Hindi Urdu

مذہب

فکر وخیالات

مدیر کی قلم سے

Poll

Should the visiting hours be shifted from the existing 10:00 am - 11:00 am to 3:00 pm - 4:00 pm on all working days?

SUBSCRIBE LATEST NEWS VIA EMAIL

Enter your email address to subscribe and receive notifications of latest News by email.

چودھری عامر سلیم سے گفتگو...قاری عارف اللہ تمہیں سلامت رکھے

قاری عارف نے عامر سلیم سے اصرار کیا کہ آپ آدھی کپ پی لیں اور اسی میں جو بچ جائے گی میں نوش فرما لوں گا...چنانچہ ایسا ہی ہوا۔قاری عارف نے مجھ سے پوچھا کہ احمد بھائی آپ کیا لیں گے میں نے کہا دیکھیں اگر مینگو شیک مل جائے۔ چنانچہ انہوں نے فوراً پانچ سو روپیہ کی نوٹ نکال کر خادم سے درخواست کی کہ جوس لائیں لیکن قدر اللہ ماشاء جوس نہیں ملا...اور کھٹی میٹھی گفتگو کا دور جاری رہا۔ اسی دوران عامر سلیم اور قاری عارف کچھ راز و نیاز کی باتیں کرنے کیلئے کمرے سے باہر آئے اور مجھے بھی مدعو کیا، لیکن میں نے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ میں ظہر ادا کرکے آتا ہوں۔

محمد احمد

چودھری عامر سلیم سے گفتگو...قاری عارف اللہ تمہیں سلامت رکھے!

بات ستمبر2019 کے آخری اتوار کی ہے۔ اپنے عزیز دوست اور صحافت میں لمبے وقت تک میری سرپرستی کرنے والے عامر سلیم خان سے ملنے جمعیۃ علماء ہند کے صدر دفتر بہادر شاہ ظفر مارگ گیا یہ ملاقات روٹین سے الگ تھی۔ دفتر کے صدر دروازے سے داخل ہوتے ہی میری نظر قاری عارف قاسمی پر گئی جو اپنے کسی دوست کے ساتھ جمعیۃ کے مطعم کی طرف سے واپس آرہے تھے۔ فوراً ہاتھ ہلاکر دونوں نے ایک دوسرے کے سلام کا جواب دیا اور میں سیدھے جمعیۃ کے پریس سکریٹری مولانا عظیم اللہ صدیقی قاسمی کے کمرے کی طرف چلا گیا جہاں چودھری عامر سلیم صاحب کی موجودگی کا امکان تھا۔ ان کا کمرہ مقفل ہونے کے بعد دوبارہ جمعیۃ کے لان میں واپس آگیا اور چودھری عامر سلیم خان کو فون کرکے استفسار کیا کہ آپ کی گاڑی تو موجودہ ہے لیکن آپ کہاں جمع مذکر غائب ہیں۔فوراً وہ جمعیۃ کے صدر دروازے پر بنے استقبالیہ کمرے سے نمودار ہوئے اور سلام دعا ہوئی۔ انہوں نے مجھے وہ پندرہ صفحات دیئے جو ان کے پاس سنیچر کے روز سے بہ طور امانت رکھے ہوئے تھے۔

پھر ہم چودھری عامر سلیم اور قاری عارف اور چند لوگوں کے ساتھ جمعیۃ کے صدر دروازے پر بنے استقبالیہ کمرے میں داخل ہوئے۔ کافی دیرتک کھٹی میٹھی گفتگو ہوئی۔ لوگوں نے ایک دوسرے پر خوب نشتر چلائے جس کیلئے ملت ماہر بھی ہے،لیکن اسی دوران قاری عارف صاحب نے چائے منگوائی۔ چائے میرے حصہ کی بھی آئی،لیکن میں نے نوش نہیں کیا۔چودھری عامر سلیم مصر رہے کہ میں چائے نوش فرما لوں، لیکن چونکہ میں چائے پیتا نہیں ہوں اس لئے میں نے منع کردیا اور میں نے منگواتے وقت بھی منع کیا، لیکن یہ قاری صاحب کا خلوص تھا کہ ان کی برکت سے میرے حصے کی چائے آگئی۔ سب نے نوش کیا اسی دوران جو چائے میرے منع کرنے کے بعد بھی میرے حصے کی آئی تھی، قاری عارف اورچودھری عامر سلیم نے آدھا آدھا کرکے نوش کیا۔

 قاری عارف نے عامر سلیم سے اصرار کیا کہ آپ آدھی کپ پی لیں اور اسی میں جو بچ جائے گی میں نوش فرما لوں گا...چنانچہ ایسا ہی ہوا۔قاری عارف نے مجھ سے پوچھا کہ احمد بھائی آپ کیا لیں گے میں نے کہا دیکھیں اگر مینگو شیک مل جائے۔ چنانچہ انہوں نے فوراً پانچ سو روپیہ کی نوٹ نکال کر خادم سے درخواست کی کہ جوس لائیں لیکن قدر اللہ ماشاء جوس نہیں ملا...اور کھٹی میٹھی گفتگو کا دور جاری رہا۔ اسی دوران عامر سلیم اور قاری عارف کچھ راز و نیاز کی باتیں کرنے کیلئے کمرے سے باہر آئے اور مجھے بھی مدعو کیا، لیکن میں نے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ میں ظہر ادا کرکے آتا ہوں۔

 ظہر کے بعد میں آیا اور گفتگو کا دور جاری رہا گفتگو ختم ہونے کے بعد عامر بھائی یہ کہہ کر اپنے دفتر ہمارا سماج چلے گئے کہ مجھے آج اداریہ لکھنا ہوتا کیونکہ اتوار کو اسٹاف چھٹی پر ہوتا ہے۔ اس کے بعد میں نے قاری عارف سے عرض کیا حضور! کھانے کی خواہش ہورہی ہے۔ کہیں دعوت تھی وہاں کسی وجہ سے نہیں جا پایا،فوراً انہوں نے جمعیۃ کے مطعم سے لے کر باہر تک کھانے کے انتظام کیلئے پوری قوت لگادی، لیکن جب کھانے کا انتظام نہیں ہو پایا توپھر انہوں نے اپنی اہلیہ سے کھانے کی درخواست کی اور چند منٹوں میں ہی کھاناحاضر تھا جومیرے لئے کسی عجوبے سے کم نہیں تھا،کیونکہ کھانا گھر سے آیا تھا اور ایسا کھانا جس کی لذت سالوں تک محسوس کی جائے۔ میں نے بھی کھایا اور میرے ساتھ صادق بھائی نے بھی کھایا۔ اللہ قاری عارف کو سلامت رکھے اور اسی طرح انہیں لوگوں کے اکرام کی مزید توفیق دی، کیونکہ پتہ تو یہاں تک چلا کہ بہ فضل اللہ ان کے دستر خوان پر ہر روز متعدد افراد کو ان کی پسند کا کھانا چکن سے لے کر مٹن تک پروسا جاتا ہے۔ اللہ ان کو مزید عزت دے!(آمین)

You May Also Like

Notify me when new comments are added.