باری مسجد انہدام کیس کے فیصلے پر امیر جماعت اسلامی ہند کا اظہار افسوس

جماعت اسلامی ہند نے بابری مسجد انہدام کیس کے فیصلے پر مایوسی کا ظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ انصاف میں تاخیر کا نتیجہ ہے۔

وطن سماچار ڈیسک

باری مسجد انہدام کیس کے فیصلے پر امیر جماعت اسلامی ہند کا اظہار افسوس

جماعت اسلامی ہند نے بابری مسجد انہدام کیس کے فیصلے پر مایوسی کا ظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ انصاف میں تاخیر کا نتیجہ ہے۔

 

                نئی دہلی:جماعت اسلامی ہند نے بابری مسجد انہدام کیس میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت میں داخل کی گئی چارج شیٹ میں نامزد افراد کے حق میں دیئے گئے فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا۔ اس فیصلے میں زندہ بچ جانے والے تمام 32 ملزمان کو بری کردیا گیا ہے۔ اس فیصلے پر اظہار خیال کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے میڈیا کو جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ  ”28 سال گزر جانے کے بعد بھی لوگوں نے جس انصاف کی تلاش کی تھی، وہ انصاف نہیں ملا۔ مذکورہ عدالت نے ثبوتوں کی کمی کا حوالہ دیتے ہوئے تمام ملزمان کو بری کردیا، جبکہ ابھی صرف دس ماہ قبل ہندوستان کی سپریم کورٹ نے اس انہدام کو ایک مجرمانہ عمل قرار دیا تھا اور اسے قانون کی خلاف ورزی بتایا تھا۔ آخر عدالت اس نتیجے تک کیسے پہنچی کہ بابری مسجد کو منہدم کرنے کی کوئی سازش نہیں رچی گئی تھی،یہ سب کچھ اچانک عمل میں آیا، اسے پہلے سے منصوبہ بند نہیں سمجھا جاسکتا۔ رام جنم بھومی تحریک اور رتھ یاتھرا کا آغاز ایل کے اڈوانی کے ذریعہ کیا گیا تھا۔ انہیں اس کیس کاملزم بنایا گیا تھا جوکیس عین مسجد کی جگہ پر ایک مندر تعمیر کرنے کے مشن کے سوا کچھ نہیں تھا۔  اس مشن کے ملزم نے متعدد بار اس مسجد کو ایک مندر میں تبدیل کرنے کی بات دہرائی تھی اور اسے عوام کے سامنے ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اگر یہ مجرمانہ عمل کی سازش کا ثبوت نہیں ہے جسے ہزاروں کارسیوکوں نے 6 دسمبر 1992 کو انجام دیا تھا، تو کیا ہے؟

                سید سعادت اللہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ” فطری طور پر ہم اس کیس کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔ کیونکہ ملک کے انصاف پسند شہری کبھی بھی اس فیصلے سے مطمئن نہیں ہوسکتے ہیں۔ ہم ایک سول سوسائٹی میں رہتے ہیں، جہاں قانون کی حکمرانی کو اہمیت دی جاتی ہے اور ہم عدالت کی طاقت کے سوا کسی کی حمایت نہیں کرتے ہیں اور نہ ہی کسی تشدد کی، جو کسی سیاسی ایجنڈےیا مخصوص اہداف کے حصول کے لئے قانون کو نظر انداز کرتا ہے۔ بابری مسجد انہدام کیس میں تاریخ ہماری قوم کے ساتھ اچھا گمان نہیں رکھے گی جہاں انصاف میں تاخیر کی جاتی ہے اور ملزم گنہگاروں کو انعام کے طور پر آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے۔

You May Also Like

Notify me when new comments are added.