کورونا کی وبا کا مقابلہ کرنے کے لئے تمام مذہبی رہنما ایک ساتھ آئے

’دھارمک جن مورچہ‘ کے تحت تمام مذاہب کے پیشواؤں نے متحدہ طور پر ملک کے عوام کو پیغام دیا اور کورونا سے بچاؤ کے ظاہری وباطنی پہلوؤں پر روشنی ڈالی

وطن سماچار ڈیسک

 

کورونا کی وبا کا مقابلہ کرنے کے لئے تمام مذہبی رہنما ایک ساتھ آئے

 ’دھارمک جن مورچہ‘  کے تحت تمام مذاہب کے پیشواؤں نے متحدہ طور پر ملک کے عوام کو پیغام دیا اور کورونا سے بچاؤ کے ظاہری وباطنی پہلوؤں پر روشنی ڈالی 

نئی دہلی، 9 مئی: ”اس وقت کورونا کی آفت سونامی کی شکل میں انسانی جانوں کو لقمہ اجل بنا رہی ہے۔ہر عمر کے لوگ اس کا شکار ہورہے ہیں۔جہاں تک ممکن ہو اس کی روک تھام کے لئے ہمیں تمام ممکنہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہے۔مختصر طور پر کہیں تو چھ طرح کے کردار اپنا کرہم اس وبائی مرض کا سامنا کرسکتے ہیں: وہ ہیں احتیاط، علاج، خدمت، دعا، کفارہ اور اصلاح۔یعنی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے ساتھ ہی علاج پر دھیان دیا جائے اور کسی پریشان حال شخص کو جہاں پر مشکل پیش آتی ہو، وہاں پر ہم اپنی خدمات پیش کرکے ان کی پریشانیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں، اس کے ساتھ ہی اس وبا سے نجات کے لئے اپنے رب سے دعا مانگی چاہئے اور دعا میں اپنی انفرادی و سماجی غلطیوں و کوتاہیوں کا اعتراف کرتے ہوئے اس کی اصلاح کی بھرپور کوشش ہونی چاہئے اور سماج و ملک میں جو برائیاں پنپ رہی ہیں،اس پر دھیان دے کر اس کو ختم کرنے کے لئے سب لوگوں کو بالخصوص مذہبی پیشواؤں کو آگے آنا چاہئے اور انہیں اس بات کا جائزہ لینا چاہئے کہ ملک کے اندر سماجی اور قومی سطح پر عدل و انصاف اور مساوات کس حد تک قائم ہیں۔اس میں جہاں جو کمیاں ہیں انہیں فوری طور پر دور کرکے خالق کی ناراضگی سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے،تبھی ہم وبائییا کسی بھی بحرانی صورتحال سے باہر نکلنے کی بہتر امید کرسکتے ہیں“۔ یہ باتیں جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر محمد سلیم انجینئر نے  ”دھارمک جن مورچہ“ کے تحت منعقدہ ویبنار میں کہی۔ اس ویبنار کا عنوان  ”کورونا وبا کی تباہی اور مذہبی پیشواؤں کا ملک کے نام خطاب“  تھا،جس میں وبا کے اس دور میں مذہبی پیشواؤں کے مثبت کردار کواجاگر کیا گیا ہے۔ اس  پروگرام میں ملک کی مختلف ریاستوں سے متعدد مذاہب و مکاتب فکر کے پیشواؤں نے شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ویبنار کو خطاب کرنے والوں میں بھارتیہ سرو دھرم سنسد کے نیشنل کنوینر گوسوامی سشیل جی مہراج، رام کرشن مشن کے چیف سوامی شانتمانند، کالکی دھام کے اچاریہ پرمود کرشنن، برہمہ کماری سے بہن حسین، گلتا پیٹھ سے سوامی سمپت کمار اودھیساچاریہ،یہودی مذہب کے نمائندے ایزاک مالیکر، گردوارہ بنگلہ صاحب کے گیانی رنجیت سنگھ، جین دھرم کے اچاریہ ویویک مونی جی،بہائی کمیونیٹی کے نیشنل ٹرسٹی ڈاکٹر اے کے مرچنٹ،  آل انڈیا روی داسیہ دھرم سنگٹھن کے چیئرمین سوامی ویر سنگھ، انسٹی ٹیوٹ آف ہارمونی اینڈ پیس اسٹڈیز کے فاؤنڈر ڈائریکٹر فادر تھامس اور آرٹ آف لیونگ کے نمائندہ برہما تیج جی کے نام شامل ہیں۔ ان سب نے مشترکہ طور پر یہ بات کہی کہ حالیہ دور میں وبا کی تباہی کو کم کرنے کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا، سرکاری ہدایات کی تعمیل کرنا اور دل و دماغ سے ڈر اور خوف کو نکالنا ضروری ہے۔ ان سب نے کہا کہ ہم اس مصیبت کی گھری میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں اور حکومت کو جہاں جیسی ضرورت پیش آئے ہم ہر طرح کی خدمات کے لئے تیار ہیں اور حکومت کو اس کی ذمہ داریاں بھییاد دلائی جائیں گی اور عوام سے لوگوں کی خدمت کی اپیل بھی کی جائے گی۔مذہبی رہنماؤں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے جو خامیاں رہی ہیں انکو چھپانے کے بجائے ان کی اصلاح کی سنجیدہ کوشش کرنی چاہئے۔ کرونا کی تیسری لہر اور بھی زیادہ خطرناک ہوسکتی ہے۔ اس کی تیاری  ہم کو ابھی سے کرنی چاہئے تاکہ اس دوسری  کی طرح ہونے  والے جانی نقصان سے بچا جاسکتا ہو اور اس سلسلے میں اتفاق باہمی سے وزیر اعظم کو خط بھی لکھا جاسکتا ہے جس میں پارٹی، ذات  برادری اور مسلکوں کی سطح سے اوپر اٹھ کر محض انسانی بنیاد پر بہتر سے بہتر خدمات فراہم کیے جانے کی باتیں ہوں گی۔

تمام مذہبی رہنماؤں نے کورونا کے سلسلے میں حکومت کی گائڈ لائنز کی پابندی کرنے، مندر مسجد گردوارے، چرچوں اور آشرموں کے ذریعہ ضرورت مندوں کی خدمت کرنے کی جانب توجہ دلائی۔رہنماؤں  نے کہا کہ اس وقت مذہبی ادارے جو خدمات انجام دے رہے ہیں و وہ قابل تعریف ہیں۔ لوگوں نے  خدمت کے ذریعہ نفرت پر فتح حاصل کی ہے اور نفرت پھیلانے والوں کو ناکام کیا ہے۔ مذہبی رہنماؤں نے کہا کہ ان کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں میں پیدا ہورہی  ناامیدی کو دور کرے اور لوگوں میں ہمت  و حوصلہ اور امید پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ بعض مذہبی رہنماؤں نے تیزی سے بڑھ رہی اموات کی تعداد کے پیش نظر ملک میں مکمل لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا بھی مشورہ دیا اور کہا کہ اس سنگین صورت حال میں کورونا مریضوں کا علاج، دوائیں، ٹیسٹ اور ویکسین  فری فراہم کرانا چاہے۔ بڑے بڑے ہوٹلز اور آشرموں کو کوڈ ہسپتالوں میں تبدیل کرنے کا مشورہ بھی دیا۔ مذہبی رہنماؤں نے کہا کہ اس سنگین صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لئے حکومت کو چاہئے کہ وہ مذہبی رہنماؤں، تنظیموں ، سماجی خدمت کے اداروں کی جلد ایک مشاورتی میٹنگ بلا کر رائے مشورہ کرکے حکمت عملی بنائے۔

 

You May Also Like

Notify me when new comments are added.