مذہب

فکر وخیالات

مدیر کی قلم سے

Poll

Should the visiting hours be shifted from the existing 10:00 am - 11:00 am to 3:00 pm - 4:00 pm on all working days?

SUBSCRIBE LATEST NEWS VIA EMAIL

Enter your email address to subscribe and receive notifications of latest News by email.

ماب لنچنگ کے شکار اس امام کیساتھ نظر آئے کچھ ایسے لوگ

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ کے ایک وفد نے ماجرا بلاس پور رام پور کی عائشہ مسجد کے امام حافظ نذیر صاحب سے یتھار تھ ہسپتال پہنچ کر عیادت کی، جن کو5 /جون کو مبینہ طور پر گاؤں کے گوجروں کی ایک بھیڑ نے عشاء کی نماز کے دوران مسجد میں گھیر کر مارا تھا۔ مولانا کی سر میں کافی چوٹیں آئی ہیں، اس درمیان مسجد میں موجود ایک نمازی کو بھی مار لگی تھی،شرپسندوں نے مسجد کو بھی نشانہ بنایا۔ ملاقات کے بعد جمعیۃ علماء ہند کے وفد نے دادری میں جناب مولانا سی ایم مصطفی صاحب و دیگر ذمہ داروں کے ساتھ میٹنگ کی۔

وطن سماچار ڈیسک

 ماب لنچنگ کے شکار ماجرا بلاسپور کے امام سے ملا جمعیۃ علماء ہند کا وفد

 
نئی دہلی  11/ جون: جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ کے ایک وفد نے ماجرا بلاس پور رام پور کی عائشہ مسجد کے امام حافظ نذیر صاحب سے یتھار تھ ہسپتال پہنچ کر عیادت کی، جن کو5 /جون کو مبینہ طور پر گاؤں کے گوجروں کی ایک بھیڑ نے عشاء کی نماز کے دوران مسجد میں گھیر کر مارا تھا۔ مولانا کی سر میں کافی چوٹیں آئی ہیں، اس درمیان مسجد میں موجود ایک نمازی کو بھی مار لگی تھی،شرپسندوں نے مسجد کو بھی نشانہ بنایا۔ ملاقات کے بعد جمعیۃ علماء ہند کے وفد نے دادری میں جناب مولانا سی ایم مصطفی صاحب و دیگر ذمہ داروں کے ساتھ میٹنگ کی۔

 

 
مولانا سی ایم مصطفی نے بتایا کہ جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے مقامی پولس افسران اورایس ایس پی سے لگاتار بات چیت ہو رہی ہے۔  افسران کی طرف سے تعاون مل رہاہے اور مولانا علاج بھی مناسب ہسپتال میں کیا جارہا ہے۔ رہ گئی بات مسجد کود وبارہ آباد کرنے کی تو ہم اس کے لیے تیار ہیں، اس گاؤں میں اس طرح کی دوبارہ پریشانی نہ ہو،ہم اس سلسلے میں مناسب نظام تیار کروائیں گے۔مولانا مصطفی نے یہ بھی بتایا کہ چند لوگوں کی گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں، اس سلسلے میں کسی مجرم کو بخشا نہیں جانا چاہیے، اس کے لیے مقامی جمعیۃ علماء کے افراد کمربستہ ہیں۔

 

 
دوسری طرف مولانا موصوف کی عیادت کرنے والے ان کے چچا زاد بھائی محمد ایوب نے یتھارتھ ہسپتال میں جمعیۃ کے وفد کو بتایا کہ علاج تو ہورہا ہے، لیکن مولانا کی معاشی حالت بہت خراب ہے، ہم ہسپتا ل میں پانچ دن سے ہیں،یہاں لاک ڈاؤن کی وجہ سے کھانے پینے کا بھی نظم نہیں ہے، بڑی دشواری ہو رہی ہے۔ہسپتال میں موجود مولانا کے برادرنسبتی قاری محمد جمشید نے بتایا کہ لڑائی صبح میں گاؤں والوں کے درمیان کھیت میں گھاس کاٹنے پر ہوئی تھی، جس سے امام صاحب کا کوئی لینا دینا نہیں تھا، مگر ان ظالموں نے امام صاحب کو بلاوجہ نشانہ بنایا۔ ۵/ جون کی رات عشاء کے وقت مسجد میں صرف دو نمازی تھے، باقی امام صاحب تھے،شرپسندوں کی ایک بھیڑ نے مسجد کے گیٹ کو توڑا اور پھر وہاں موجود امام صاحب پر لاٹھی ڈنڈا سے حملہ کردیا، پہلے مولانا کو بلاس پور کے اختر ہسپتال میں بھرتی کیا گیا، لیکن جب ان کو ہوش نہیں آیا تو یہاں یتھارتھ لا یا گیا۔ابھی حالت زیادہ بہتر نہیں ہے، لیکن پولس والے بار بار ان کے ڈسچار ج کی بات کررہے ہیں۔

 


جمعیۃ علماء ہند کے مرکزی وفد میں مولانا حکیم الدین قاسمی کے علاوہ مولانا غیور احمد قاسمی، مولانا یسین جہازی، مولانا عظیم اللہ صدیقی شامل تھے۔

You May Also Like

Notify me when new comments are added.