مذہب

فکر وخیالات

مدیر کی قلم سے

Poll

Should the visiting hours be shifted from the existing 10:00 am - 11:00 am to 3:00 pm - 4:00 pm on all working days?

SUBSCRIBE LATEST NEWS VIA EMAIL

Enter your email address to subscribe and receive notifications of latest News by email.

ہندو اور مسلمان دونوں مناتے ہیں محرم اور گنیش چترتھی

ہرسال گاؤں کے لوگ دونوں تہواروں کیلئے بڑے پیمانے پر تقریبات منعقد کرتے ہیں۔دونوں مذاہب کی خواتین بھی ان تقریبات میں حصہ لیتی ہیں اور گذشتہ سال2018میں گنیش چترتھی اور محترم ایک ہی دن اور ایک ہی تاریخ میں واقع ہوئے۔ اسی دن تعزیوں کے دفنانے اور گنیش چترتھی کے مجسمہ (بڑا بت) کے ’وسرجن‘ کاموقع تھا۔ گاؤں میں مسلم طبقہ کے ایک آدمی نے کہا کہ ’اس گاؤں میں رہنے والے ہندؤں اور مسلمانوں میں اختلافات نہیں ہوتے۔ لوگ بلالحاظ مذہب ایک دوسرے کے بھائی اور بہن کے مانند رہتے ہیں۔ نہ صرف یہ کہ تہواروں کے موقع پر ایک ساتھ رہتے آئے ہیں بلکہ دیگر مذہبی تقریبات اور ایک دوسرے کی خوشی اور غم میں ہندو اور مسلمان شریک ہوتے ہیں۔ اس نے کہا کہ اس گاؤں کی یہی خوبصورتی ہے، جس کی پیروی تما م بھارت کے لوگوں کو کرنی چاہئے تاکہ ہندو مسلم بھائی چارہ کی ہماری کوششیں پوری ہوں اور پورے بھارت میں فرقہ وارانہ اختلافات اور فسادات نہ ہوں۔

گیسٹ کالم

ہندو اور مسلمان دونوں مناتے ہیں محرم اور گنیش چترتھی

محمد ہاشم

چوڑی والان، جامع مسجد، دہلی

 

مکرمی!

فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ایک نایاب مثال جنوبی بھارت میں ایک عرصہ سے پائی جاتی ہیں۔ کرناٹک میں ضلع ہبلی کے مضافات میں واقع ایک گاؤں کے ہندو اور مسلمان ایک ساتھ ملکر’محرم‘اور ’گنیش چترتھی‘کا تہوار مناتے ہیں۔ گاؤں میں یہ سلسلہ 35 برسوں سے چلا آرہا ہے۔ اس میں ہندؤں اور مسلمانوں کی آبادی آدھی آدھی ہے۔ مذہبی تہواروں کے منانے کیلئے یہاں ہندؤں اورمسلمانوں کی مشترکہ کمیٹی ہے،اسی لئے دونوں مشترکہ طو رپر گنیش چترتھی اورمحرم پوری عقیدت سے مناتے ہیں۔ اس گاؤں کے ایک باشندے نے بتایاکہ گذشتہ 35 برسوں سے ہم مل جل کر بھگوان گنیش کاعظیم مجسمہ اور محرم کے تعزیے ایک ہی پنڈال میں نصب کرتے ہیں او ریہ میدان گاؤں کے بیچوں بیچ واقع ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سال 1982-83اور 1984 میں دونوں تہوار گنیش چترتھی اور محرم ایک ہی تاریخ میں واقع ہوئے۔ یہی دوبارہ گذشتہ سال 2018میں بھی ہوا اور گاؤں کے تمام لوگوں نے مشترکہ طور پر دونوں تہوار منایا۔

ہرسال گاؤں کے لوگ دونوں تہواروں کیلئے بڑے پیمانے پر تقریبات منعقد کرتے ہیں۔دونوں مذاہب کی خواتین بھی ان تقریبات میں حصہ لیتی ہیں اور گذشتہ سال2018میں گنیش چترتھی اور محترم ایک ہی دن اور ایک ہی تاریخ میں واقع ہوئے۔ اسی دن تعزیوں کے دفنانے اور گنیش چترتھی کے مجسمہ (بڑا بت) کے ’وسرجن‘ کاموقع تھا۔ گاؤں میں مسلم طبقہ کے ایک آدمی نے کہا کہ ’اس گاؤں میں رہنے والے ہندؤں اور مسلمانوں میں اختلافات نہیں ہوتے۔ لوگ بلالحاظ مذہب ایک دوسرے کے بھائی اور بہن کے مانند رہتے ہیں۔ نہ صرف یہ کہ تہواروں کے موقع پر ایک ساتھ رہتے آئے ہیں بلکہ دیگر مذہبی تقریبات اور ایک دوسرے کی خوشی اور غم میں ہندو اور مسلمان شریک ہوتے ہیں۔ اس نے کہا کہ اس گاؤں کی یہی خوبصورتی ہے، جس کی پیروی تما م بھارت کے لوگوں کو کرنی چاہئے تاکہ ہندو مسلم بھائی چارہ کی ہماری کوششیں پوری ہوں اور پورے بھارت میں فرقہ وارانہ اختلافات اور فسادات نہ ہوں۔

وضاحت نامہ :یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ مضمون کو من و عن شائع کیا گیا ہے ۔ اس میں کسی طرح کا کوئی ردوبدل نہیں کیا گیاہے۔ اس سےوطن سماچار کا کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی جانکاری کیلئے وطن سماچار کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی وطن سماچاراس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے ۔ 


You May Also Like

Notify me when new comments are added.