Hindi Urdu

مذہب

فکر وخیالات

مدیر کی قلم سے

Poll

Should the visiting hours be shifted from the existing 10:00 am - 11:00 am to 3:00 pm - 4:00 pm on all working days?

SUBSCRIBE LATEST NEWS VIA EMAIL

Enter your email address to subscribe and receive notifications of latest News by email.

ہندو مسلم اتحاد کا ایک بہترین نمونہ

گیسٹ کالم

محمد رحمت،ہندوستانی مسجد، بائی کلا، ممبئی

 

دیش میں ہندو مسلم طبقات کے دو گروپوں میں بنٹنے کے تصور کو مسلم نوجوانوں نے اس وقت جھوٹا ثابت کردیا جب انہوں نے اپنی جان جوکھم میں ڈال کر ڈوبتے ہوئے ہندو بھائیوں کو بچالیا۔ واقعہ کے مطابق مسلم نوجوان جب ظہر کی نماز ادا کرکے گھروں کو لوٹ رہے تھے تو راستے میں مہاراشٹر کے پولدھانہ سے گزرنے والی پان گنگا ندی میں کچھ لوگوں کو ڈوبتے ہوئے دیکھا۔وہ اپنی جانوں کی پروا کئے بغیر ندی میں کود پڑے اور ڈوبتے لوگوں کو بچالیا۔دراصل مہاراشٹر میں موسلادھار بارش کے سبب پان گنگا ندی میں طغیانی آئی ہوئی تھی۔ چارلوگ ایک ٹریکٹر پر سوار ہوکر ندی پار کررہے تھے کہ تبھی ٹریکٹر سیلاب زد میں آکر ندی میں جاگرا۔ اس پر سوار چاروں لوگ ہندو طبقہ سے تھے۔ وہ پانی میں بری طرح پھنسے ہوئے تھے کہ اسی راستے سے ان مسلم نوجوانوں کا گزر ہوا جو قبرستان والی مسجد سے ظہر کی نماز پڑھ کر آرہے تھے۔

وسیم، اقبال، عتیق اور مجید نامی وہ چاروں لڑکے ندی میں پھنسے لوگوں کی ذات اور مذہب جانے بغیر، فی الفور ندی میں کود پڑے اور انہیں بچانے کی تگ ودو کرنے لگے۔ بڑی مشقتوں کے بعد انہیں بالآخر کامیابی ملی اور وہ نوجوان پھنسے ہوئے لوگوں کو بحفاظت باہرنکال لائے۔ ملک میں ایسے واقعات بہت ہوتے ہیں جب ہندو کو مسلم اور مسلم کو ہندو کسی سانحہ سے بچاتا ہے یہ سوچے بغیر کہ جنہیں وہ بچارہا ہے اس کاتعلق کس مذہب وبرادری سے ہے۔ اس مثال نے سوشل میڈیا پر پورے مہاراشٹر اور پھر پورے ملک میں ہندو مسلم اتحاد کی ایک بڑی مثال قائم کردی۔ ہمارے دیش کی یہی تہذیب ہے اور اسی پر ہماری بنیاد ٹکی ہوئی ہے،ہماری ہندو مسلم یکجہتی بے مثال ہے اور دونوں طبقات کسی ایک دوسرے کو مشکل میں دیکھ کر بھائی کا کردار اداکرتے ہیں۔ یہ ایک ایسا پیغام ہے جس پر سارے بھارتیوں کو سوچنا چاہئے۔

وضاحت نامہ :یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ مضمون کو من و عن شائع کیا گیا ہے ۔ اس میں کسی طرح کا کوئی ردوبدل نہیں کیا گیاہے۔ اس سےوطن سماچار کا کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی جانکاری کیلئے وطن سماچار کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی وطن سماچاراس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے ۔ 


You May Also Like

Notify me when new comments are added.