بریکنگ نیوز

مذہب

فکر وخیالات

مدیر کی قلم سے

Poll

Should the visiting hours be shifted from the existing 10:00 am - 11:00 am to 3:00 pm - 4:00 pm on all working days?

SUBSCRIBE LATEST NEWS VIA EMAIL

Enter your email address to subscribe and receive notifications of latest News by email.

بنکروں کو فلیٹ ریٹ پربجلی اور پاس سہولت بحال کیا جائے! جاوید بھارتی

محمدآباد گوھنہ (مئو پریس ریلیز )31 اگست اترپردیش حکومت کے ذریعے بنکروں کے بجلی بل پاس بک رد کئے جانے کے خلاف غم و غصہ بڑھتا جارہا ہے جہاں ایک طرف ٹانڈہ، بنارس، بجنور، امروہہ،مئو ،گورکھپور وغیرہ اضلاع و علاقوں میں میٹنگوں کا سلسلہ جاری ہے وہیں بنارس سے واپسی پر محمدآباد گوھنہ میں بھی میٹنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا سب سے پہلے مقامی قصبے کی اشرفیہ لائبریری میں بنکروں نے میٹنگ کا انعقاد کیا اس کے بعد رسولپور، مہروپور، برئی پور، فریدآباد، احمد نگر، انصار نگر، زمین برآمد پور، بھیرہ میں بھی میٹنگ ہوئی مذکورہ میٹنگ میں بنکروں کو خطاب کرتے ہوئے بنکر یونین کے سابق سکریٹری جاوید اختر بھارتی نے کہا کہ ملک کی دو صنعتیں ہندوستان کی پہچان ہیں اور ان دونوں صنعتوں کی پہچان کسان اور بنکر سے ہے اور ملک کی خوشحالی کیلئے دونوں صنعتوں کا زندہ رہنا ضروری ہے لیکن اتر پردیش کی حکومت نے بنکروں کے ساتھ سوتیلا سلوک کیا ہے جبکہ پہلے ہی لاک ڈاؤن کی مار سب سے زیادہ بنکروں پر پڑی ہے بنکر طبقہ بھکمری کا سامنا کررہا ہے علاوہ ازیں اس کا بجلی بل پاس بک رد کردیا گیا اور نئے اصول ضابطہ کے تحت ماہانہ بجلی کا بل جمع کرنے کیلئے مجبور کیا جارہا ہے جبکہ نئے اصول ضابطے کے مطابق بنکر طبقہ بجلی بل جمع ہی نہیں کر پائے گا کیونکہ غریب مزدور بنکروں کی اتنی آمدنی ہی نہیں ہے جاوید بھارتی نے کہا کہ حکومت وقت کے فیصلے کو شرمناک کہا جائے یا افسوسناک کہ بنکروں کو جہاں سہولت فراہم کرنے کی بات آتی ہے تو زبانی فرمان جاری کیا جاتا ہے اور جب سہولت سے محروم کرنا ہوتا ہے تو تحریری فرمان جاری کیا جاتا ہے اب بتائیے عملدرآمد کس پر ہوگا انہوں نے صاف طور پر کہا کہ ریاستی حکومت بنکروں کو فلیٹ ریٹ پر بجلی نہیں دی اور پاس بک سہولت کو بحال نہیں کیا تو سوشل ڈسٹنسنگ کا لحاظ رکھتے ہوئے تحریک چلائی جائے گی

وطن سماچار ڈیسک

بنکروں کو فلیٹ ریٹ پربجلی  اور پاس سہولت بحال کیا جائے! جاوید بھارتی

محمدآباد گوھنہ (مئو پریس ریلیز )31 اگست اترپردیش حکومت کے ذریعے بنکروں کے بجلی بل پاس بک رد کئے جانے کے خلاف غم و غصہ بڑھتا جارہا ہے جہاں ایک طرف ٹانڈہ، بنارس، بجنور، امروہہ،مئو ،گورکھپور وغیرہ اضلاع و علاقوں میں میٹنگوں کا سلسلہ جاری ہے وہیں بنارس سے واپسی پر محمدآباد گوھنہ میں بھی میٹنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا سب سے پہلے مقامی قصبے کی اشرفیہ لائبریری میں بنکروں نے میٹنگ کا انعقاد کیا اس کے بعد رسولپور، مہروپور، برئی پور، فریدآباد، احمد نگر، انصار نگر، زمین برآمد پور، بھیرہ میں بھی میٹنگ ہوئی مذکورہ میٹنگ میں بنکروں کو خطاب کرتے ہوئے بنکر یونین کے سابق سکریٹری جاوید اختر بھارتی نے کہا کہ ملک کی دو صنعتیں ہندوستان کی پہچان ہیں اور ان دونوں صنعتوں کی پہچان کسان اور بنکر سے ہے اور ملک کی خوشحالی کیلئے دونوں صنعتوں کا زندہ رہنا ضروری ہے لیکن اتر پردیش کی حکومت نے بنکروں کے ساتھ سوتیلا سلوک کیا ہے جبکہ پہلے ہی لاک ڈاؤن کی مار سب سے زیادہ بنکروں پر پڑی ہے بنکر طبقہ بھکمری کا سامنا کررہا ہے علاوہ ازیں اس کا بجلی بل پاس بک رد کردیا گیا اور نئے اصول ضابطہ کے تحت ماہانہ بجلی کا بل جمع کرنے کیلئے مجبور کیا جارہا ہے جبکہ نئے اصول ضابطے کے مطابق بنکر طبقہ بجلی بل جمع ہی نہیں کر پائے گا کیونکہ غریب مزدور بنکروں کی اتنی آمدنی ہی نہیں ہے جاوید بھارتی نے کہا کہ حکومت وقت کے فیصلے کو شرمناک کہا جائے یا افسوسناک کہ بنکروں کو جہاں سہولت فراہم کرنے کی بات آتی ہے تو زبانی فرمان جاری کیا جاتا ہے اور جب سہولت سے محروم کرنا ہوتا ہے تو تحریری فرمان جاری کیا جاتا ہے اب بتائیے عملدرآمد کس پر ہوگا انہوں نے صاف طور پر کہا کہ ریاستی حکومت بنکروں کو فلیٹ ریٹ پر بجلی نہیں دی اور پاس بک سہولت کو بحال نہیں کیا تو سوشل ڈسٹنسنگ کا لحاظ رکھتے ہوئے تحریک چلائی جائے گی
بنکر یونین کے لیڈر عین المظفر انصاری نے کہا کہ حکومت ظالمانہ رویہ ترک کرے اور بنکروں کے فلاح و بہبود کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھاتے ہوئے سب سے پہلے 2006 سے ملنے والی پاس بک سہولت اور فلیٹ ریٹ پر بجلی بل کی ادائیگی کے نظام کو بحال کرے ورنہ غریب بنکر سڑک پر آکر احتجاج اور مظاہرہ کرے گا غریب مزدور بنکر گھروں میں مرنے کے بجائے سڑکوں پر مرے گا حاجی شاداب خان نے کہا کہ اترپردیش کی یوگی حکومت بنکروں کا استحصال کرنے سے باز آئے ورنہ موجودہ حالات میں بنکروں سے بقایا وصولی و بجلی چیکنگ کے نام پر کوئی مہم چلائی گئی اور بنکروں کو پریشان کیا گیا تو بجلی محکمہ کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا انہوں نے کہا کہ بقائے کی وصولی سے قبل بنکروں کے لئے پہلے کی طرح پاس بک سہولت بحال کیا جائے
خورشید انصاری نے کہا کہ بنکر تحریک کے قائدین جو بھی فیصلہ لیں اور جو بھی اعلان کریں اس پر سارے بنکر لبیک کہیں یہی وقت کے ضرورت ہے
نوجوان تاجر محمد احمد انصاری نے کہا کہ پاس بک بحال کرانے کی تحریک میں چھوٹے بڑے سبھی بنکروں کو ساتھ اناہاگا انہوں نے مزید کہا کہ دیگر علاقوں کی بنسبت ہمارے علاقے کے خوشحال اور بڑے بنکر اپنے آپ کو بہت برتر سمجھتے ہیں اور بنکروں کے مفاد کی تحریک سے دور رہتے ہیں یہ بہت ہی افسوس کہ بات ہے انکی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ بھی تحریک کے دوران شانہ بشانہ کھڑے ہوں
خالد کمال ممبر نے کہا کہ اتحاد اور تحریک بہت بڑی چیز ہے ہمیں جو پاس بک کی سہولت ملی تھی وہ بنکروں کے اتحاد اور تحریک کی ہی وجہ سے ملی تھی آخر میں صدارت کررہے
محمود الحسن انصاری نے کہا کہ کل پاس بک بنانے کے لیے تحریک چلی تھی اور آج پاس بک بچانے کے لیے تحریک چلانے کی ضرورت ہے اور اس تحریک کی کامیابی کے لیے چھوٹے بڑے سبھی بنکروں کے تعاون اور شمولیت  ضروری ہے تاکہ پہلے کی طرح فلیٹ ریٹ پر بجلی دینے کے لیے اترپردیش حکومت کو مجبور کیا جاسکے اس موقع پر خالد رضا، انوار احمد، عبد الکریم، ارشد جمال، محمد ہاشم، مولانا حشمت اللہ، طفیل احمد،ضیاء المصطفی، شمشاد احمد، نورالہدی حاجی ظفر کلیم، زین العابدین، شفیق احمد وغیرہ بھی موجود تھے -

 

You May Also Like

Notify me when new comments are added.