ایک مضبوط خاندان اور مضبوط سماج کا قیام وقت کی اہم ضرورت: امیر جماعت

آج جماعت اسلامی ہند کی جانب سے ایک تعارفی ویبنار منعقد کیا گیا۔ اس ویبنار میں جماعت کی جانب سے 19 فروری تا 28 فروری منعقد شدنی مہم پر روشنی ڈالی گئی۔ اس میں ملک بھر کے جماعت اسلامی ہند، ایس آئی او اور جی آئی او کے ذمہ داران نے شرکت کی۔اس مہم کا اہتمام شعبہ خواتین جماعت اسلامی ہند کے ذریعہ ہوگا۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی ہندمحترم سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ جماعت کی کوشش ہوگی کہ خاندان کی تعمیر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ہو،بچوں اور نوجوانوں میں اسلامی تربیت ہو اور انہیں مغربی و مشرکانہ ثقافت کے اثرات سے بچایا جاسکے اور وہ معروف کے قیام اور منکر کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کریں، ان کے اندر اپنے حقوق اور فرائض کا صحیح تصور عام ہو۔جماعت مذہبی رہنماؤں کے تعاون سے سماج میں پائی جانے والی منکرات کو دور کرنے میں کوشاں ہے۔امیر جماعت نے مزید کہا کہ ”مغربی دنیا نے پہلے تو

وطن سماچار ڈیسک

ایک مضبوط خاندان اور مضبوط سماج کا قیام وقت کی اہم ضرورت: امیر جماعت

نئی دہلی، 10 جنوری: آج جماعت اسلامی ہند کی جانب سے ایک تعارفی ویبنار منعقد کیا گیا۔ اس ویبنار میں جماعت کی جانب سے  19 فروری تا 28 فروری منعقد شدنی مہم پر روشنی ڈالی گئی۔ اس میں ملک بھر کے جماعت اسلامی ہند، ایس آئی او اور جی آئی او کے ذمہ داران نے شرکت کی۔اس مہم کا اہتمام شعبہ خواتین جماعت اسلامی ہند کے ذریعہ ہوگا۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی ہندمحترم سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ جماعت کی کوشش ہوگی کہ خاندان کی تعمیر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ہو،بچوں اور نوجوانوں میں اسلامی تربیت ہو اور انہیں مغربی و مشرکانہ ثقافت کے اثرات سے بچایا جاسکے اور وہ معروف کے قیام اور منکر کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کریں، ان کے اندر اپنے حقوق اور فرائض کا صحیح تصور عام ہو۔جماعت مذہبی رہنماؤں کے تعاون سے سماج میں پائی جانے والی منکرات کو دور کرنے میں کوشاں ہے۔امیر جماعت نے مزید کہا کہ ”مغربی دنیا نے پہلے تو لبرلزم کا تصور دیا لیکن اب صورت حال یہ ہے کہ مغربی اور ترقییافتہ سوسائٹی بھی احساس کرنے لگی ہے کہ خاندان کا تحفظ ضروری ہے اور اب وہ یہ چاہنے لگے ہیں کہ مضبوط خاندانی ادارہ دوبارہ بحال ہو لیکن جو لائف اسٹائل اور اخلاقی تصورات گزشتہ صدیوں میں عام کردی گئی ہیں،ان کے رہتے ہوئے سماجی و اخلاقی اقدار کو دوبارہ زندہ کرنا ممکن نہیں ہے۔خاندانی نظام کو بحال کرنے کا آخری حل اسلام میں ہی ہے کیونکہ اسلام کے خاندانی تصور میں خدا کے احکام کی پابندی ہے۔اس مہم کا ہدف یہ ہوگا کہ ہمارا مسلم معاشرہ ایک مثالی خاندان بنے اور غیر مسلم سماج کے بارے میں بھی کوشش ہوگی کہ وہاں بھی خاندان سے متعلق مسائل پر توجہ دی جائے اور آفاقی اصولوں پر سماج کی تعمیر ہو۔اس موقع پر قیم جماعت اسلامی ہند جناب ٹی عارف علی صاحب نے مہم کے لئے تیار کیا گیا”لوگو“ جاری کیا۔اس لوگو کو محترمہ ارم رحمان چھتیس گڑھ نے ڈیزائن کیا ہے۔قیم جماعت نے مزید کہا کہ گھر جسے مسکن کہا جاتا ہے،وہ سکون کی جگہ ہو اور اس میں سکون ملے۔سماج کے لئے بنیادی اکائی خاندان ہے۔اگر خاندان خوشحال رہتا ہے تو سماج اور ملک بھی خوشحال ہوسکتا ہے،اس لئے ہمارے سماج کے ہر خاندان کو خوشحال بنانے کی کوششیں اس مہم کے دوران ہونی چاہئے ۔ جماعت اسلامی ہند کے شعبہ خواتین کی نیشنل معاون سکریٹری رحمت النساء نے مہم  مقاصد  بیان کرتے ہوئے کہا کہ لوک ڈاؤن کے دوران فیملی کی ضرورت و اہمیت اور فیملی کے مسائل کو زیادہ محسوس کیا گیا۔ اس لئے اس مہم کو چلانے کا فیصلہ لیا گیا۔اسلام کے خوبصورت متوازن اور عملی خاندانی نظام کو ایک مثبت انداز میں عوام کے سامنے پیش کرنا چاہئے۔اس مہم کے ذریعہ ہمیں فیملی نظام کے اندر انفرادیت،مادہ پرستی  اور آزادی  کے خطرناک اثرات کیا ہورہے ہیں اس کے بارے میں عوام کو بیدار کرنا ہے۔ ہمارے نوجوانوں کے اندر  اس کا  اثرو رسوخ بھی زیادہ ہے۔ آج کل ایک فیشن ہے۔ اگر ہماری فیملی نہیں ہوگی تو کیا ہوگا۔ سارے ہم خیال لوگوں کو اس بحث میں لانا چاہئے۔ ہمارے کیڈر کو بھی رول ماڈل پیش کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کی فیملی،معاشرے میں دوسروں کے لئے ایک مثال بنے۔پروگرام کے اختتام پر دیگر شرکاء کے سوالات کے جوابات دیئے گئے۔

 

You May Also Like

Notify me when new comments are added.