آج ملک کے کنوؤں میں زہر ڈال دیاگیا ہے

دہلی پردیش قومی تنظیم کی جانب سے منعقدہ قومی یکجہتی کانفرنس سے سابق نائب صدرجمہوریہ حامد انصاری کا خطاب، ٹاڈا سے لے کر ہر نازک وقت میں قومی تنظیم نے مظلوں کو سہارا دیا ہے: طارق انور

Administrators

نئی دہلی ،24اکتوبر(وطن نیوز نیٹ ورک ) دہلی پردیش قومی تنظیم کی طرف سے راجدھانی کے ماؤلنکر ہال میں منعقدہ قومی یکجہتی کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے ملک کے سابق نائب صدر جمہوریہ سید حامد انصاری نے کہاکہ آج ملک کی جوصورتحال ہے وہ کسی سے مخفی نہیں ہے ،آج کی صورتحال کو جب گاندھی جی کی روح دیکھتی ہے تو وہ کیا کہتی ہوگی۔ آج یہاں کے کنوؤں میں زہر ڈال دیاگیاہے ۔ایسی نازک صورتحال میں گاندھی جی کو یاد کرنا انتہائی ضروری ہے اور سبھی بھارتیوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ گاندھی جی کے بتائے ہوئے اصولوں پر چلیں ۔ حامدانصاری نے کہاکہ کانفرنسوں کا انعقاد بہترین عمل ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ تمام شرکاء کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ یہاں سے جانے کے بعد گاندھی جی کے اصولوں پر عمل کرنے کا عہد کریں اور ان کے دکھائے ہوئے عدم تشدد کے راستہ کے پیروی کریں ۔ انہوں نے کہاکہ قومی یکجہتی کانفرنس کے بعد یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ آنے والی نسل کو یہ بتائیں گاندھی جی کے عدم تشدد کا راستہ کس طرح سے سبھی بھارتیوں کو جوڑ کر رکھے گا ۔ کانفرنس کی صدارت کررہے آل انڈیا قومی تنظیم کے قومی صدر ، رکن پارلیمنٹ اور سابق وزیر طارق انور نے کہ جس طرح سے بھارتیہ جنتا پارٹی پورے ملک میں فرقہ پرستی کا زہر گھولنا چاہتی ہے وہ انتہائی شرمناک ہے اور اس سے لڑائی کیلئے گاندھی جی کا بتایا ہوا راستہ ہی بہترہے۔

DSC_0185.jpg

طارق انور نے کہاکہ آل انڈیا قومی تنظیم نے ٹاڈا سے لیکر نفرت چھوڑ بھارت جوڑ جیسی عظیم مہم چلائی ہے اور جب یوم جمہوریہ کے بائیکاٹ کی کال سید شہاب الدین صاحب نے کال دی اس وقت اس کی شدت سے مخالفت کرے کے ایک پیغام عام کیا کہ وہ ہر طرح کی فرقہ پرستی کے خلاف ہے اور آنے والے دنوں میں ہم گاندھی جی کے خیالات کو لیکر پورے ملک میں جائیں گے تاکہ نسل نو کو اس سے واقف کراسکیں۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر غلام نبی آزاد نے کہاکہ گاندھی جی کے خیالات کو جن جن تک پہونچا ہی بہتر عمل ہے اور میں طارق انور اور آل انڈیا قومی تنظیم کو اس کیلئے مبارکباد دیتا ہوں کہ انہوں نے گاندھی جی کی 150سالگرہ کے موقع پر پورے ملک میں 150پروگرام کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہامیں سیاسی بات نہیں کرنا چاہتا ہوں لیکن پھر بھی ملک کے اندر جس طرح سے نفرت کا زہر گھولا جارہا ہے وہ انتہائی تشویشناک ہے او ر اس سے گاندھی جی کے عدم تشدد کے اصولوں سے ہی لڑانا سکتا ہے۔ 
کمزورں کی ایک مضبوط آواز سیتا رام یچوری نے اپنے بیان میں کہاکہ 2019میں ہمیں ایک ہی نعرہ دینا ہے ’ گیا دور سرمایہ داری گیا -تماشہ دکھا کر مداری گیا‘ ۔ انہوں نے کہاکہ آج گاندھی جی ہی خطرے میں پڑ گئے ہیں اس لئے قومی یکجہتی کانفرنس کا انعقاد اور پھر اس کو پورے ملک میں نشر کرنے کا منصوبہ انتہائی خوش آئند ہے۔ لوک تانترک جنتا دل کے قومی صدر شرد یاد ونے کہاکہ ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ ہم فرقہ پرستی سے مقابلہ کیلئے گاندھی جی کے اصولوں کو اپنائیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ ہر تاریکی کا خاتمہ ہوتا ہے اور 2014کے بعد ملک کی جمہوریت پر جو خطرات کے بادل منڈلانے لگے تھے اس کا خاتمہ بھی 2019 میں ہوگا۔ شرد یادو نے آگے کہاکہ موجودہ حالات کا مقابلہ اپوزیشن کے اتحاد سے ہوگا اور اگر اب اپوزیشن متحد نہیں ہوگا تو لوگ انہیں متحد کردیں گے کیونکہ لوگوں کو2019کا بڑی بے صبری سے انتظارہے۔ آر جے ڈی سے لوک سبھا کے رکن جے پر کاش یادو نے کہاکہ آج کچھ لوگ جمہوریت او ر فرقہ پرستی دونوں کو ساتھ لے کرچلنا چاہتے ہیں لیکن اب ایسے لوگ بے نقاب ہوچکے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ نتیش کمار نے وعدہ کیاتھا کہ مر جائیں گے لیکن بی جے پی کی گود میں نہیں جائیں گے اس لئے لوگوں نے اعتما د کیا اور بہار کے عظیم اتحاد کو ووٹ دے کر کامیاب بنایا لیکن اب وہی نتیش کمار آج فرقہ پرستوں کا آلہ کار بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مجھے یقین ہے کہ لوگ 2019کا بڑی بے صبری سے انتظار کررہے ہیں اور فرقہ پرستوں کو ضرور جواب دیں گے۔ 
اچاریہ پرمود کرشنن نے کہاکہ آج مشکل کام یہ ہے کہ اب ہم اپنے من کی بات بھی نہیں کرسکتے کیونکہ اس پر وزیراعظم کا قبضہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم وزیراعظم کے عہدے کی عزت کرتے ہیں لیکن ہمیں وزیر اعظم کے جھوٹ سے اسی طرح نفرت ہے جس طرح بی جے پی کی فرقہ پرستی سے ۔استقبالیہ خطبہ دہلی پردیش قومی تنظیم کے قومی صدر حاجی عبدالسمیع سلمانی نے پیش کیا۔ انہوں نے سبھی مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے کہاکہ آج کے پروگرام کا مقصد عام آدمی تک گاندھی جی کی سوچ کو پہونچانا ہے۔ تاہم لوگوں کا شکریہ نئی دنیا کے ایڈیٹر شاہد صدیقی نے ادا کیا۔ پروگرام میں مناف حکیم، غلام حسین ، فضل مسعود، ڈاکٹر تاج الدین انصاری ،ایازالدین ہاشمی ، حاجی عارفین منصوری،شریف احمد ادریسی، چودھری شریف رکن دہلی وقف بورڈ، شمائل نبی، شہزاد نبی، وسیم احمد غازی، مولانا محب اللہ ندوی ، مفتی عارف قاسمی ،مولانا انصاررضا، فرحانہ انجم، سمیت متعدد سیاسی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی۔

You May Also Like

Notify me when new comments are added.