کووڈ کے دوران ٹیکہ کاری کو یقینی بنائیں

آج پورا ملک کووڈ -19 کے چیلنج کا سامنا کر رہا ہے ۔کورونا ابھی ختم نہیں ہوا ہے، ایسے میں ہمارا فرض ہے کہ ہوشیار رہیں ۔ کورونا سے بچاؤ کے لئے ضروری ہے مسلسل ہاتھ دھونا، ماسک پہننا اور مناسب دوری بنائے رکھنا ۔ جب تک دوائی نہیں تب تک کوئی ڈھلائی نہیں ۔ دو گز کی دوری، ماسک ہے ضروری ۔ کورونا سے بچنے کے لئے احتیاطی تدابیر کی فون پر مسلسل یاد دہانی کرائی جا رہی ہے ۔ حکومت، یونیسیف، ادارہ صحت کی کوشش، ہیلتھ کارکنان کی محنت، عوام اور مذہبی رہنماؤں کی مہم میں شمولیت نے حالات کو تبدیلی کیا ہے ۔ ریکوری کی شرح میں اضافہ ہوا ہے مگر حکومت بے پرواہ ہو گئی ہے ۔ اس نے مہاماری کا ذکر تک کرنا چھوڑ دیا ۔ نتیجہ کے طور پر بھارت کورونا سے متاثر مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا ملک بن گیا ۔ وسائل کی کمی اور کمزور نظام صحت کے باوجود ہیلتھ کارکنان نے ہمت نہیں ہاری ۔ ان کی انتھک کوششوں کی وجہ ملک لاک ڈاؤن سے ان لاک کی طرف بڑھ سکا ۔ دھیرے دھیرے کورونا کا ڈر عوام میں کم ہوا اور حالات معمول پر آنے لگے ۔ بہت دنوں کے بعد آج وزیراعظم نے ملک سے خطاب کرتے ہوئے ہیلتھ ورکرز، ڈاکٹر، سیکورٹی فورسز اور کورونا warrior (سپاہی) کی کوششوں کو سراہا ۔ انہوں نے تہواروں کے موسم کو دیکھتے ہوئے تمام طرح کی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر روز دیا ۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کے خلاف لڑائی کو کمزور نہ کریں ۔ لاپرواہی سے اپنے آپ کو اور اپنے خاندان کو پریشانی میں نہ ڈالیں ۔ دشمن، بیماری اور آگ کو کبھی چھوٹا نہیں سمجھنا چاہئے ۔ جب تک ان کا پورا علاج نہ ہو جائے انہیں ہلکے نہیں لینا چاہئے ۔ انہوں کورونا ویکسین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس پر کام چل رہا ہے ۔ جیسے ہی ویکسین آئے گی ہر ایک تک اسے جلد سے جلد پہنچانے کی کوشش کی جائے گی ۔

گیسٹ کالم

کووڈ کے دوران ٹیکہ کاری کو یقینی بنائیں 

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی 

 

آج پورا ملک کووڈ -19 کے چیلنج کا سامنا کر رہا ہے ۔کورونا ابھی ختم نہیں ہوا ہے، ایسے میں ہمارا فرض ہے کہ ہوشیار رہیں ۔ کورونا سے بچاؤ کے لئے  ضروری ہے مسلسل ہاتھ دھونا، ماسک پہننا اور مناسب دوری بنائے رکھنا ۔ جب تک دوائی نہیں تب تک کوئی ڈھلائی نہیں ۔ دو گز کی دوری، ماسک ہے ضروری ۔ کورونا سے بچنے کے لئے احتیاطی تدابیر کی فون پر مسلسل یاد دہانی کرائی جا رہی ہے ۔ حکومت، یونیسیف، ادارہ صحت کی کوشش، ہیلتھ کارکنان کی محنت، عوام اور مذہبی رہنماؤں کی مہم میں شمولیت نے حالات کو تبدیلی کیا ہے ۔ ریکوری کی شرح میں اضافہ ہوا ہے مگر حکومت بے پرواہ ہو گئی ہے ۔ اس نے مہاماری کا ذکر تک کرنا چھوڑ دیا ۔ نتیجہ کے طور پر بھارت کورونا سے متاثر مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا ملک بن گیا ۔ وسائل کی کمی اور کمزور نظام صحت کے باوجود ہیلتھ کارکنان نے ہمت نہیں ہاری ۔ ان کی انتھک کوششوں کی وجہ ملک لاک ڈاؤن سے ان لاک کی طرف بڑھ سکا ۔ دھیرے دھیرے کورونا کا ڈر عوام میں کم ہوا اور حالات معمول پر آنے لگے ۔ بہت دنوں کے بعد آج وزیراعظم نے ملک سے خطاب کرتے ہوئے ہیلتھ ورکرز، ڈاکٹر، سیکورٹی فورسز اور کورونا warrior (سپاہی) کی کوششوں کو سراہا ۔ انہوں نے تہواروں کے موسم کو دیکھتے ہوئے تمام طرح کی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر روز دیا ۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کے خلاف لڑائی کو کمزور نہ کریں ۔ لاپرواہی سے اپنے آپ کو اور اپنے خاندان کو پریشانی میں نہ ڈالیں ۔ دشمن، بیماری اور آگ کو کبھی چھوٹا نہیں سمجھنا چاہئے ۔ جب تک ان کا پورا علاج نہ ہو جائے انہیں ہلکے نہیں لینا چاہئے ۔ انہوں کورونا ویکسین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس پر کام چل رہا ہے ۔ جیسے ہی ویکسین آئے گی ہر ایک تک اسے جلد سے جلد پہنچانے کی کوشش کی جائے گی ۔ 

 

مگر کووڈ کے دوران سب سے بڑا چیلنج تھا چھوٹے بچوں کو بچپن میں ہونے والی بیماریوں سے بچانے کا ۔ اس مشکل دور میں آشا، اے این ایم اور سیاح ساتھی نے جان کی پرواہ نہ کرکے چھوٹے بچوں تک معمول کے ٹیکے پہنچانے کا غیر معمولی کارنامہ انجام دیا ۔ حال ہی میں مرکزی وزارت برائے صحت و خاندانی بہبود اور یونیسیف کے اشتراک سے منعقد ہوئے ایمونائزیشن وبینار سے اس کا اندازہ ہوا ۔ فرنٹ لائن ہیلتھ کارکنان نے کورونا کے دوران ٹیکہ کاری کے لئے کیا کیا طریقے اختیار کئے ۔ وبینار میں اس پر تفصیل سے گفتگو ہوئی ۔ اس وبینار میں یوپی، بہار، بنگال، آسام، مدھیہ پردیش، گجرات، مہاراشٹر کے ہیلتھ کارکنان، ڈاکٹرز، وزارت صحت کے افسران، یونیسیف کے کمیونیکیشن اسپیشلسٹ، ریڈیو جوکی اور اردو صحافیوں نے شرکت کی ۔

 

اس موقع پر وزارت صحت و خاندانی بہبود میں ایمونائزیشن کی جوائنٹ کمشنر ڈاکٹر وینا دھون نے بتایا کہ بچوں کو کووڈ -19 کے مقابلہ بچپن میں ہونے والی بارہ بیماریوں جیسے نمونیا، ڈپتھیریا، ٹٹنس، ڈائریا، گل گھونٹو، کالی کھانسی وغیرہ سے موت کا زیادہ خطرہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کورونا سے متاثر ہونے والوں میں بچوں کی تعداد نا کے برابر ہے ۔ حفاظتی ٹیکے بچوں کی مدافعتی قوت کو بڑھاتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے وہ بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں ۔ اس لئے کوئی بچہ حفاظتی ٹیکوں سے محروم نہ رہے کیونکہ یہ اس کا بنیادی حق ہے ۔ وینا دھون نے بتایا کہ 2.6 کروڑ شیرخوار بچوں اور 2.9 کروڑ حاملہ خواتین تک ویکسین پہنچانے کا ہدف ہے ۔ 27 ہزار کولڈ چین کے ساتھ ٹارگیٹ حاصل کرنے کے لئے ہر سال ٹیکہ کاری کے 1.2 کروڑ سیشن کئے جاتے ہیں ۔ بارہ بیماریوں سے بچوں کو بچانے کے لئے قومی سطح پر نو ٹیکے بی سی جی، او پی وی، آئی پی وی، ہیپاٹائٹس بی، پینٹا ولینٹ، خسرو روبیلا، روٹا وائرس ویکسین اور ڈی پی ٹی و ٹی ڈی دیئے جاتے ہیں ۔ جاپانی بخار اور نیوموکوکل کنجوگیٹ ویکسین ملک کے کچھ مخصوص علاقوں میں دی جاتی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ کووڈ کے دوران کنٹینمنٹ و بفر زون(ریڈ زون) میں ٹیکہ کاری کا پروگرام نہیں چلایا جاسکتا ۔ جبکہ اس کے باہر گرین زون میں بچوں تک ویکسین پہنچانے کی پوری کوشش کی گئی ۔ 

 

وبینار میں شریک جھبوا، مدھیہ پردیش کی اے این ایم جیوتی بالا نے کووڈ کے دوران ٹیکہ کاری کے اپنے تجربات کو شرکاء ساتھ ساجھا کرتے ہوئے بتایا کہ یہ بہت مشکل وقت تھا ۔ حکومت نے ہمیں پاس دے رکھا تھا مگر آنے جانے کے لئے کوئی سواری موجود نہیں تھی ۔ جس کا اپنے طور پر ہمیں انتظام کرنا پڑا ۔ دوسری طرف والدین کورونا کے ڈر سے اپنے بچوں کو ٹیکہ دلوانے کو تیار نہیں تھے ۔ ایسے میں انہیں سمجھایا کہ یہ ٹیکے کووڈ سے زیادہ خطرناک بارہ بیماریوں سے بچوں کو بچانے کے لئے ہیں ۔ ہم نے کووڈ سے بچاؤ، ہائی جین اور ٹیکہ کاری کے پروٹوکول پر عمل کرتے بچوں کو ایمونائز کیا ۔ تاکہ بچے، ان کے والدین اور ہیلتھ کارکن کورونا سے متاثر نہ ہوں ۔ کام تو مشکل تھا لیکن بچوں کو بچانے کے لئے اپنا فرض سمجھ کر ہم نے اس کام کو کیا ۔ ہماری لگن کو دیکھ کر والدین سے ہمیں ہر طرح کا تعاون ملا ۔ 

 

بہار کے نبی نگر ضلع اورنگا باد سے وبینار جوائن کرنے والی اے این ایم منی بالا سمن کا تجربہ بھی قابل ذکر ہے ۔ سمن نے بتایا کہ بچوں کو ویکسین دینے کے لئے دو سے تین گھنٹے پیدل چل کر جانا پڑتا تھا ۔ یہ فکر رہتی تھی کہ کہیں بچے ٹیکہ کی خوراک سے محروم نہ رہ جائیں ۔ یونیسیف کے تعاون سے سائیکل خریدی اور میرے شوہر نے سائیکل چلانا سکھایا ۔ اس کے بعد دور دراز کے علاقوں میں ٹیکوں کی خوراک پہنچانا آسان ہو گیا ۔ نکسلی علاقہ گڑھ چرولی مہاراشٹر کی اے این ایم ویمل امبیڈکر نے ایمونائزیشن کے لئے سوشل میڈیا کا سہارا لیا ۔ انہوں نے گاؤں ممبران کا واٹس اپ گروپ بنایا ۔ اس میں انہوں نے کووڈ کے دور میں ٹیکہ کاری کی اہمیت، ہاتھ دھونے اور جسمانی دوری بنانے وغیرہ پر ویڈیو شیئر کیں ۔ جس کے علاقے میں مثبت اثرات دیکھنے کو ملے ۔ اس گروپ سے ٹیکہ کاری کو جاری رکھنے میں مدد ملی ۔ 

 

وبینار کے دوران ریڈیو جوکی اور صحافیوں نے مل کر کئی دلچسپ پیغام بنائے ۔ ان میں ایمونائزیشن کی اہمیت، غلط فہمیاں دور کرنے اور صحیح معلومات کے لئے ڈاکٹر سے رجوع کرنے کی صلاح پر زور دیا گیا تھا ۔ وبینار میں اس بات پر بھی شرکاء نے اتفاق ظاہر کیا کہ کووڈ کے زمانہ میں ٹیکوں کی سہولت پرائیویٹ ڈاکٹروں و اسپتالوں میں بھی مفت یا رعایتی قیمت پر فراہم کی جائے ۔ تاکہ والدین اسپتال یا پرائمری ہیلتھ سینٹر جانے کے جوکھم سے بچ سکیں ۔ وبینار کے آخر میں یونیسیف کی کمیونیکیشن اسپیشلسٹ الکا گپتا اور کمیونیکشن آفیسر سونیا سرکار نے سب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا ہمارا بھروسہ مند پارٹنر رہا ہے ۔ اس نے ٹیکوں کی مانگ پیدا کرنے اور اس مہم کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ بھی اسی طرح میڈیا کا ساتھ بچوں کی زندگی بچانے میں انہیں ملتا رہے گا ۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا متھ کو دور کر اعتماد بحال کرنے کا کام کرتا ہے ۔ وہ سوچ بدلتا ہے، ضروری متعلقہ معلومات فراہم کرنے کے ساتھ بیداری پیدا کرتا ہے ۔ اس کی باتوں کا سماج کو راہ دکھانے والے لوگوں پر بھی اثر ہوتا ہے ۔ اس لئے بچوں تک حفاظتی ٹیکے پہنچانے کی مہم میں میڈیا کا کلیدی کردار ہے ۔ وزارت صحت و خاندانی بہبود، یونیسیف، جیوا اور عالمی ادارہ صحت کے ساتھ میڈیا مل کر کام کرے گا تو ہر بچہ کی زندگی بچانے اور صحت ملک کی تعمیر کرنے میں ایک دن ضرور کامیاب ہوں گے ۔ 

 

وضاحت نامہ:۔یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ مضمون کو من و عن شائع کیا گیا ہے۔ اس میں کسی طرح کا کوئی ردوبدل نہیں کیا گیاہے۔ اس سے وطن سماچار کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی جانکاری کیلئے وطن سماچار کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی وطن سماچاراس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے۔


You May Also Like

Notify me when new comments are added.