو کی جائے گی 

 اگرچہ بچے اس وبائی مرض کا سامنا نہیں کر رہے، لیکن اس کا سب سے زیادہ اثر ان پر پڑ رہا ہے ۔  آنے والے سالوں میں، بچے اور نوجوان اس وبائی مرض کے طویل مدتی، ثانوی اثرات کے ساتھ زندگی گزاریں گے ۔ بچوں کی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھتے ہوئے دنیا ان کے جوابات کا انتخاب کس طرح کرے گی ۔  اس تناظر میں 17 نومبر 2020 کو غیر ملکی نمائندوں کے کلب آف ساؤتھ ایشیاء (ایف سی سی) کے اشتراک سے "ہندوستان میں بچوں کی زندگیوں پر کووڈ بحران کے اثرات" کے موضوع پر میڈیا کے ساتھ پینل ڈسکشن کیا گیا ۔ 

 

 کارپوریٹ شراکت دار

 اس کام میں کارپوریٹ ایک حصہ کے طور پر یونیسیف کے شریک ہیں ان میں سے ہندستان یونی لیور لمیٹڈ ، ایس اے پی اور کچھ نمایاں ڈیجیٹل بھروسہ مند اپنے پلیٹ فارم بچوں کو دیں گے اور بتائیں گے کہ بچے اپنے نئے مستقبل کا تصور کیسے کریں ۔

 

 

 یونیسیف کے بارے میں

 یونیسیف دنیا کی کچھ مشکل ترین جگہوں پر انتہائی پسماندہ بچوں تک پہنچنے کے لئے کام کرتا ہے ۔ 190 سے زیادہ ممالک اور خطوں میں یونیسیف ہر بچے کے لئے، ہر جگہ، ہر ایک کے لئے ایک بہتر دنیا کی تعمیر کے لئے کام کرتا ہے ۔ بچوں کے لئے اس کے کام کے بارے میں مزید معلومات کے لئے ، www.unicef.org  دیکھیں۔

 

 یونیسف انڈیا کے لئے ، http://unicef.org/india پر ہم سے ملیں اور ٹویٹر ، فیس بک ، انسٹاگرام اور لنکڈ ان پر ہمیں فالو کریں ۔

 یونیسیف انڈیا ہندوستان میں تمام لڑکیوں اور لڑکوں کے لئے صحت، غذائیت، پانی اور صفائی ستھرائی ، تعلیم اور بچوں کے تحفظ کے پروگراموں کو برقرار رکھنے اور بڑھانے کے لئے کاروباریوں اور افراد سے حاصل کردہ امداد اور عطیات پر منحصر ہے ۔ آج ہر بچے کو زندہ رہنے اور ترقی کی منازل طے کرنے میں ہماری مدد کریں!  www.unicef.in/donate

 

 

You May Also Like

Notify me when new comments are added.