جیسے جیسے وقت گذرے گا زخم اور گہراہوتا جائے گا: ڈاکٹر منموہن سنگھ

نوٹ بندی سے معیشت عملی ہوئی ، زیادہ آمدنی نے پہنچایا غریبوں کو فائدہ: جیٹلی

محمد احمد

نئی دہلی، 08 نومبر :نوٹ بندی کے دو سال پورے ہونے پر الزام اور جواب کا سلسلہ جاری ہے۔ سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کہاہے کہ جیسے جیسے وقت گذرے گا زخم اور گہرا ہوتا جائے گا،وہیں وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے نوٹ بندی کے دو سال مکمل ہونے پر بلاگ لکھ کر حکومت کے اس فیصلے کے فوائد گنائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوٹ بندی نے معیشت کو زیادہ عملی بنایا، جس سے زیادہ آمدنی حاصل ہوئی، غریبوں کے لئے زیادہ وسائل جمع کئے گئے، بہتر بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے میں مدد ملی تاکہ شہریوں کو بہتر زندگی مل سکے۔
جیٹلی نے فیس بک بلاگ لکھ کر کہا کہ نوٹ بندی اصل میں اہم فیصلے کی ایک سیریز میں بہتر کارکردگی کے لئے ایک اہم قدم تھا۔ اس کی شروعات بیرون ملک میں جمع کالے دھن پر کارروائی سے ہوئی تھی، جس کے لئے حکومت کالا دھن انسداد قانون لائی۔ اس کے بعد ٹیکنالوجی کا استعمال کرٹیکسیشن کو آسان کیا گیا۔ مالیاتی شمولیت کے لئے جن دھن یوجنا لائی گئی۔ لوگوں کوسرکاری اسکیموں کا فائدہ دینے کے لئے براہ راست بینیفٹ ٹرانسفر جیسا طریقہ کار اپنایا۔
نوٹ بندی نے لوگوں کو اپنا پیسہ بینکوں میں جمع کرانے پر مجبور کیا۔ اس کے بعد ان سے زیادہ پیسے کے بارے میں جواب مانگا گیا اور انہیں اپنے مزید ڈپازٹ پر ٹیکس دینے کے لئے مجبور کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو کیش سے ڈیجیٹل لین دین میں منتقل کرنے کے لئے نظام میں بڑی تبدیلی کی ضرورت تھی۔
انہوں نے کہا کہ پیسے کے لین دین کو آسان بنانے کے لئے یوپی آئی اور بھیم جیسی سہولیات لائی گئیں۔ اس کے علاوہ رپے کارڈ کے استعمال کو پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) اور ای کامرس دونوں میں فروغ دیا گیا۔ اس سے بھارت میں خودساختہ تیار ادائیگی کے نظام کو فروغ ملا۔
جیٹلی نے کہا کہ نوٹ بندی کے سبب براہ راست ٹیکس بنیاد کو بڑھانے میں مدد ملی۔ ان کی حکومت میں آنے کے بعد سے اگلے پانچ سالوں میں ٹیکس دینے والوں کی تعداد دوگنی ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد ایک آسان جی ایس ٹی نظام لایا گیا، جس سے ٹیکس آمدنی میں اضافہ ہوا اور ٹیکس کی شرح میں بھی کمی آئی۔
وہیں کانگریس نے اپنا الگ نکتہ پیش کیا ہے ۔ کانگریس نے جمعرات کو کہا کہ نوٹ بندی اپنا مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہی اور اس نے چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کو برباد کر دیا۔سابق وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہاہے کہ جیسے جیسے وقت گذرے گا زخم اور گہرا ہوتا جائے گا۔ جبکہ کانگریس کے ترجمان آنند شرما نے کانگریس ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کر کہا کہ حکومت نے نوٹ بندی کے پیچھے چار وجہ کالا دھن ختم کرنا، بدعنوانی ہٹانا، دہشت گردی کا خاتمہ اور جعلی کرنسی کو چلن سے باہر کرنا بتایاتھا۔ ان میں سے ایک بھی مقصد حاصل نہیں ہوا۔حالانکہ اس سے غیر منظم سیکٹر کو بڑا نقصان ہوا۔ 90 فیصد روزگار غیر منظم سیکٹر سے آتا ہے، جو نوٹ بندی سے آئی پیسے کی قلت سے سب سے زیادہ نقصان میں رہا۔
انہوں نے کہا کہ چلن میں 99.3 فیصد نوٹ ریزرو بینک کے پاس واپس گئے۔ کچھ ہی دنوں میں دو ہزار کے جعلی نوٹ سامنے آ گئے۔ ان سب کے درمیان بھارت کی دنیا میں شبیہ خراب ہوئی کہ بھارت ایسا ملک ہے، جہاں لوگوں کے پاس کالا دھن ہے۔
شرما نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کی اپنی معیشت اور اپنی تاریخ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوٹ بندی سے ملک کی معیشت دو فیصد گری ہے۔ لوگوں نے جان گنوائی، کام گنوایا اور مائیکرو میڈیم انٹرپرائز ختم ہو گئے۔

You May Also Like

Notify me when new comments are added.