وزیر اعظم کے بیان کے بعد اب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پر آیا جماعت اسلامی ہند کا بیان

امیر جماعت نے تعلیم و تحقیق کے میدانوں میں یونیورسٹی کی خدمات کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی نے ماہرین اور دانشوروں کی ایسی کئی نسلیں تیار کی ہیں جنہوں نے دنیا میں اپنا اعلیٰ معیار منوایا۔ یونیورسٹی کے کئی شعبوں کے اعلیٰ تعلیمی و تحقیقی معیار کی دنیا قائل ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اپنے سفر کی دوسری صدی کے ابتدائی سالوں میں یونیورسٹی اور تیزی سے ترقی کرے گی اور اپنے مقاصد کو زیادہ بہتر طور پر حاصل کرنے کی جدو جہد کرے گی۔

وطن سماچار ڈیسک

اے ایم یو مختلف علمی میدانوں میں اعلیٰ معیار منوا چکی ہے: امیر جماعت اسلامی ہند 

 

            نئی دہلی: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سو سال مکمل ہونے پر امیر جماعت اسلامی ہند جناب سید سعادت اللہ حسینی نے یونیورسٹی کے طلبہ، اساتذہ، انتظامیہ اور ابنائے قدیم کو مبارک باد دی ہے اور دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ ؎یو نیورسٹی کو ترقی کی اور اعلیٰ منزلیں عطا فرمائے اور ملک و ملت کی عظیم خدمات کا موقع عطا کرے۔

            امیر جماعت نے تعلیم و تحقیق کے میدانوں میں یونیورسٹی کی خدمات کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی نے ماہرین اور دانشوروں کی ایسی کئی نسلیں تیار کی ہیں جنہوں نے دنیا میں اپنا اعلیٰ معیار  منوایا۔ یونیورسٹی  کے کئی شعبوں کے اعلیٰ تعلیمی و تحقیقی معیار کی دنیا قائل ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اپنے سفر کی دوسری صدی کے ابتدائی سالوں میں یونیورسٹی اور تیزی سے ترقی کرے گی اور اپنے مقاصد کو زیادہ بہتر طور پر حاصل کرنے کی جدو جہد کرے گی۔

            جناب حسینی نے اپنے بیان میں کہا کہ یونیورسٹی محض دانش گاہ نہیں ہوتی،وہ تہذیبی مرکز بھی ہوتی ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ایک ایسی تہذیب کا گہوارہ ہے جسے اس وقت ملک میں طرح طرح کے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ یونیورسٹی سے بجا طور پر یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ مسلمانان ہند کی تعلیمی اور تہذیبی ترقی کا ذریعہ بھی بنے گی اور ان کی تہذیبی قدروں اور تہذیبی حقوق کی حفاظت اور دفاع کا بھی فریضہ انجام دے گی۔

            امیر جماعت نے حکومت ہند کو بھی یاد دلایا کہ وہ ملک کے تمام شہریوں کی فلاح و بہبود کی ذمہ دار ہے۔ اقلیتوں کی تعلیمی ترقی اور ان کے تہذیبی حقوق کی دستوری ضمانت کا تقاضہ یہ ہے کہ اقلیتی کردار کے حامل اداروں پر حکومت توجہ دے اور وقفہ وقفہ سے اس یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کو ختم کرنے کی جو حرکتیں ہوتی ہیں ان سے سختی سے نمٹے۔

            یونیورسٹی اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کے ذریعے ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ اس کے لئے جہاں حکومت بیرون ملک کی یونیورسٹیوں کے کیمپس ملک میں قائم کرنے کی اجازت دینا چاہتی ہے،وہیں وہ اس مشورے پر بھی غور کرے کہ اے ایم یو کے کیمپس ملک کے مختلف ایسے اضلاع میں قائم کئے جائیں جہاں مسلمان معتدبہ تعداد میں آباد ہیں۔

You May Also Like

Notify me when new comments are added.