جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ایک اور انقلاب

جامعہ ملیہ اسلامیہ اپنے صدی تقریبات کے کے درمیان 25 سے 27 جون تک آٹھواں نیشنل موٹ کورٹ مقابلہ -2020 کی میزبانی کررہی ہے۔

وطن سماچار ڈیسک

جامعہ میں آٹھواں آن لائن نیشنل موٹ کورٹ مقابلہ -2020 جاری 

 

جامعہ ملیہ اسلامیہ اپنے صدی تقریبات کے کے درمیان 25 سے 27 جون تک آٹھواں نیشنل موٹ کورٹ مقابلہ -2020 کی میزبانی کررہی ہے۔

 

اس مقابلے میں ملک بھر سے 150 کے قریب اداروں نے رجسٹریشن کرایا ہے ۔ سخت تشخیصی عمل کے بعد بالترتیب 24 ٹیمیں 26 تا 27 جون 2020 تک جاری رہنے والے زبانی مقابلہ میں حصہ لے رہی ہیں۔

 

سینئر وکلاء ، جج اور قانون پڑھانے والے اساتذہ پر مشتمل ٹیم جائزے کے بعد کامیابی کا فیصلہ سنائے گی  ، جس میں کامیاب ہونے والے شرکاء کو انعامات سے نوازا جائے گا ۔

 

اس مقابلہ میں جسٹس ایس رویندر بھٹ ، جج ، سپریم کورٹ آف انڈیا اور جسٹس اقبال احمد انصاری ، پنجاب اسٹیٹ ہیومن رائٹس کمیشن کے چیئرپرسن اور پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس مہمان خصوصی کی حیثیت سے شامل ہوئے ۔

 

آن لائن افتتاحی تقریب  کا آغاز یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر نجمہ اختر نے کیا جبکہ فیکلٹی کے ڈین پروفیسر ساجد زیڈ امانی نے صدارت کے فرائض انجام دیے ۔

 

وہیں پروفیسر ساجد زیڈ امانی نے  استقبالیہ خطبہ پیش کیا جس میں  انھوں نے  قانونی نصاب اور تربیت میں کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

 

اپنے خطاب میں وائس چانسلر پروفیسر نجمہ اختر نے مہمانوں اور شرکا کو خوش آمدید کہا۔ انہوں نے وزارت انسانی وسائل کی ترقی (ایم ایچ آر ڈی) کے ذریعہ حال ہی میں جاری کی جانے والی این آر آئی ایف رینکنگ میں یونیورسٹی کی نمایاں کارکردگی پر اساتذہ ، محققین اور طلباء کو مبارکباد پیش کیا۔ 

 

شرکاء کے لئے سیکھنے کی نئی راہوں کے امکانات پر روشنی ڈالتے ہوئے ، پروفیسر اختر نے زور دے کر کہا کہ آن لائن موٹ کورٹ مقابلے کا انعقاد انفارمیشن ٹکنالوجی سے فائدہ اٹھانے اور اپنانے کی ایک بہترین مثال ہے جو آج کی دنیا میں ایک ضرورت بن چکی ہے۔

 

پروگرام میں مہمان اعزازی جسٹس انصاری کے اظہار حکمت بھرے کلمات شرکاء کے لئے کافی  حوصلہ افزا تھے۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ  اچھے وکیل کی اہم خصوصیات میں  دوسروں کو قائل کرنے کی  لیاقت ، زبان اور قانون  پر عبور اور اپنے مخالف یا جج کے ذریعہ اپنے دلائل پر تنقید کو بر داشت کرنے کی صلاحیت ہونی ضروری ہے ۔

 

سپریم کورٹ آف انڈیا کے معزز جج ایس روندر بھٹ نے افتتاحی تقریب میں وائس چانسلر پروفیسر اختر کو یونیورسٹی کی عمدہ کارکردگی پر مبارکباد پیش کی۔

 

جسٹس بھٹ نے عالمی وبائی مرض اور اس کے معاشرتی اور معاشی و قانونی مضمرات کی وجہ سے عصری چیلنجوں کے لئے ایک انسانی نقطہ نظر کی سمت میں شعور بیدار کرنے کی طرف فیکلٹی آف لاء کی کوششوں کو سراہا۔

 

جسٹس بھٹ نے قانون کی حکمرانی کی اہمیت کے بارے میں بات کی۔ ان کے بقول ، آزاد عدلیہ اور بنیادی حقوق کا احترام  تحفظ قانون کی حکمرانی کی دو سب سے اہم خصوصیات میں سے ہیںجس کے بغیر ایک مہذب جمہوریت کی بات کرنا عبث ہے ۔

 

پروگرام کا اختتام مقابلہ کے کنوینر ڈاکٹر محمد اسد ملک کے کلمات تشکر سے ہوا ۔ ڈاکٹر ملک نے مقابلہ کے سبھی ٹیموں سمیت آرگنائزنگ کمیٹی کو نیک خواہشات پیش کیں۔

You May Also Like

Notify me when new comments are added.